معاف کرنا ا للہ کو پسند ہے۔۔۔ جاوید اقبال

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کثرت کے ساتھ اپنے بندوں کو دوسرے کی غلطیاں معاف کرنے کی تلقین کی ہے۔ معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ انسانی مخلوق کے اندر کسی کی جان لے لینا یعنی کسی کو قتل کردینا بہت بڑا جرم اور گناہ ہے۔اتنے بڑے جرم کی سزا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرما دی ہے لیکن اس کے آخر میں کہاکہ اگر تم قاتل کو معاف کردو تو یہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ اور تمہارے حق میں بہتر ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے وطن عزیزمیں میڈیا فوج حکومت اور عدلیہ کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں یہ تمام معاملات نادانستگی نا سمجھی اور جذبات کے زیر اثر پیدا ہوئے ۔ ان معاملات یا الزامات سے کسی کو نیچا دکھانے کا مقصد ہرگز نہ تھا۔ لیکن بعض موقع پرست لوگوں نے اس معاملے کو انتہائی عروج پر پہنچا دیا۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے ذاتی مفاد اور اپنی کینہ پروری کی خاطر اپنے ملک اور قوم کے سب سے بڑے نقصان اور بے توقیری کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے آپ اس قسم کی کئی مثالیں ماضی کے تناظر میںدیکھ سکتے ہیں۔ ہر شخص اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے واقعہ کو اچھالنا اور اس کو اپنے رنگ میں رنگ کر پیش کرنا فرض اولین سمجھتا ہے ۔ حالانکہ انہیں اس بات کااحساس ہرگز نہیں کہ ہم جس کشتی میں سوار ہیں اسی کے پیندے میں سوراخ کررہے ہیں اور جس شاخ پر آشیانہ ہے اس پر آرا چلا رہے ہیں۔ بعض میڈیا چینل نے اپنی کاروباری رقابت کے پیش نظر اس معاملہ کو اچھالنے میںغیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ۔ بعض چینل کے اینکر حضرات نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے جلتی پر تیل ڈالنے کا فریضہ ادا کیا جو کہ قوم اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے اہل نظر اور محب وطن تمام افراد اور قوتیں ان حضرات کے ارادوں سے باخبر ہیں اور ان کے منفی پروپیگنڈے سے نہ ان کا مقصد پورا ہوا نہ ان کی دلی تمنائیں اورحسرتیں بار آور ہوئیں۔ البتہ ملک کے اندر بے چینی اور بے سکونی کی فضا پیدا کردی گئی پاکستانی عوام عرصہ دراز سے بدامنی اور بے سکونی کے عذاب میں مبتلا ہیں جب ذرا خاموشی ہوتی ہے کوئی اچھی خبریں آنا شروع ہوتی ہیں تو پھرسے یہ مفاد پرست ملک کے اندر بے سکونی کا طوفان کھڑا کردیتے ہیں ۔ شاید انہیں خبر نہیں کہ یہ ملک پرامن اور مضبوط ہوگا تو تب ہی ان کی بھی عزت اور وقار ہوگا۔ میڈیا اور ٹی وی چینلز کے اینکر حضرات سے اس طرح کی غلطیوں کی توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں میڈیا کو آزادی ملے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے اور اس آزادی کی جلد بازی میں میڈیا کیلئے واضح قوانین اور ضابطے مقرر نہیں کیے جا سکے۔ جن کی اشد ضرورت ہے۔ پیمبرا کو چاہیے کہ جلد از جلد میڈیا کیلئے ایسے قانون اور ضابطے مقرر کرے جو ہمارے ملک پاکستان اور ہمارے دین اسلام اور ملک کے اعلیٰ اداروں کی عزت اور شان و شوکت کے امین ہوں اور جو قوانین ہماری معاشرتی اور سماجی روایات کے محافظ ہوں اور جو قوم کی درست سمت رہبری کر سکیں پیمبرا کو نہ صرف جلد از جلد ایسے قوانین نافذ کرنے چاہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنانا چاہیے۔