نوابزادہ نصراللہ خاں ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
جنرل (ر) مرزا ا سلم بیگ فرماتے ہیں کہ1999ء میں میاں محمد نواز شریف کا تختہ الٹنا امریکہ بہادر کے اشارۂ ابروکا شاخسانہ تھا۔آج بھی یہ ممکن ہے کہ امریکہ نے ہی اشارہ کیا ہو۔امریکہ اس وقت افغانستان سے نکل رہا ہے۔اس کے لئے افغانستان میں اب قدم جمانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگر کوئی جگہ ہے تو پاکستان ہے۔اور سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں امریکہ کی جڑیں کتنی مضبوط ہیں۔اور وہ اب اپنے سازشی عناصر کی مدد سے چاہے گا کہ اس کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ بنائی جائے۔امریکہ افغانستان میں اتنا بڑا خلا چھوڑ کر ایشیا پیسفک کی طرف تو چلا گیا ہے لیکن پھر بھی یہاں رہنا چاہتا ہے ۔اس کی نیت یہ ہے کہ افغانستان میںکچھ فوج رکھے اور وہاں سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے پاکستان کو افغانستان کے معاملات سے الگ رکھے اور طالبان کی حکومت نہ بننے دے۔اس سے پہلے اس نے بھارت اور افغانستان کا اتحاد بنا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے پہلا قدم اٹھایا ہے ۔یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ امریکہ کے اشارے پر یہ سب کچھ ہورہا ہے۔مرزا اسلم بیگ (ر) آرمی چیف باخبر انسان ہیں۔جن خدشات اور تحفظات کا انہوں نے اظہار کیا ہے ،پاکستانی سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔28مئی1998ء کو جب میاں محمد نواز شریف نے قومی افتخار اور وقار و سلامتی کے لئے امریکی خواہش کے علی الرغم ایٹمی دھماکہ کردیا تو نواز شریف مخالف سیاسی قوتوں نے بیرونی آشیر باد سے حوصلہ پکڑ کر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی تشکیل کی تھی۔GDAکا واحد مقصد میاں محمد نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنا تھا۔اس مقصد کے حصو ل کے لئے جلسے، جلوس ، ریلیوں کا جمعہ بازار لگا دیا گیا۔اس GDAکے مقدس اتحاد میں پاکستان پیپلز پارٹی ، عمران خان، ایم کیو ایم،نیک نہاد علامہ طاہر القادری شامل تھے۔پاکستان تحریک انصاف کے قائد  عمران خان کی سیاسی قدر و منزلت 12اکتوبر1999ء کے مقابلے میں اب بہت اعلیٰ و ارفعٰ ہے۔پاکستان بھر میں مئی 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میںووٹوں کے اعتبار سے PTiسیکنڈ لارجسٹ پارٹی ہے ۔موجودہ حالات میں عمران خان کی قومی ذمہ داریاں پہلے سے صد چند ہوگئی ہیں۔پاکستانی عوام توقع کرتے ہیں کہ عمران خان بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے ملک میں جمہوریت کی بقا کے لئے قومی اسمبلی میں اپنے کردار کو مؤثر و فعال بنائیں ۔مئی2013ء کے انتخابا ت کے نتائج نے عمران خان کو قومی سیاست میں معتبر بنادیا ہے۔اور وہ صوبہ خیبر پختونخوا میںحکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔شہری سندھ اور پنجاب میں میاں محمد نواز شریف کے قریب ترین حریف بن گئے ہیں۔قومی سیاست میں عمران خان امید کی کرن بن کر طلوع ہوئے ہیں۔عمران خان کے لئے کارکردگی دکھانے اور خیبر پختونخوا کو مثالی صوبہ بنانے کا نادر موقع حاصل ہوا ہے ۔سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے کہ قوم کے سامنے اپنے ایجنڈے کے مطابق خیبر پختونخوا میں اعلیٰ اور مثالی کارکردگی دکھا کر قومی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لئے راستوں کو ہموار کریں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اثرات اندرون سندھ تک محدود ہوگئے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کی ساری سیاسی قوت کا مرکز و محور بالخصوص وسطی پنجاب اور شہری آبادیاں ہیں۔