Get Adobe Flash player

بھارت کا امریکی ایما پرافغانستان میں کردار۔۔۔عبدالقادرخان

افغانستان میں کرائے کے فوجی بھیجے جانے کی اطلاعات متواتر ذرائع ابلاغ کا حصہ بنتی رہی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لئے نئی پالیسی میں اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ امریکی صدر اپنے 8400فوجیوں کو واپس بلا کر ان کی جگہ کرائے کے فوجی افغانستان میں بھیجیں گے ۔ جس کے دو مقاصد نمایاں تھے ، ایک مقصد اپنی پیشہ ور فوجی قوت کو مزید شرمساری اور بے معنی موت سے امریکی فوجیوں کو مزید نقصان سے بچانا تھا ۔ امریکی فوج کی افغانستان میں حفاظت کی ذمہ داری خود اپنی امریکی اور نیٹو کے پانچ ہزار فوجیوں پر عائدہے کہ پہلے اپنی جان کی حفاظت کرو،فضائی پروازوں میں زمین پر نہتے عوام پر داعش کبھی طالبان کے نام پر جتنی ہوسکے اندھا دھند بمباری کرسکتے ہو ، کرتے رہو،زمینی جنگ سے بچو،گوریلا جنگ میں افغان طالبان کا سامنا کرنے سے گریز کرو اور ان علاقوں میں نہ جائوجہاں افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر امارات اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ امارات اسلامیہ ، امریکی حکومت کو ناکام بناتے ہوئے پھر بھی امریکی بیس و فورسز پرفدائی و راکٹ حملے کرکے انھیں جانی ومالی نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی پریشانی میں متواتر اضافہ ہورہا ہے ۔دوسری جانب افغان فوجیوں کے ہی ہاتھوں امریکی فوجیوں کے مارے جانے کے واقعات میں اضافے کے بعدبلیو وارسے امریکی اور نیٹو فوجی سخت ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں کیونکہ انھیں خود علم نہیں ہوتا کہ کابل سیکورٹی فورسز کی بلیو وردی میں ملبوس کون سا فوجی کب اور کہاں اِن پر فائرکھول دے گا ۔ اس قسم کے واقعات کو بلیو وارکا نام دیا گیا جس میں سینکڑوں غیر ملکی فوجی مارے جاچکے ہیں ۔ امریکی صدر اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لئے مزید 3900فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کے لئے اپنی نئی پالیسی سے قبل اس کی منظوری بھی دے دی تھی ۔ لیکن اس کے ساتھ کرائے کے فوجیوں کا آپشن بھی زیر غور لایا گیا کیونکہ اس میں انھیں مخصوص معاوضہ دیکر ریمنڈ ڈیوس کی طرح جاسوس و عالمی قاتل گروہ کو بھیج کر افغانستان میں ہائی پروفائل امریکہ مخالف شخصیات کو نشانہ بنانا تو دوسری جانب پاکستان میں عدم استحکام کیلئے اہم پاکستانی شخصیات کو بھی ٹارگٹ کرنا تھا ۔ وہیں بھارت کو بھی کرائے کے فوجی بنا کر افغانستان کے میدان میں بھیجنے پر بھی غور کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کرنے سے دوہرا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔یہاں اس مکروہ سازش کا بھی خطرہ موجود ہے کہ افغانستان میں بھیجے جانے والے بھارتی فوجیوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں اور سکھوں کی ہو ۔ تا کہ دونوں جانب جو بھی مرے ، ان کا ہردوصورت فائدہ امریکہ و بھارت کو اور مسلمانوں کو نقصان ملے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر بھی ہے کہ بھارت اپنے فوجی افغانستان میں بھیج کر دیرینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتاہے کہ ہندوستان میں غیور پختون حکمرانوں کی غلامی کا بدلہ لینے کیلئے کسی بھی قیمت پر کابل کا کنٹرول یا حکومتی اقدامات پر اثر نفوذ حاصل کرلیں اور دوسری جانب مشرقی سرحدوں کی طرح پاکستانی علاقوں میں گولہ باریاں اور در اندازیاں کرکے پاکستان کو مسلسل غیر مستحکم رکھ کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے کیونکہ شمال مغربی سرحدوں کو مسلسل غیر محفوظ رکھنا عالمی قوتوں کا استعماری ایجنڈا بھی ہے  لیکن افغانستان کی تاریخ ثابت کرکے امریکہ کی یہ غلط فہمی دور کردے گی کہ جب وہ خود دنیا کے جدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکا تووہ ٹڈی دل بھارتی فوج جو مقبوضہ وادی کشمیر میں سات لاکھ سے زائد انتہا پسند فوج کے باوجود 70برسوں میں کامیاب نہیں ہوسکی کس طرح غیور قوم کی تاریخی زمین پر  پیاس مٹانے کی خواہش رکھنے والوں پر غالب کس طرح آسکتی ہے۔دراصل یہ امریکہ کی جانب سے، پاکستان پر دبائو ڈالناہے کہ امریکہ ٹارگٹ کلرز فورسز کو ماضی کی طرح پاکستان میں بلا روک ٹوک آنے جانے اور من مانی کرنے کی اجازت دے ورنہ بھارت کی مدد سے مشرقی اور پھر شمال مغربی سرحدوں پر محدود پیمانے کی جنگ چھیڑدی جائے ۔ جس کی وجہ سے سی پیک منصوبہ خطرے میں پڑ کر ناکام کرایا جاسکتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بھی ساز ش کا پردہ فاش ہوچکا ہے کہ بھارت کو سی پیک پر تحفظات ہیں اور اس منصوبے کوتشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔رواں برس جنوری میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رئیسنا ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا نام لیے بغیر اسے بھارت کی علاقائی خودمختاری کیخلاف ورزی قرار دیا تھا، تاہم چین نے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور ترقی کا منصوبہ قرار دے دیا تھا۔