Get Adobe Flash player

پاک بھارت مکالمہ اور پاکستان کے مقاصد۔۔۔ضمیرنفیس

وزیراعظم نواز شریف کا دورہ بھارت دونوں ملکو ں کی نئی قیادت کے اس عزم پر اختتام پذیر ہوا کہ وہ خطے میں استحکام اور دونوں ملکوں میں غربت و دہشتگردی کے خلاف مل کر کام کریں گے یہ درست ہے کہ اس دورے کوکامیاب بنانے کے سلسلے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بے حد مثبت کردار ادا کیا پاکستان کی وزارت خارجہ سمیت جہاں جہاں سے بھی وزیراعظم کو یہ مشورے دیئے گئے کہ انہیں دورہ بھارت سے گریز کرنا چاہیے ان کیلئے دورے کی غیرمعمولی کامیابی یقینا شرمندگی کا باعث ہوگی وزیراعظم نواز شریف نے ایک سیاستدان اورامن کے خواہاں لیڈر کی حیثیت سے اپنے کردار کا یقین کرلیا تھا چنانچہ انہوں نے نریندر مودی کی کامیابی پر انہیں مبادکباد کا پیغام ارسال کیا ہمارے ہاں بعض انتہا پسندوں نے اس پیغام پر بھی اعتراضات کئے لیکن وزیراعظم کو یقین تھاکہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی حکمت عملی اور سمت یکسر درست ہے ان کے پیغام کانتیجہ بی جے پی کی طرف سے تقریب کے دعوت نامے کی صورت ظاہر ہوا اس مرحلے پر بھی یہی مشورے سامنے آئے کہ وزیراعظم کو اپنی جگہ وزیرخزانہ یا مشیرخارجہ کو بھیج دینا چاہیے مگر وزیراعظم کے سامنے ان کا وہ انتخابی وعدہ تھا کہ اگر وہ حکومت میں آئے تو بھارت کے ساتھ رابطوں اور تعلقات کاسلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں فروری 1999میں منقطع ہوا تھا چنانچہ انہوں نے نئی دہلی جانے کا فیصلہ کرلیا امریکہ اور مغربی دنیا سمیت وہ تمام حلقے جوہمیشہ اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو اپنے تنازعات مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہیں انہو ں نے وزیراعظم نواز شریف کے بھارت جانے کے فیصلے کاخیر مقدم کیا بھارت کے اندر بھی اس فیصلے پر زبردست گرمجوشی کامظاہرہ کیا گیا یہاں اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا تقریب حلف برداری میں شریک ہونا ان کیلئے اتنا بڑا چیلنج اورامتحان نہیں تھا جتنا بڑا چیلنج نریندر مودی کیلئے وزیراعظم پاکستان کو مدعوکرنا تھا اس لئے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پر متعدد بار شدید تنقید اورالزام تراشی کی تھی انتخابی نتائج کے فوراً بعد اسی پاکستان کے وزیراعظم کو تقریب حلف برداری میں مدعو کرنا سیاسی طور پر ان کیلئے دھچکے کا باعث بھی ہوسکتا تھا کانگر یس اور با ل ٹھاکرے دونوں نے تو نریندر مودی کے اس فیصلے پر تنقید بھی کی مگر نواز شریف کی طرح نریندرمودی بھی اپنے فیصلو ں او ر عزم کے پکے ہیں۔دونوں لیڈروں کے درمیان یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی عام طورپر سفارتی حلقے بھی اس قسم کی ملاقات کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو دور کرنے کی حد تک ہی نتیجہ خیز سمجھتے ہیں اس سے کسی بڑے بریک تھر و کی توقع نہیں رکھتے پاکستان کے سامنے بڑا نصب العین یہ تھاکہ جامع مذاکرات کو بحال ہوناچاہیے اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے مزید اقدامات ہونے چاہیں پاکستان نے کسی حد تک یہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں دونوں لیڈروں کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے کہ خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ملاقات آئندہ دوماہ کے اندر ہونی چاہیے اور گزشتہ معاہدے کے تحت تجارتی تعلقات کو وسعت دی جانی چاہیے بھارت کی طرف سے حسب روایت ممبئی حملوں کے ملزمان کوکیفر کردار تک پہنچانے اور پاکستان کی سرزمین کو دہشتگر دی کے لئے استعمال ہونے پر زور دیا گیا تاہم پاکستان کا موقف تھاکہ ہم سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں ماضی کے دائروں سے نکل کرمستقبل کو بہتر بنانے کیلئے مل کرکا م کرنا چاہیے اس ضمن میں وزیراعظم نواز شریف نے تصادم کو امن میں تبدیل کرنے کی زبردست اصطلاح استعمال کی وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان امن اور خطے میں اس کے حوالے سے بھر پورانداز میں استدلال دیئے اس کے نتیجے میں نریندر مودی کو یہ کہنا پڑا کہ وزیراعظم نواز شریف امن کی شخصیت ہیں دونوں ملکوں کو بعض معاملات میں ایک دوسرے سے تحفظات ہیں ان تحفظات کو ترک کرکے ہی مستقبل کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے دہشتگردی دونوں کا مسئلہ ہے اس سے نمٹنے کیلئے دونوں کو مشترکہ میکنزم وضع کرنا ہوگا تاریخ کا یہ د لچسپ اتفاق ہے کہ بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کے دور میں ہی 1999میں دونوں ملکوں کے درمیان اعلان لاہور کامعاہدہ طے پایا تھااس کے وزیراعظم واجپائی واہگہ کے راستے لاہور آئے تھے اور اب ایک بار پھر بی جے پی کے وزیراعظم کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کے مکالمے نے ایک اچھے آغاز کی نشاندہی کی ہے اس کے برعکس کانگریس جو سیکولر ازم اور ترقی پسندی کی دعویدار ہے اس کے اقتدار کے دس برسوں کے دوران باہمی تعلقات میں کشیدگی ہی پیداہوئی ہے بہتری کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