یوم تکبیر پاکستان کے لئے ایک روشن دن ۔۔۔ضمیر نفیس

اٹھائیس مئی 1998 پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن ترین دن تھا جب پاکستا ن نے دن تین بج کرچالیس منٹ پریکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی مملکت ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا یہ وزیراعظم نواز شریف کا دوسرا دور حکومت تھا ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ اگر چہ آسان نہ تھا مگر وزیراعظم نواز شریف نے عالمی دبائو کو مسترد کرتے ہوئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کو حکم دیا کہ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کی اس کامیابی کو جسے وہ بہت پہلے حاصل کرچکا ہے پوری دنیا پر آشکار کردیا جائیاس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے کہ بھارت نے 11مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کردیئے تھے جس ملک نے ماضی میں فوج کشی کرکے پاکستان کے ایک حصے کو الگ کیاجس نے پاکستان پرکئی بار جارحیت کی اس کے ایٹمی دھماکوں کا مفہوم پاکستان کیلئے واضح تھا مشرقی پاکستان کی علیحد گی اور پاکستان کے نوے ہز ار فوجیوں کے بھارتی قید میں جانے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو انہوں نے جہا ں شملہ مذاکرات کے ذریعے مغربی پاکستان کے چھینے گئے رقبے کی واپسی اور قیدیوں کی رہائی کویقینی بنا یا وہا ں پاکستان کو ایٹمی مملکت بنا نے کا فیصلہ کیا شروع میں فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کے حصول کا معاہد ہ ہوا مگر مغربی دبائو کے نتیجے میں فرانس اس معاہد ے سے منحرف ہوگیا اس کے بعد بھٹو نے ہالینڈ میں ڈاکٹر عبد القیوم خان کو خط لکھا جو پہلے ہی ملک کے لئے اپنی خدمات کی پیشکش کر چکے تھے ڈاکٹر خان کی سرپرستی میںپاکستان نے تیز رفتاری کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا مگر امریکہ سمیت مغربی ممالک نے پاکستان پر مختلف پابندیاں عائد کر دیں پابندیوں کے باوجود پاکستان نے کام جاری رکھاذوالفقار علی بھٹو کا یہ جملہ قوم کے دلوں میں جاگریں ہو چکا تھا کہ گھاس کھا لیں گے اپنے دفاع کیلئے ایٹم بم ضرور بنائینگے 11مئی 1998سے لے کر 28مئی 1998تک کا عرصہ نواز شریف حکومت کیلئے غیر معمولی مشکلات کا دور تھا مغرب کو یقین تھاکہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان بھی جواب میں ایٹمی دھماکے کرے گا اس لئے امریکی اور مغربی وفود کے ذریعے پاکستان کو باور کرایا گیا کہ اس نے دھماکہ کیا تو اسے شدید پابندیوں کا سامناکرنا پڑے گا بھاری ترغیبات بھی دی گئیں کہ پاکستان ایٹمی پروگرام سے دستکش ہو جائے تو اسکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے اربوں ڈالر فراہم کئے جائیں گے لیکن وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت دبائو کے سامنے جھکی نہ ترغیبات کے لالج میں آئی وزیر اعظم نے مخالف سیاسی رہنمائوں اخبارات کے مدیروں ،عسکر ی قیادت اور ایٹمی ماہرین سے مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد ایٹمی دھماکوں کا حکم جاری کیاجس کے بعد 28مئی کی سہ پہر پاکستان سمیت اسلامی دنیا میں غیر معمولی جوش و مسرت کا اظہار کیا گیا ذوالفقار علی بھٹو نے اگر ایٹمی پروگرام شروع کر کے پاکستان کی تاریخ میں نام پیدا کیا تو نواز شریف نے ایٹمی دھماکو ں کا فیصلہ کر کے پاکستان کو ایٹمی مملکت بنا دیا شاہد اس کے بعد ہی ان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ان کی حکومت کے خاتمے پر مکمل ہو گئیں جس کے بعد پرویز مشرف کی فوجی آمریت کا طویل دور شروع ہوا ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کرنے والے وزیراعظم کی منتخب حکومت کو نہ صرف گھر بھیجا گیا بلکہ اسے جیلوں اور قلعوںمیں اذیتیں دی گئیں یہاں تک کہ انہیں ان کے خاندان سمیت ملک سے جلا وطن کر دیا گیا 28مئی کو یوم تکبیر قرار دیا گیا یہ ایک عظیم قومی دن ہے جس کا تعلق کسی جماعت سے نہیں پاکستان اور اسکی قوم سے ہے مگر حیرت ہے کہ پرویز مشرف آمریت کے ان برسوں میں قومی سطح پر اس دن کو منانے سے دانستہ گریز کیا گیا بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی یوم تکبیر کو قومی سطح پر نہیں منایا گیا جن شخصیات نے ملک اور قوم کیلئے تاریخ ساز کا رنامے انجا دیئے اور فیصلے کئے ان کے بارے میں تعصب کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے اگر ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یورینیم کی افزدوگی میں میں کم سے کم وقت میں مہارت پر خراج تحسین پیش کیا جاسکتا ہے تو وزیر اعظم نواز شریف کے ایٹمی دھماکے کرنے کے فیصلے کی بھی کسی تعصب کے بغیرتحسین کی جانی چاہئے کسی کے تعصب سے نواز شریف کے اس کردار کو اوجھل نہیں کیا جاسکتا جو تاریخ میں رقم ہو چکا ہے بلکہ عالم تاریخ بھی اس امر کی شاہد ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف نے عالمی دھمکیوں کے آ گے جھکنے اور ترغیبات میں آنے سے انکار کر دیا تھا انہوں نے اپنے ملک کے دفاع اور اس کی سالمیت کو اولیت دی تھی 11مئی 1998کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے بارے جس لب و لہجہ میں بات شروع کر دی تھی 28مئی کو پاکستان کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے بعد اسی کا لہجہ اچانک تبدیل ہو گیا پاکستان کا یہ واضح مئو قف ہے کہ وہ کم سے کم ایٹمی دفاعی قوت پر یقین رکھتا ہے ایٹمی ہتھیاروں کی بھر مار اس کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اس کے نزدیک بھارت کے ساتھ تمام حل طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل کئے جا سکتے ہیں کشیدگی کے خاتمے سے ہی دونوں طرف کے عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اس بار یوم تکبیر ان لمحات میں آیا ہے جب نواز شریف تیسری بار وزارت عظمیٰ کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اور نئی بھارتی قیادت نے نئی دہلی میںان کا پرجوش استقبال کیا ہے۔