بھارت کی باقاعدہ مداخلت افغانستان میں اس وقت عروج پر پہنچ چکی تھی جب 2014 میں امریکی و نیٹو افواج کا انخلا کیا جارہا تھا۔ امریکہ مستقبل میں افغانستان کا ٹھیکہ بھارت کو دینے اور بالادستی کی کوششیں منصوبے کے تحت کئی برس قبل شروع کرچکا تھا ۔ بھارت اور افغانستان نے ابتدائی مشترکہ طور پر انڈوتبتین ہارڈ پولیس ITBP 500 اہلکاروں پر مشتمل تشکیل دی ۔ بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کی زراعت، مواصلات اور معدنیات کے شعبے میں مواقع فراہم کرتے ہوئے 14 بھارتی فرموں کو افغانستان میں بھیجا گیا تھا۔ افغان سیکورٹی فورسز کو بھارتی فارن سروس اور پولیس سروس میں اپنے ٹریننگ کیمپوں میں تربیت شروع کی گئی جو اب این ڈی ایس کی راجھستان میں ٹریننگ کی شکل میں منظر عام پر راکی سازش آچکی ہے۔ انڈین بارڈر روڈ آرگنائزیشن بی آر او سی پیک منصوبے کی افادیت کم کرنے کیلئے مختلف پراجیکٹ پر مصروف ہے۔ امریکی تھنک ٹینکRAND نے دعوی کیا تھا کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو افغانستان کے شہریوں کی74 فیصد آبادی پسند کرتی ہے جبکہ صرف8 فیصد آبادی پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دیتی ہے۔ افغانستان میں انڈیا کی فوجی مداخلت کا ثبوت خود بھارتی ابلاغ دیتے ہیں۔ یہ سروے اے بی سی نیوز اور بی بی سی نے کروایا تھا۔ دوسری جانب بھارتی میگزین پر گاتی(Pragati) کے ایڈیٹر سوشانت کے سنگھ(Sushant K.Singh)اور بی بی سی نیوز نے RAND کے ساتھ ملکر کئے گئے سروے میں کہا ہے کہ" An Indian Military Involvement in Afghanistan will Shift The Battleground Away from Kashmir and the Indian Mainland.Targeting the Jihadi Base will be a huge for India,s Anti-Terrorist Operations, Especially in Kashmir, Both Millitary and Psychologically"-افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا افغانستان میں مضبوط نیٹ ورک اس امر کی نشاندہی کررہا ہے۔ان حقائق کی روشنی میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو عملی شکل میں افغانستان میں کلیدی کردار دلانے کی کوشش کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اس صورت میں اگر بھارتی فوجی افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ امریکی مدد کے ساتھ شامل ہوکر ظاہر ہوجاتے ہیں تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنا بھارت کا اہم ایجنڈا ہوگا ۔ افغانستان میں پہلے ہی را ایجنسی کی ماتحت کالعدم جماعتیں TTP، جماعت الاحرار ،  سمیت کئی گروپ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے امریکہ سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، افغانستان میں موجود دہشت گرد کالعدم جماعتوں کے خلاف کاروائی کرے اور افغان جنگ پاکستان میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستانی حکام نے بھارت کے افغانستان کے بڑھتے کردار اور بلین ڈالرز کی مالی امداد کے نام پر افغانستان میں اثر رسوخ بڑھانے کی سازشوں پر ماضی میں کوتاہی برتی ، جس کے سبب بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملا اور پاکستان نے 80ہزار پاکستانیوں کی قربانی اور اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا ، پاکستانی سائیڈ لائن کرکے بھارت کو مسلط کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی  کیونکہ بھارت کا افغانستان میں جاری جنگ سے صرف فائدہ ہے ، کوئی نقصان نہیں ہے اور نہ ہی بھارت کا افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی کردار رہا ہے اس لئے پاک سر زمین کے خلاف تمام سازشوں کا انجام ناکامی سے دوچار ہونا ہی ہے۔افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو پہنچے گا یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن مستحکم اور قائم رہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک اسی سازش پرعمل ہورہا ہے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے ہیں ، افغانستان کا زیادہ تر جھکائو بھارت کی جانب ہی رہا ہے ، پاکستان ، افغانستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دیتا ہے لیکن سابق کابل کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دینے کے بجائے پڑوسی ملک کہہ کر پاکستان کے خلاف کئی بار سنگین الزامات عائد کئے ۔ اب وہی حامد کرزئی کبھی امریکی زبان بولتا تھا تو کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا رہتا تھا ۔امریکہ کی نئی پالیسی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرکے اپنے گناہوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