میٹرو ٹرین ۔ پاکستان میں ایک اور انقلابی منصوبے کا آغاز۔۔۔ حامد جاوید اعوان

 وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کامیابیوں کا ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے اورپاکستان میں پہلی میٹرو ٹرین سروس شروع کرنے کا تاریخ ساز معاہدہ کرکے ملک کے ٹرانسپورٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوںکے ہم پلہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جو وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کے اس وژن کی تکمیل ہے جس کے مطابق وہ ملک کے انفراسٹکچر کو جدید خطوط پر استوار کرکے پاکستان کے عوام کو ان سہولیات سے مستفید کرنا چاہتے ہیں جو ترقی افتہ ملکوں کے عوام کو حاصل ہیں۔ اپنی اس جدو جہد میں وہ کس حد تک کامیاب ہو ئے ہیں اس کا اندازہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار کے پہلے ایک سال کی کاردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔پاکستان میں ایک سال کے دوران جو میگا پراجیکٹ شروع ہوئے ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق ٹرانسپورٹ سیکٹر سے ہے ۔ان منصوبوں میں میٹرو بس سروس سرفہرست ہے ۔ پاکستان میں روز افزوں آباد ی میں ہونے والے تیزی سے اضافے کے باعث تعلیم ، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں دبائو بڑھ رہا ہے اور اس امر کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی تھی کہ تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں جامع اصلاحات عمل میں لاکر ایسے پروگرام شروع کئے جائیں جن سے عوام کو جدید ، سستی اور معیار ی ٹرانسپورٹ کی سہولیات میر آئیں۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کی مشاورت اور غور و خوص کے بعد ترقی یافتہ ملکوںکے کامیاب تجربات اور پاکستان کی قومی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبوںکے اجراء پر اتفاق رائے کیا گیا جن سے نہ صرف موجودہ بلکہ ملک کی مستقبل کی بھی کئی سالوں کی ضروریات پوری ہو سکیںگی۔ لاہور میں میٹرو بس سروس کی کامیابی پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس نے سیاسی مخالفت اور بے جا تنقید کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لاہور کے میٹرو بس سروس پراجیکٹ کو پوری رفتار سے جاری و ساری رکھا اور آج نہ صرف پاکستان بلکہ دیگرملکوں سے پاکستان کا دورہ کرنے والے حکمران اور اعلی سطحی وفودبھی اس منصوبے کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے اور وہ اس بات پر بھی حیران ہوتے ہیں کہ اس قدر کم عرصے میں پاکستان میںایک میگا پراجیکٹ کو کیسے مکمل کر لیا گیا۔ پاکستان کے لئے یہ ایک اعزاز ہے کہ اس کے عوامی فلاح و بہبود کے ترقیاتی منصوبوں کو اس قدر سراہا جا رہا ہے اور ان منصوبوں کی شفافیت کے بارے میں عالمی اداروں کا اطمینا ن بھی گڈ گورننس کا عملی ثبوت ہے۔ لاہور کے بعد راولپنڈی اسلام آباد کا میٹرو بس پراجیکٹ بھی اس وقت تیز رفتاری سے جاری ہے اورایک بار پھر تنقید اور مخالفت کی پروا نہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو مقررہ مدت کے دوران پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کام جاری رکھا جا رہاہے ۔ میٹرو بس سروس کے جاری ہونے سے جہاںسڑکوں پر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں ، سائیکلوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی واقع ہوئی وہاں ان لوگوں کو پاکستان میں تیزرفتار ٹرانسپورٹ کی سستی سہولت بھی دستیاب ہوئی جس کی بدولت وہ کم سے کم وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچتے ہیں اور انہیں ٹریفک رش کابھی سامنا نہیں کرنا پڑتا اور نہ ہی انہیں ڈرائیونگ کی تھکان برداشت کرنی پڑتی ہے۔ لاہور میں ریکارڈ تعداد میں لوگ میٹرو بس کے ذریعے سفر کو ترجیح دیتے ہیں اور اب میٹرو بس کے بعد میٹرو ٹرین سروس کی تیز رفتار سہولت کے تاریخی منصوبے سے پاکستان کے عوام کو بھی پلک جھپکتے میں ایک سے دوسرے مقام تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہو گی جس کا اس سے پہلے کوئی تصور ممکن نہیں تھا۔ ترقی یافتہ ملکوںمیںاپنے ٹریفک کے مسائل کا حل اسی میں تلاش کیا ہے کہ وہاں عوامی ٹرین سروس صبح سویرے سے رات گئے تک جاری رہتی ہے اور کچھا کھچ بھری ان ٹرینوں میںعام آدمی سے لے کر اراکین پارلیمنٹ اور اعلی حکومتی عہدیدارن بھی اکثر کھڑے ہو کر سفرکرنے کو بھی ترجیح دیتے ہیں اوراپنے کام کاج سے فارغ ہوکر انہی ٹرینوں پر سفر کرکے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں۔ اس طرح یہ ٹرینیں نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ دوسروں ملکوں سے آنے والے سیاحوں اور کاروباری افراد کی بھی سہولت کا باعث بنتی ہیں جنہیںعموما راستوں اور مقامات کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا اس طرح و ہ ٹرینوں کی مدد سے کسی مشکل کے بغیر سفری سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف اوروزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اپنے بیرونی دوروںکے دوران جدید دنیا کی ترقی کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان میں کمیونیکشن اور روڈ نیٹ ورکس کو ترقی دینے کو اپنے ترجیحات میں خصوصی اہمیت دی ہے اور اس مقصد کے لئے دوست ممالک کے تعاون سے ایک سے بڑھ کر ایک منصوبے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جن میں میٹرو بس کے بعد اب میٹرو ٹرین کامنصوبہ بھی شامل ہے جس کے لئے صدرمملکت ممنون حسین کی سربراہی میں پاکستان کی اعلی سطح وفد کے حالیہ دور ہ چین کے موقع پر نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمشن چائینہ کے ساتھ منصوبے پر دستخط ہوئے۔