موجودہ چپقلش کے اندر میڈیا نے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ حالات کو بگاڑنے کا موجب ٹھہرا میڈیا سے شکایت یا گلہ اپنی جگہ اس سے بڑا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چند شکست خوردہ سیاستدانوں نے اس موقع کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کا بہانہ تراش لیا جگہ جگہ غیر ضروری جلسے منعقد کرکے عوام کا وقت اور پیسہ ضائع کیا گیا ۔دھاندلی کا رونا رویا جا رہاہے جس جگہ یہ سیاسی جماعتیں جیت جاتی ہیں ۔ وہ الیکشن درست اور جس جگہ انہیں شکست ہوتی ہے وہاں انہیں دھاندلی نظر آتی ہے ۔ اس احتجاج سے ملک میں بدامنی اور بے سکونی میں اضافہ کے سوا کچھ حاصل نہیں اور پاکستان کے باشعور عوام اس احتجاج کو بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے ۔ تمام شکست خوردہ سیاست دان میڈیا کی اس غلطی کی آڑ میں اپنے ارمان پورے کرنے کی جدوجہد میں جت گئے ہیں۔ ان کے دل کی تمنا مڈ ٹرم الیکشن ہیں جو کہ ایک انتہائی غیر ضروری مطالبہ ہے۔اور ملک اور قوم کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے دھاندلی اور مڈٹرم الیکشن کے مطالبہ میں پی ٹی آئی سب سے آ گے ہے۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائیاں ان غیر ضروری اور نا مناسب مطالبات کو منوانے کیلئے ضا ئع نہ کرے بلکہ کے پی کے کو رول ماڈل صوبہ بنانے میں صرف کرے۔ اگر پی ٹی آئی کے پی کے کو ایک منفرد ترقی یافتہ صوبہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والا وقت یقینا پی ٹی آئی کا ہوگا۔ اوراگر پی ٹی آئی اپنی طاقت غیر ضروری کاموں میں صرف کرتی رہے گی تو اس کے ووٹ بنک میں کمی کا امکان ہے۔ تمام سیاستدانوں کو ایک جمہوری حکومت کو ختم کرنے کی یہ جدوجہد ترک کردینی چاہیے اور موجودہ حکومت کواپنی جمہوری مدت پوری کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے ۔ وطن عزیز کے عوام کی اکثریت کی یہی تمنا اور آرزو ہے کمزور موقف کیلئے جنگ کرنے سے ہمیشہ شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اور لوگوں کے دلوں میں عزت اور محبت میں بھی کمی کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔ لہذا میڈیا سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کو اپنی ذمہ داری خوش اسلوبی اور حب الوطنی کے ساتھ پوری کرنی چاہیے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر چلتا رہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج پاکستان کی محافظ ہیں پاکستان اور پاکستانی عوام کی عزت اور شان اپنی مسلح افواج کے دم سے ہے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ بے لوث محبت رکھتے ہیں۔ پوری قوم اپنی بہادر افواج کی پشت پر ہے۔ کوئی بھی پاکستانی اپنی افواج کے متعلق کسی قسم کی الزام تراشی کو برداشت نہیں کرتا یہ بات روز اول جس دن سے پاکستان معرض وجود میں آیا طے شدہ ہے لہذاافواج پاکستان کو کسی سے بھی محبت اور وفا داری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہرگز نہیں۔ افواج پاکستان سے متعلق غیر ضروری الزامات سے سختی کے ساتھ گریز ضروری ہے ۔ اسی طرح بعض سیاسی جماعتیں افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کی ریلیاں نکال کر اس عظیم ادارے کو موضوع بحث ہرگز نہ بنائیں۔ یہ ادارہ پاکستان کے عوام میں عزت اور محبت رکھتا ہے بعض قوتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ایسے کاموں میں مصروف ہیں ایسی حرکتوں سے ملک اور اس کے اہم اور قابل احترام اداروں میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش سے باز رہنا چاہیے۔