ہندوستان کے نقشے کا نیا رنگ ۔۔۔سید منصور آغا

گزشتہ سے پیواستہ
   ہندئوں کا اتحاد گاندھی جی کو بھی عزیر تھا۔ چھواچھوت کے خلاف ان کی مہم اسی مشن کا حصہ ہے۔ مگر ہیڈگوار کی تحریک مثبت بنیادوں کے بجائے منفی انداز فکر پر آگے بڑھی۔ اول دن سے ہی سنگھ نے ہندئووں کو ورغلانے اور غیرت دلانے کے لئے نعرہ تودیش اور دھرم کا لگایا مگر کام سب ادھرم اورقوم کو توڑنے کے کئے۔ان کا سب سے نمایاں حربہ اقلیت کے خلاف جذبات کو بھڑکانا اور دشمنی کے بیج بونا ہے۔ آج ملک بھر میں مسلم اور عیسائی اقلیت کے خلاف بھولے بھالے ہندئووں کے ذہن میں جو نفرت، حقارت اور خوف ہے، وہ اسی تحریک کا کیا دھرا ہے۔اس میں کچھ کردار گاندھی اور نہرو کے نام پرسیاست کرنے والوں کا بھی ہے۔ انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے اقلیت دشمن سرگرمیوں کی ان دیکھی ہی نہیں کی بلکہ سرپرستی بھی کی۔ سیکولرازم کا نعرہ تو لگایا مگر اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ چنانچہ اسی دیو نے، جس کو وہ اپنے پیٹھ پیچھے چھپائے رہے اور دودھ پلاتے رہے، سامنے سے آکر ان کو دبوچ لیا ہے۔ مسلم قیادت کی ناکامی:ہم مسلمانوں کو بھاجپا کے کسی لیڈر سے کوئی شخصی عناد نہیں ہے۔ اختلاف ان کے سنگھی نظریہ سے ہے۔ ایمرجنسی کے دوران جیلوں میں افہام و تفہیم کا ایک دور شروع ہوا۔ جمہوریت اورقومی یک جہتی کی بقانقطہ اتحاد بنا۔ یہاں تک کہ جب ایمرجنسی کے بعد اس وقت کی جن سنگھ کو ملاکر جنتا پارٹی بنی تو مسلمانوں نے بلاجھجھک ان امیدواروں کو بھی اپنا امیدوارجانا جو خالص سنگھی تھے۔ جیلوں سے رہائی کے بعد بھی جماعت اسلامی ہند نے آرایس ایس کے لیڈروں سے طویل مدت تک مکالمہ جاری رکھا۔ انفرادی تعلقات پر توان ملاقاتوں کا خوشگوار اثر نظرآیا مگر نتیجہ کچھ برآمد نہیں ہوا۔چنانچہ ایک مختصر مدت کے بعد ہر انتخاب کے موقع پر مسلم قیادت کی عمومی پالیسی یہ قرار پائی کہ مسلمان اپنا ووٹ بھاجپا امیدوار کو ہرانے کے لئے دیں، اس سے کوئی غرض نہیں کہ کس پارٹی کو جتانا ہے۔ بس جو جیتتا ہوا دکھائی دے، اس کے ساتھ ہولو۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ یہ حکمت عملی سخت ناکامی سے دوچار ہوئی اور اس سے الٹا بھاجپا کو تقویت حاصل ہوئی ۔ ان اپیلوں کے نتیجہ میں مسلم ووٹ توکہیں بھی ایک ناکے میں سے نہیں نکلا ، البتہ ردعمل کے طورپرہندوووٹ ضرور متحد ہو گیا۔ ہماری قیادت یہ قیاس کرنے میں ناکام رہی کہ 20 فیصد مسلم رائے دہندگان تو متحد ہونہیں سکتے، اگر ان اپیلوں کے ردعمل میں 20فیصد غیرمسلم متحد ہو گئے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ اسی لوک سبھا الیکشن میں اس کا مشاہدہ خوب ہوا ہے۔ مسلم ووٹ منتشر ہوگیا جبکہ 31فیصد ہندو ووٹ متحدہو گیا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ این ڈی اے کو 336سیٹیں ملیں جن میں بھاجپا کی 282ہیں اور اس کو تنہااکثریت حاصل ہوگئی۔ یہ صرف 31فیصد ووٹ کا کرشمہ ہے۔ان نتائج کا دوسرا پہلو یہ ہے ، جو سخت تشویشناک ہے کہ اگرچہ یہ نتائج بالغ رائے دہی کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں مگر جمہوریت کی روح مجروح ہوگئی ہے۔ ایک فرقہ کی بالادستی (Majoritism) اور اس پر ایک ایسے نظریاتی گروہ کا تسلط جو تکثیری معاشرے میں جمہوریت کی اصل روح یعنی سب کی نمائندگی اور قانون کی بالادستی کے اصول کا قائل نہیں، جو عوام میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کی تاریخ رکھتا ہے، کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ بھاجپا کے منشور میں یکساں سول کوڈ ، آئین کی دفعہ 370کو ختم کرنا اور رام مندر کی تعمیر شامل ہیں۔ مودی اور ان کی نظریاتی ماں آرایس ایس کھل کر سیکولرازم کو مسترد کرچکے ہیں۔مگریہ حقیقت یاد دلاتے رہنے کی ہے کہ نئی سرکار کے حق میں صرف 31فیصد ووٹ پڑا ہے۔69 فیصد رائے دہندگان نے اس کی تائید نہیں کی ہے۔ نئی سرکار کو اخلاقا یہ اختیار نہیں ہے کہ آئین یا قومی پالیسی کی بنیادوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے۔ سنگھی ذہنیت کیونکہ اخلاقیات کی قائل نہیں، اس لئے عوام کو ذہنی طور سے ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔حکمت عملی کیا ہو؟:دیکھنا یہ چاہئے کہ نئی حکومت بے روزگاری، کرپشن اور مہنگائی کے خاتمہ کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کیا کرتی ہے؟ ہمارا قیاس یہ ہے مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو سپنے دکھائے ہیں، ان کی تعبیر بہت مشکل ہے۔عوام بہت جلد بددل ہوجایا کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسلم قیادت، صحافت اور اپوزیشن کوکیا لائن اختیار کرنی چاہئے؟ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلم قائدین اور صحافی دوستوں نے ابھی سے مشورے دینے شروع کردئے ہیں کہ اقلیت کو مطمئن کرنے کے لئے نئی سرکار کو کیا کرناچاہئے؟ ہمارے خیال سے یہ وقت خاموشی سے مشاہدہ کرنے کا ہے۔ سال چھ ماہ گزرجانے دیجئے اور پھر سوال پوچھئے کہ بے روزگاری ،کرپشن اور مہنگائی ختم کرنے کا وعدوں کا کیا ہوا؟ان سوالات پر مہم چلانے کے لئے کمر کس لیجئے، اس کے لئے پہل کیجئے ، امید ہے کہ 2014کے چنائو نے جو فرقہ وارانہ خلیج پیداکردی ہے ،اقلیت اپنے آپ کو علیحدہ محسوس کرنے لگی ہے، اس میں اس مہم کی بدولت کمی واقع ہوگی۔ جہاں تک ہمارے مخصوص مسائل ہیں، جن کو وعدوں وعیدوں کے باوجود ان پارٹیوں نے پورا نہیں کیا جن کو جتانے کے لئے جی جان لڑادی ، تو اس حکومت کے سامنے دست سوال کیوں درازکرتے ہیں جو پہلے ہی کہہ چکی ہے، ہمیں کسی مخصوص فرقے کے لئے کچھ نہیں کرنا اور جس کے خلاف آپ ہمیشہ ووٹ دیتے رہے ہیں۔نوازشریف کودعوت:مندرجہ بالاسطور لکھی جاچکی تھیں کہ خبرآئی کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ پاکستان کی دعوت کے جواب میں نریندر مودی نے ان کو 26مئی کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ نوازشریف نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے ۔ یہ ایک اچھی پہل ہے جس کا بہرحال کھلے دل سے خیرمقدم کیاجانا چاہئے۔آخری بات:ہم نے شروع میں گاندھی جی اور ہیڈگوار کا ذکر کیا تھا۔ عالم برزخ ان تک اگر خبررسانی کی کوئی صورت ہوگی، تو ان نتائج سے دونوں خوش ہونگے۔ آزادی کے بعد گاندھی جی چاہتے تھے کہ کانگریس کو توڑ دیا جائے کیونکہ اس کا کام ختم ہوا۔ اس میں شامل لیڈر اپنے اپنے نظریات کی بنیاد پر پارٹیاں بنالیں۔مگر اس وقت کانگریس قیادت کوملک پر حکمرانی عزیز تھی۔ان کا مشورہ نہیں مانا۔ اب ایک دوسرے گاندھی کے ہاتھوں کانگریس کو ختم کرنے کاکام ہوگیا ہے۔کانگریس کے قائدین کو ناگہانی گرفتار ہزاروں بے بسوں کے انسانی حقوق کی پامالی سے تکلیف نہیں ہوئی، ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لئے بلبلا اٹھے اور قوم کے ہاتھوں سزایاب ہوئے۔ہیڈگواراس لئے خوش ہونگے کہ ان کا سپنا ساکار ہوا۔