اسلام میں اخلاقیات۔۔۔شاعر الرحمان عباسی

مغربی ممالک میں اخلاقیات کو اس تناظر میں دیکھا جاتاہے کہ جہاں بہترین سیاسی اور معاشی نظام کے تحت ہر طرف خوشحالی امن وامان ہو اور انتشار نظر نہ آرہا ہو ایک ریاست جو غربت اور فوجی آمریت کی لپیٹ میں ہو اور سوشل معاشی ترقی نہ ہو یہ اخلاقی طور پر گراوٹ کے زمرے میں آتاہے اخلاقیات کے اصول معاشرے کے مفادات کے لئے بہتر تصور کئے جاتے ہیں اچھائی یا برائی کااکثریت کی حمایت سے ہی تعین کیاجاتاہے جس سے بعض اوقات اخلاقی اصولوں پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اسلامی اخلاقیات مغرب سے مختلف ہیں کیونکہ ان کا حصول اللہ کے احکامات و قرآن کی تعلیمات اور اللہ کے نبیۖ کے عمل سے ہوتاہے اس کا تعلق صرف عقیدہ اور عمل سے جڑا ہوا ہوتاہے اور جو اللہ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔عام طور پر یہ سمجھاجاتاہے کہ انسان میں برائی موجود ہوتی ہے اس کے برعکس اسلام میں آدمی پیدائشی طور پر فطری لحاظ سے اچھے اخلاق رکھتاہے اور اسی طرح عقیدے اور اخلاقی قدروں کو اپنالیتاہے لیکن جوں جوں انسان بڑا ہوتاہے وہ دنیا کی لالچ میں پڑ جاتاہے اور اس وجہ سے وہ برے کاموں میں ملوث ہوجاتاہے اسلام میں تمام انسان برابر ہیں صرف تقویٰ اور اخلاقی کردار کی بناء پر ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے اسلام میں انسان کے کردار کے حوالے سے دو شرائط ہیں ایک اس کا ارادہ نیک ہو اور دوسرے وہ اللہ کی ہر ہدایت کے مطابق عمل کرے۔بالفرض اگر کسی شخص کا ارادہ اچھا ہو اور عمل سے غلط راستے پر چلاجائے اس میں اخلاقی رویے کاکوئی تعلق نہیں بنتا اور اگر کسی کا ارادہ اچھا نہ ہو تو اس کا عمل حادثاتی طور پر صحیح ہوجائے تو پھر بھی اخلاقی طور پر کوئی سوال ظاہر نہیں ہوگا اچھاعمل اور اچھا ارادہ ساتھ ساتھ چلتے رہنا ہی اچھے اخلاق کی عکاسی کرتاہے۔ اسلام میں اخلاقیات کا دارومدار تین اصولوں پر ہے جو مغربی اخلاقیات سے مختلف ہے پہلا یہ ہے کہ انسان کی آزادی دوسروں کو منفی طور پر متاثر نہ کرے وہ ایک خاص حد تک اپنی آزادی کا حق استعمال کر سکتاہے اور اس کے اردگرد کے ماحول میں رہنے والوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی اس کا فرض ہے۔دوسرا اسلامی تعلیمات کی تبلیغ اپنے خاندان سے باہر معاشرہ میں بھی کی جائے کیونکہ اسلام صرف انفرادیت تک محدود نہیں ہے بلکہ اجتماعی کردار اسلام کی عین روح ہے لہذا انسان کو اپنی ذاتی حیثیت سے باہر نکلنا پڑتاہے۔تیسرااسلام میں اخلاقی اصول یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی طرف سے دی ہوئی ہدایت پر عمل کرنا ہوتاہے اسلام میں اکثریت کی رائے سے کسی بھی غیر اخلاقی کام کو جائز قراردیاجائے تو وہ جائز نہیں ہوگااگر کسی ملک میں اکثریت سے شراب کو جائز قرار دے دیاجائے تو وہ اسلام میں غیر اخلاقی قانون ہوگا اس لئے یہ ضروری نہیں کہ جوبھی قانون موجود ہو وہ اخلاقی طور پر درست ہوگا۔ قرآن صاف طور پر اخلاق کے بارے میں پیغام دیتاہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں اپنا نائب بنا کر بھیجاہے لہذا اس سے اللہ کی ذات یہی توقع کرتی ہے کہ وہ سچائی دیانتداری رحم دلی اور اپنے وعدہ کی پاسداری پر عمل کرے۔ اللہ کے نبیۖ کی زندگی اچھے اخلاق کا بہترین نمونہ ہے جب حضرت عائشہ سے اپنے شوہر نامدار کی شخصیت کے بارے میں پوچھاگیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی شخصیت قرآن کا عکس ہیںاسلام میں اخلاق بنیاد ہے جس میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ اچھائی کرنا غریبوں کی مدد کرنا بیماروں کی بیمار پرسی کرنا اور اپنے احساسات اورجذبات کا رخ انسانوں کی ہمدردی کی طرف موڑنا اور ان کے دکھ بانٹنا پڑوسی کی دیکھ بھال کرنایہ تمام انسانی کردار اللہ کا پسندیدہ فعل ہیں۔ آج مسلم دنیا اخلاقی طور پر اس معیار پر پورا نہیں اترتی جو قرآن نے بتایاہے اور یہی وجہ ہے مغرب آج ہمیں طعنہ دے رہاہے کہ مسلمان اخلاقی طور پر گرا ہواہے دہشت گردی ظلم کے زمرے میں آتی ہے جوکہ آج کل مسلمانوں کی وجہ امتیاز بنی ہوئی ہے جس سے اخلاقی پستی کی انتہا نظر آرہی ہے اب تو شاید اس صورت حال پر بت بھی طعنے دے رہے ہونگے کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں جو قوم بھلادیتی ہے تاریخ کو اپنی اس قوم کا جغرافیہ بھی باقی نہیں رہتا۔