افغان جنگ ختم ہورہی ہے؟۔۔۔ظہیرالدین بابر

 امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی جانب سے دوہزارایک میں شروع کی جانے والی افغان جنگ کیا واقعتا اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو افغانستان سمیت اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے انکار نہیں  کہ افغانستان میں شدت پسندی کی وبا کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ خطے کے بیشتر ممالک کو متاثر کرچکی۔  نائن الیون کے بعد  غیرملکی فوجوں کی جانب سے مختلف کاروائیوں میں بیس ہزار سے زائد نہتے افغان مرد وزن اور بچے کام آئے ۔ مرنے والے افغانوں کی تعداد میں اختلاف کے باوجود اس سے  انکار نہیں کہ  زندگیوں سے محروم ہونے  والے افغان ہزاروں میں ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما کا حالیہ دورہ افغانستان بھی سپرپاور کے  جنگ میں" محدود" ہوتے کردار کی غمازی کررہا۔ امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے بارک اوباما کا کہنا تھا کہ رواں سال امریکہ تاریخ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچ جائیگی۔ بارک اوباما نے دعوِی کیا کہ افغانستان اہم موڑ پر ہے ۔ امریکی فوجیوں نے القائدہ کو تباہ کردیا ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ افغانوں کے لیے صحت عامہ اور تعلیم کے ساتھ بہتر سیکورٹی کا نظام چھوڑ کرجارہا ہے"۔ دوسری طرف جنگ سے تباہ حال افغانستان  سے باخبر حضرات کا کہنا ہے کہ چند علاقوں سے قطع نظر ہمساِِیہ ملک کے حالات آج بھی دگرگوں ہیں۔ پینے کا صاف پانی  اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کا حصول افغانوں کے لیے تاحال ممکن نہیں ۔ اس سے انکار نہیں کہ طالبان کی افغانستان میں مقبولیت میں خاصی حد تک کمی آچکی۔ چنانچہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان سمجھوتے کا امکان  نہیں ۔بااثر امریکی حلقوں کا خیال ہے کہ طالبان جنگجوئوں کے اہم مطالبات  کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ان تمام کامیابیوں کو ناکامیوں میں بدل دے گا جن کا دعوی اب تک کیا جاتا رہا۔  حالیہ صدارتی انتخابات میں افغان عوام کی پرجوش شرکت بھی امریکہ سمیت  ان تمام علاقائی و عالمی طاقتوں کو بہتری کی امید دلا چکی جو ماضی میں طالبان جنگجوئوں کی قوت سے قدرے مرعوب تھے۔ کہا جارہا ہے کہ افغان عوام کا تعمیر و ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے بڑی تعداد  میں ووٹ دینا بندوق بردار گروہوں کی ناکامی ہے۔ گلبدین حکمت یار ہوں یا دیگرعسکریت پسند شخصیات بیشتر جمہوری انداز میں حصول اقتدار کے طریقہ پر متفق ہوچکے۔ معاملہ کا یہ پہلو قابل توجہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں سوائے طالبان کے سب ہی دھڑوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ۔  سیاسی مخالفین سے کہیں بڑھ کرعام افغان شہری کو احساس ہوچکا کہ انتہاپسندی تخریب کے سوا کچھ نہیں۔ آج ماضی سے کہیں زیادہ امن کی خواہش افغانوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلارہی۔ ایک رائے یہ   ہے کہ تحریک  طالبان پاکستان کی کاروائِیاں بھی عام افغانوں کو بیزار کرنے کا سبب بن چکیں۔ پاکستانی عسکریت پسندوں کے پے درپے حملے کے اثرات پڑوسی ملک کی رائے عامہ کو متاثر کرتے رہے۔ سب جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان  اعلانیہ اپنی وابستگی کا اظہار افغان طالبان سے کرتی چلی آتی ہے۔ چنانچہ  پاکستان و افغانستان میں یکساں طور پر بندوق برداروں کی حمایت میں کمی آنا خارج ازامکان نہیں ۔ مگر اس سب کے باوجود  دوہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی فوجیں نکالنے کا اعلان پڑوسی ملک میں خواتین و اقلیتوں کو تحفظات کے اظہار پر محبور کررہا۔ خدشات کا حجم اس وقت یقینا بڑھ جاتا ہے جب مستقبل کے افغانستان  مِیں امریکی کردار واضح نہ ہو۔ انکل سام کے بقول افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی صورت میں ایسی سپاہ تیار کی جاچکی  جو طالبان جنگجوئوں سے موثر طور پر نمٹنے  کی  اہلیت و قابلیت رکھتی ہے۔ امریکی سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دو ہزار تیرہ میں اے این ایس ایف کا بجٹ چھ عشاریہ پانچ ملین رکھا گیا تھا جبکہ دوہزار چودہ کے بعد بھی یہ چار سے چھ بلین تک برقرار رکھا جائیگا۔ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز پر امریکی توجہ کا عالم  اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اے این ایس ایف کے برعکس دوہزار تیرہ میں  انکل سام نے اسرائیل کو محض تین عشاریہ ایک بلین کی امداد دی ۔ امریکی میڈیا میں  اکثر وبیشتر ایسی خبریں نمایاں انداز میں چھپتی رہیں کہ افغان ذمہ داروں کی جانب سے امداری فنڈز میں شفافیت برقرار نہیں رکھی جاتی۔ کانگریس سمیت بیشتر پالیسی ساز اداروں کا موقف ہے کہ خود مختار اور پرامن افغانستان کی تشکیل کے لیے لازم ہے کہ خود افغانوں کو اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا موقع دیا جائے۔ یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ امریکہ افغانستان میں متوقع  بدامنی یا  افراتفری کے مضمرات سے پہلو تہی کا مرتکب ہو۔یاد رکھنا چاہے کہ انکل سام کی افغانستان آمد کا واحد مقصد طالبان اور القائدہ کے جنگجووں کا خاتمہ نہیں۔ ایران، چین ، وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ  ایک بار پھربالادستی کی جستجو میں مگن روس بھی امریکی توجہ کا محور ومرکز ہے۔ خیر کا پہلو یہ ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں آمد سے لے کر اب تک پاکستان سمیت خطے کے سب ہی ممالک میں انتہاپنسدی کے خلاف اتفاق رائے پیدا ہوا ۔ افغانستان میں اب تک اکیس سو سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ۔