سیاسی عمل میں Essence of timeبروقت فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔احتجاجی سیاست امن و امان کے لئے زہر قاتل ہوتی ہے ۔سول ایڈمنسٹریشن جب امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے مسلح افواج کی مدد حاصل کرتی ہے تو مسلح افواج کے چاک و چوبندچست دستے اپنی قوت قاہرہ سے امن بحال کرنے کے بعد سیاسی قوتوں کی عملداری کیلئے سدراہ بن جاتی ہیں۔عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو پاکستان کے جمہوری سسٹم پر شدید اعتراضات و تحفظات ہیں ۔وہ انقلاب کے داعی ہیں موجودہ جمہوری سسٹم کا حصہ بننے کیلئے قطعاََتیار نہیں ہیں۔علامہ طاہر القادری نے انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کی غیر آئینی تشکیل کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔علامہ طاہر القادری الیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن کی تحلیل اور آئین کے آرٹیکل 62و62کے نفاذ کا مطالبہ کررہے تھے۔آج انتخابات کے ایک سال بعد عمران خان اپنے سات نکات کے ساتھ سراپا احتجاج ہیں۔ان نقاط میں ایک نقطہ الیکشن کمیشن کی تحلیل کا بھی شامل ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومت پاکستان کو ایک مراسلہ بھیجا ہے کہ مئی 2013ء کے انتخابات میں ریٹرنگ افسروں پر مکمل اختیار نہیں تھا۔دھاندلی کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی کرنے کے اختیار سے محروم تھے۔مزید اختیارات دیے جائیں۔آخری لمحات میں پولنگ اسٹیشنوں کی تبدیلی ، نامناسب سیاہی کے استعمال نے سارے انتخابی عمل کو مشکوک بنادیا تھا۔عمران خان کا موقف بڑا واضح ہے کہ انتخابات قبول ہیں لیکن دھاندلی قبول نہیںہے۔جنرل (ر) پرویز مشرف کے دسترخواں کے خوشہ چیں بھی انگڑائیاں لے کر میدان احتجاج میں کود پڑے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی عوامی تحریک کی ریلیوں میں شریک ہوکر اپنا وزن محمد نواز شریف مخالف قوتوںکے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔چوہدری پرویز الٰہی بھی عافیت کی کچھار سے نکل کر خم ٹھونک کر میدان میں پنجہ آزمائی کے لئے کود پڑے ہیں۔محترم عمران خان نے جاوید ہاشمی کی قیادت میں دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطہ کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیٹی ابتدا ء میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے رابطہ کرے گی۔آغاز کار ہی میں رابطہ کے لئے جن قوتوں کا انتخاب کیا ہے ان کی ساری ہمدردیاں ، وفائیں میثاقِ جمہوریت کے حوالے سے میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہیں۔میاں محمد نواز شریف کی خوش بختی ہے کہ ان کے مخالف عمران خان ، ڈاکٹر طاہر القادری، سراج الحق ، چوہدری شجاعت حسین ہیں، نواب زادہ نصر اللہ خاں نہیں ہیں۔اپوزیشن کے اتحاد اور کامیاب احتجاجی تحریک کے لئے جتنے حالات آجکل سازگار ہیں۔شاید 1977ء میں نہیں تھے۔ضیاء الحق کے دور میں نوابزادہ نصراللہ خاں نے MRDکی تشکیل کرکے مفتی محمود، اصغر خاں، بیگم نصرت بھٹو کو متحد کردیا تھا۔یہ کمال انہوں نے 2000ء میں پرویز مشرف کے خلاف پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر متحد کرکے سرانجا م دیا تھا۔اب کوئی بھی شخصیت نوابزادہ نصراللہ کے پائے کی موجود نہیں ہے جو چوہدری برادران کے وسیع دسترخوان کو، سراج الحق اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تنظیمی اور خطیبانہ صلاحیتوں کو، عمرا ن خان کی عوامی مقبولیت کو اور مقتدر قوتوں کی پسندیدگی کو ایک قوت ِ محرکہ بنا کر نواز شریف کے لئے چیلنج بن سکے۔عمران خان اپنے محدود ایجنڈے کے ساتھ الگ معرکہ آرائی میں مصروف عمل ہیں۔علامہ طاہر القادری مجتہد مطلق بننے کے شوق میں الگ سراپا احتجاج ہیں۔