Get Adobe Flash player

دورے کی افادیت سے انکارممکن نہیں۔۔۔ظہیر الدین بابر

وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندرمودی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کسی بڑے بریک تھرو نہ ہونے کے باوجود اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں ۔ پاکستان کی جانب سے دو طرفہ تعلقات بڑھاتے ہوئے امن واستحکام بارے اقدامات اٹھانے اور ماضی کا اسیر نہ رہنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تو بھارت نے پاکستان سے اپنی سرزمین دہشت گردی کیخلاف استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ممبئی بم دھماکوں کے مبینہ ملزموں کیخلاف کاروائی تیز کرنے کا روایتی موقف دہرایا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے اس بیان کی ہر امن پسند شخص نے تائید کی کہ الزامات اور جوابی الزامات لگانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا لہذا پاکستان تمام مسائل سنجیدگی اور تعاون کے جذبے سے حل کرنے کو تیار ہے ۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ سجاتا سنگھ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ رابطہ میں رہیں گے اور تعلقات کو بہتر بنانے کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کرینگے"۔ اس میں ہرگز دو آراء نہیں کہ پاک بھارت وزراء اعظم میں ہونیوالی ملاقات سے ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہ تھی ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نریندر مودِی اور ان کی جماعت کے سیاسی نظریات کی موجودگی میں ایسی خوش فہمی ہرگز نہیں پالی جاسکتی کہ آن ہی آن میں بھارتی قیادت تمام تصفیہ طلب مسائل کو فورا حل کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ صورت حال کی ابتری کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نئی بھارتی کابینہ میں سے تیس وزرا کی جڑیں راشٹریہ سیوک سنگھ سے جڑی ہیں جبکہ دیگر وزرا بھی اسی تنظیم کے کارکن ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور میں بھی آرایس ایس کے تین بنیادی مطالبات شامل تھے یعنی انیس سوبانونے میں شہید کردی جانے والی بابری مسجد کی جگہ متنازعہ مندر کی تعمیر، مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنا اور تیسرا شادی طلاق کے لیے مسلمانوں کے لیے الگ امتیازی قوانین ختم کرکے ایک ہی قانون کا نفاذ کرنا شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ستانوے کروڑ پچاس لاکھ ہندو مت کے پیروکار ہیں جبکہ مسلمان کی تعداد پندرہ فیصد ہے جو دنیا بھر کے ملکوں میں تیسری بڑی تعداد ہے۔نریندرمودی کا وزیراعظم کے منصب پر پہنچ جانا خود بھارت میں انسان دوست حلقوں کے علاوہ دنیا بھر میں تشویش سے دیکھا جارہا ہے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے حکومت نے پہلے ہی دن کام کا آغاز کردیا ہے ۔ ایک بیان میں بھارتی وزیر جتندر سنگھ نے آئین کا آرٹیکل تین سو ستر ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مبصرین کا دعوی ہے کہ نریندرمودی کے ابتدائی چند ماہ ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھا دینگے کہ بی جے پی کی حکومت کا اصل ایجنڈا ہے کیا۔ یہ سمجھنے کے لیے عقل ودانش کی معراج پر فائز ہونا لازم نہیں کہ پڑوسی ملک کا ہندو ریاست میں تبدیل ہونا خود بھارت کے ساتھ علاقائی و عالمی سطح پر کس قسم کے مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔ انتخابی دنگل میں ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے وعدہ و نعرے اپنی جگہ مگر عملی اقدام اٹھانے کی صورت میں بھارتی سلامتی و یکجہتی کو سنگین خطرات درپیش ہوسکتے ہیں۔ تمام تر خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بھارت کا دورہ دونوں ملکوں کے ساتھ علاقائی امن واستحکام کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگا۔ بھارت سیاست ہو یا میڈیا قابل ذکر تعداد میں ایسے عناصر فعال ہیں جن کا اول و آخر ہدف دونوں ملکوں میں دشمنی کی آگ بھڑکانا ہے ۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ پاکستان کے اچھے اقدمات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کارگل اور ممبئی بم دھماکوں جسیے واقعات کا تذکرہ ہی کیا جاتا رہا۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ بھارت میں پاکستان سے دشمنی کی بجائے دوستی کی کسی بھی کوشش کی وسیع پیمانے پر پذایرائی تاحال ممکن نہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے حالیہ دورے کے دوران بھی بھارتی میڈیا پر اسی مطالبہ کی بازگشت سنائی دی کہ پاکستان سے پوچھا جاِئے کہ اب تک ممبئی بم دھماکوں کے ملزموں کیوں نہیں کیفر کردار تک پہنچے۔ پڑوسی ملک میں تاحال ایسے آوازیں ناتواں ہیں جو امن کو واحد آپشن تسلیم کرلیں۔ بھارتیہ جتنا پارٹی جیسی سخت گیر ہندو نظریات کی حامل سیاسی جماعت کو اقتدار مل جانا بھی اس دگرگوں صورت حال کا ثبوت دے رہا جس کا مسلمان،سکھ ، عیسائی اور دیگر اقلیتیں شکار ہیں۔ ملکی سیاسی و مذہبی قوتوں کو اہل فکر ونظر کی اس تجویز کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کہ پڑوس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دوران نہ صرف باہم اتفاق واتحاد کی فضا کو برقرار رکھا جائے بلکہ ایسے عناصر کی بھی حوصلہ شکنی کرنا ہے جن کی قوت محبتوں کی بجائے نفرتوں کو فروغ دینے میں ہی پنہاں ہے۔ مسقبل قریب میں خدانخواستہ ممبِئی بم دھماکوں جیسا ایک اور واقعہ رونما ہوگیا تو کانگریس کی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے صبر و تحمل کی حکمت عملی سے کام لینا شائد مشکل ہوجائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی نریندر مودی کی تقریب حلف برادری میں شرکت سے ایک پیغام علاقائی وعالمی قوتوں کو ضرور مل چکا کہ پاکستان کی منتخب قیادت پڑوسی ملکوں سے محاذآرائی وکشیدگی کی بجائے دوستانہ تعلقات کی خواہاں ہے۔ اطمینان بخش یہ ہے کہ وطن عزیر کی بیشتر مذہبی وسیاسی قوتیں بھارت سمیت سب ہی پڑوسی ممالک سے اختلافات و تنازعات طاقت کی بجائے بات چیت سے حل کرنے کی اعلانیہ خواہشمند ہیں۔