Get Adobe Flash player

بھارت جانے کا فیصلہ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وزیراعظم میاں نواز شریف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شمولیت کے لئے پیر کو نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ بھارت کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ بھی منظرعام پر آئی ہے جس کے مطابق 64 فیصد پاکستانیوں نے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ بھارت کی مخالفت اور صرف چار فیصد نے حمایت کی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل سچویشن سنٹر آف ریسرچ کی تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق 21 فیصد افراد کا خیال ہے کہ وزیراعظم کو دورہ بھارت کے معاملہ میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے اور مودی حکومت کی پاکستان کے حوالے سے خارجہ پالیسی کا انتظار کرنا چاہئے۔ سروے رپورٹ کے مطابق ملک کے 58 فیصد سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بھی میاں نواز شریف کو بھارت نہ جانے کا مشورہ دی۔   وزیراعظم نواز شریف کے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت قبول کرنے اور دورہ بھارت کے حوالے سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، اے این پی کے رہنمائوں جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن، تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے دورہ کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات ہیں پاکستان خطے میں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے کسی بھی صورت منحرف نہیںہوگا۔جبکہ  امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وزیراعظم نوازشریف کے دورہ بھارت کو عاجلانہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مودی نے اپنی حالیہ تقاریر میں کشمیری و بھارتی مسلمانوں اور خود پاکستان کے زخموں پر جس تسلسل سے نمک پاشی کی ہے کم از کم ان کے مندمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔اب جبکہ نوازشریف جاچکے ہیں تو ان کو اپنے دورہ بھارت کے مضمرات پر قابو پانے کے لیے خود کو دہلی میں اشتہاری فوٹو سیشن تک محدود رکھنے کے بجائے کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر بھارتی قیادت کے سامنے قومی موقف کا کھلا اظہار کرناچاہیے۔ دہلی میں تحریک حریت کشمیر کی قیادت کے ساتھ ملاقات کر کے انہیں اعتماد میں لیناچاہیے۔ جماعتہ الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورہ بھارت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا  کہ نواز شریف دورہ بھارت کے فیصلے پر نظرثانی کریں، بھارت سے کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغر مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے۔نواز شریف کو امریکہ کو خوش کرنے کے بجائے پاکستانی عوام کے مفاد کی ترجمانی کرنی چاہئے اگر نواز شریف بھارت کا دورہ کریں گے تو کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو کیا جواب دیں گے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ملک کے دفاع کا ضامن ہے۔ بھارتی لیڈران نے تو شروع دن سے ہی پاکستان کے ساتھ مخاصمانہ طرزِ عمل اختیار کر لیا تھا جو قیامِ پاکستان کے 67 سال گزرنے کے باوجود آج بھی قائم ہے اور بھارتی لیڈران اپنی سیاست ہی پاکستان مخالفت پر چمکاتے ہیں بالخصوص بھارتی انتہا پسند لیڈروں کی نمائندہ جماعت بی جے پی کا ٹریک ریکارڈ تو اس معاملہ میں انتہائی خراب ہے جو پاکستان دشمنی پر مبنی اپنے منشور اور ایجنڈے کو بھارتی مسلمانوں کی قتل و غارت گری اور پاکستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ دنگا فساد، بلوؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس اور دوستی بس پر حملوں کی صورت میں عملی جامہ پہناتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ میاں نوازشریف نے اپنی تقریب حلف برداری میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو دعوت دی تھی لیکن منموہن سنگھ نہیں آئے تھے۔ اب اصولی طور پر میاں نوازشریف کو بھی بھارت نہیں جانا چاہیے تھا۔ صرف اس وجہ سے نہیں کہ منموہن نوازشریف کی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ اس لئے قائداعظم کے جاں نشین ہونے اور مسلم لیگ کے بڑے دھڑے کے قائد ہونے کے ناتے ان کو مودی کی دعوت مسترد کردینی چاہیے تھی۔ اپنی پارٹی کو میاں نوازشریف اقبال و قائد کی مسلم لیگ قرار دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس لیے  بھارت نہیں گئے کہ اس نے تقسیم وہند کے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا۔ پاکستان کے حصے کے اثاثے دینے سے گریز کیا۔ مزید براں پاکستان کو دولخت کیا اور سیاچن پر جارحانہ قبضہ کیا۔ کم از کم مسئلہ کشمیر کے حل تک وزیراعظم نوازشریف کو حلف برداری کی تقریب جیسی فضولیات میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