مودی کی مسلم کش پالیسیاں۔۔۔ریاض احمد چوہدری

وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی نریندر مودی نے دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے عسکری کیمپ دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔ آرایس ایس نے 428 حلقوں میں عسکری تربیتی کیمپس کے قیام کیلئے تحریری طورپر مراسلہ ارسال کیا تھا جس پر نریندر مودی نے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے عسکری ٹریننگ کیمپس کے قیام کے احکامات جاری کردیئے۔ پاکستان مخالف آر ایس ایس بھارت میں مسلم کش فسادات میں پیش پیش رہتی ہے اور اس کے ہاتھوں ہزاروں بھارتی مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ بھارتی جریدے جاگرن پوسٹ کے مطابق مودی کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے آر ایس ایس کے تمام ٹریننگ کیمپس کو کھول دیا جائے گا جہاں ایک لاکھ ہندو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو عسکری اور کٹر ہندو بننے کی تربیت کی جائے گی۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ سوشل کمار شندے گزشتہ برس پارلیمنٹ میں انکشاف کر چکے ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس قائم کئے ہوئے ہیں۔بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی انتہا پسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد نے ہندو بستیوں میں جائیداد خریدنے والے مسلمانوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ 48گھنٹوں میں ہندو علاقوں سے نکل جائیں۔ایک مسلمان تاجر کے گھر کے سامنے مظاہرے میں وشوا ہندو پریشد کے سربراہ نے کہا کہ 'مسلمانوں کو ہندوؤں کے علاقے سے نکال باہر کرنا چاہئے'۔بھارت میں وشوا ہندو پریشد ایسی ایک دو نہیں درجنوں کی تعداد میں بنیاد پرست اور عسکریت پسند متعصب جنونی ہندو جماعتیں پائی جاتی ہیں، جن کا منشور ہی ہندوستان کو تمام اقلیتوں کے وجود سے پاک کر کے سو فیصد ''ہندواستھان'' بنانا ہے۔ 1947ء سے آج تک کسی بھی بھارتی حکومت کو راشٹریہ سیوک سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والی کسی جماعت کے خلاف کسی بھی سطح پر کارروائی کی جرات نہیں ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کی عدالت نے نریندر مودی کے مخالفین کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر انڈین پینل کورٹ کے سیکشن 153 اے اور 295 اے اور سیکشن 298 کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ریاست بہار کے سابق وزیر گیری راج سنگھ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے ۔ گیری راج سنگھ نے اپنی انتخابی تقریر میں کہا تھا کہ وہ لوگ جو نریندر مودی کو وزیراعظم بنتا نہیں دیکھنا چاہتے اور جس نے انہیں ووٹ نہ دیا وہ پاکستان پرست ہوگا۔جن لوگوں کو نریندر مودی پسند نہیں وہ پاکستان چلے جائیں ان کے لئے بھارت میں کوئی جگہ نہیں۔گیری راج کی جانب سے مودی مخالفین کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے خلاف کانگریس کی جانب سے بھی الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ گیری راج کی تقریر میں جس طرح کے نفرت انگیز الفاظ استعمال کئے گئے وہ قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے جس پر گیری راج کو جیل بھیجا جائے۔ نئی دہلی میں بی جے پی کے نامزد وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان دشمنی کے جذبات کو ہوا دیتے ہوئے کہا تھا:ہم پاکستان سے آنے والے ہندو پناہ گزینوں کو ان کے حقوق دیں گے، پاکستان سے ہندو پناہ گزین یہاں اس لئے آتے ہیں کہ وہ بھارت سے محبت کرتے ہیں، میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے بالکل بھارتی شہریوں کی طرح ہیں۔ نریندر مودی نے اپریل کے اوائل میں 52 صفحات پر مشتمل اپنا انتخابی منشور جاری کیا جس میں متنازع ہندو قوم پرستی پر مبنی پالیسیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس منشور میں کہا گیا ہے کہ واحد مسلم ریاست کشمیر کو دیئے گئے خودمختاری کے خصوصی حقوق ختم کئے جائیں گے، گائے کی ذبیحہ پر پابندی کی حمایت کی جائے گی،بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی جائے گی۔ بی جے پی کے سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ منشور میں رام مندر کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہ کلچر کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں مظفرنگر میں ہونے والے مذہبی فسادات کے بعد مسٹر مودی نے اپنے قریبی معتمد امِت شا کو اترپردیش کا انچارج بنایا اور کئی سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ مسٹر شا کو یو پی بھیجنے کا مقصد ووٹروں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنا تھا۔ بھارت کے سربرآوردہ ادیب، دانشور اور فنکار بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے امکان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین کو ایک خط میں کہا تھا 'اگر مسٹر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو ایک ایسے ملک کے طور پر ہندوستان کی شناخت خطرے میں بڑ جائے گی جہاں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت ہے اور ہر مذہب اور برادری کے لوگوں کا تحفظ کیا جاتا ہے'۔فن کار انیش کپور نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'صرف خط پر دستخط کرنے والوں کو ہی نہیں بہت سے دوسری لوگوں کو بھی یہ فکر ہے کہ مسٹر مودی انڈیا کو' ہندتوا 'کے راستے پر لے جائیں گے اور اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں'۔ مشہور ادیب ڈاکر اننت مورتھی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر مودی وزیر اعظم بن گئے تو وہ انڈیا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ بھارت جیسے ملک میں جہاں قدم قدم پر بولی تبدیل ہو جاتی ہے، ہندو مسلم کشیدگی کو ہوا دینے کاعمل، ایسا ہی ہے کہ نیچے لٹکتے ہوئے پھل کو توڑ لیاجائے۔ بھارت میں ہر قسم کے قبائل، ذات اورہر قسم کے مذہبی فرقوں کے لوگ موجود ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ مودی وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت کے تمام باشندوں کو اپنے ساتھ لے کر چل سکیں گے؟ مودی کے دوست اور گجرات کے بااعتماد رفیق، جو اس وقت اترپردیش کے انچارج ہیں، امیت سنگھ، نے مبینہ طور پر گزشتہ سال مظفرنگر میں ہندومسلم فساد کی جلتی آگ پر تیل ڈالا تھا۔ اکثریتی ہندوؤں نے اپناووٹ جمع کیا اور بی جے پی کے حوالے کر دیا جبکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں نے اس امیدوار کو ووٹ دیا جس کے مودی کے خلاف جیتنے کا اچھا امکان موجود تھا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ انتہا پسند ہندو گروہوں کو ہر بھارتی حکومت کھل کھیلنے کے آزادانہ مواقع فراہم کرتی رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیکولر ازم کے بلند بانگ دعوے کے باوجود داخلی سطح پر بھارت ایک ہندو دہشت گرد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔ بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کمال یہی ہے کہ وہ سیکولر ازم کے پردے میں ہندتوا (رام راج) کے فلسفے کو اس کی تمام جہات کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے ہاں ناقابل بیاں خوف وہراس پایاجاتاہے۔