Get Adobe Flash player

دل کے چراغ۔۔۔ سمیع اللہ ملک

مالک کی شان نرالی ہے اور اس کے رنگ انوکھے ہیں۔کہیں تو حدِ نظر تک پھیلے ہوئے سرسبز میدان اور کہیں جھاڑ جھنکاڑ سے اٹے ہوئے۔کہیں سر بلند کوہسار،بے آب و گیاہ تپتے صحرا اور کہیںہری بھری شاداب کھیتیاں۔کہیں ننھے ننھے سے پودے اور کہیں بلند و بالا جھومتے اشجار،کہیں گنگناتی ندیاںاور کہیں خاموش جھیلیں، کہیں دوڑتا بھاگتا،شور مچاتا دریا اور کہیں بپھرا ہوا سمندر، کہیںخوبصورت بولیوں والے رنگا رنگ پرندے اور کہیں چیر پھاڑ کرنے والے درندے ہزار رنگ لئے ہوئے ہے یہ کائنات اور اس کا اسرار! عقل حیران ہو جاتی ہے۔خالق کی مخلوق ایک جیسی نہیں ہو سکتی جیسے مصور کی تصویر۔ہم سب مختلف خدوخال لئے ہوئے ہیں اور سب کے سوچنے کا انداز بھی ایک جیسا نہیں ہے۔کہیں معصومیت،سادگی،اپنا پن ، ایثار اور قربانی ہے،کہیں مکاری،عیاری،چھینا جھپٹی اور سینہ زوری ہے۔ایسی ہی ہے،ایسی ہی تھی اور ایسی ہی رہے گی دنیا۔مالک کے رنگ انوکھے ہیں،کبھی رحیم و کریم،کبھی جبار و قہار ،خالق و مصور،ودود،ستاراور لطیف و غفار۔اب آپ چلتے چلے جائیں،دنگ رہ جائیں گے آپ۔کچھ لوگوں کو بولنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور اپنی گفتگو سے لوگوں کو مرعوب اور مسحور کر لیتے ہیں اور بعض افراد کو لفظوں کی جادوگری پر بڑا کمال ہوتا ہے اور اپنی تحریروں سے پڑھنے والوں کو دیوانہ بنا لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد مجھے اپنے موضوعات سے ہٹنے نہیں دیتی۔جہاں دعاؤں اور بے پناہ محبتوں کا اظہار ہوتا ہے وہاں محاسبہ بھی جاری رہتا ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔اہل ِ فکرو دانش بھی اپنے قیمتی آراء سے نوازتے رہتے ہیں۔میری کوشش ہوتی ہے کہ ان قیمتی آراء کی روشنی میں اپنی اصلاح بھی جاری رکھوں۔ میں نے اپنے کئی مضامین میں اس زمانے کی مجاہدہ ڈاکٹر عا فیہ صدیقی ،آمنہ مسعود جنجوعہ اور دیگر ایسے کئی کرداروں کا ذکر اپنی تحریروں میں اس لئے کیا کہ قارئین کو بتایا جاسکے کہ ابھی یہ زمین بانجھ نہیں ہوئی اور موجودہ حکمرانوں کے ضمیروں کو بھی جھنجھوڑتا رہا کہ یہ قوم کی بیٹیاں کس حال میں ہیں اور ان کے تعذیب اور ابتلاء کا دور کب ختم ہوگا؟''ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ بیٹیاںایک ایسی پھلواری کی مانند ہوتی ہیں جنکے بغیر کوئی بھی گھرسجتا نہیں۔ بچیاں جینے کا سہارا ہوتی ہیں،آنکھوں کی ٹھنڈک، راحتِ جاں بیٹیاں ہیں پھلواری،خوبصورت الفاظ کی مالا ہیں''میرے ایک کالم میں یہ پڑھ کر ایک ماں نے جو میرا محاسبہ کیا ہے اور جس دکھ اور درد کا اظہار اس نے کیا ہے، میری شدید خواہش تھی کہ یہ ٹیلیفون بند ہوجائے اور میں مزید شرمندگی سے بچ جاؤں!''آپ کی سچائی اور محبت سے لکھی ہوئی تحریر نے میرے دل کو دکھی کر دیا ہے اور نہ معلوم کتنی ماؤں نے بین کئے ہونگے'اشک بہائے ہونگے،اپنے دلوں کو دکھی کیا ہو گا۔ کس زمانے کی بات کر رہے ہیں آپ؟ہونگی کسی زمانے میں بچیاں جینے کا سہارا….آج کے دور میں بچیاں والدین کیلئے خوف اور دکھ کی علامت بن کر رہ گئی ہیں۔بیٹیوں کے والدین کس طرح خوش نصیب ہیں؟ اندیشے،وسوسے،جلتے بجھتے امیدوں کے دیئے،معاشرے میں عورت کے حوالے سے ہر طرف تباہی،بچیوں کے مستقبل کے حوالے سے ہمہ وقت والدین سولی پر لٹکے رہتے ہیں۔ہم تو اپنی بچیوں کو محبت سے سیراب کرنا چاہتے ہیں،ہم تو انہیں محبت اور اہمیت دینا چاہتے ہیں لیکن یہ معاشرہ ایسے کرنے نہیں دیتا۔یہ بہت لاڈ چاہتی ہیں،درست ہے مگر ان کی اس چاہت کی پاسداری کون کرے گا؟ماں باپ کے گھر اٹھارہ یا بیس سال رہنا ہوتا ہے، محبت سے سیراب ہونے والوں کومحبت ہی چاہئے۔اس کے بعد مجازی خدا کی مرضی،حقیقی خدا بن کرجب چاہے اس محبت کی دیوی کا جینا حرام کردے۔صبر و رضا کی پیکر،محبت کی طالب،ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشارکو کاروکاری کی بھینٹ چڑھا کر اس کی زندگی کے دیئے کو بجھا دیا جائے۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے اور مرد جزا و سزا اور انصاف کا ٹھیکیدار ہے۔جو قانون مرد توڑے اس کی سزا بھی عورت کو مل رہی ہے۔مرد عورت کیلئے سحر ہونے ہی نہیں دیتا۔مختاراں مائی کی عزت تار تار کر دی گئی،کتنے باپوں نے احتجاج کیا؟ کیا ہمارے معاشرے کے باپ بلوچستان میں زندہ درگور کر دی جانے والی لڑکیوں کی چیخیں سن پائے جب قبل از اسلام والی تاریخ دہرائی جارہی تھی؟میں نے ان زندہ درگور ہونے والی بچیوں پرآپ کے وہ تمام کالم بھی پڑھے تھے لیکن آپ کی تمام مساعی بھی اس معاشرے میں بے گناہ بیٹیوں کی فریادمحبت کرنے والے باپوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے ناکافی رہی!ان بچیوں نے قصدِ جرم کیا تھا،جرم نہیں کیاتھا۔ایک جنرل جو اپنے آپ کو کمانڈو بھی کہتا تھا اور اپنی طاقت کا اظہار برملا اپنے دونوں ہاتھوں کے مکے دکھا کر قوم کو ڈراتا رہتا تھا،جو پاکستان کے سب سے بڑے منصب پر بھی ناجائز اپنی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ کئے بیٹھا تھا،وہ ایک بیٹی کا باپ بھی تھا۔اس نے قوم کی ایک بیٹی عافیہ صدیقی کو چند ہزار ڈالروں کے عوض مکار دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیا۔