اچھے اور برے طالبان میں تقسیم۔۔۔ظہیرالدین بابر

 دسمبر دوہزار سات میں تیرہ شدت پنسد گروہوں کے ملاپ سے وجود میں آنے والی تحریک طالبان پاکستان میں ٹوٹ پھوٹ کاعمل جاری ہے۔ الگ ہونے والے دھڑے کے سربراہ خالد محمود سجنا کا تعلق ولی الرحمن گروپ جبکہ اس سے متصادم کمانڈر شہریار کا تعلق حکیم اللہ محسود گروپ سے ہے۔ جنگجوگروپوں کے درمیان جبونی وزیرستان کی امارت سمیت دیگر امور پر اختلافات ولی الرحمن اور حکیم اللہ محسود کی زندگیوں سے ہی چلے آتے ہیں۔ مگر دونوں سینئر کمانڈروں کے جیتے جی یہ اختلافات تصادم میں نہ بدل سکے۔ ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے خالد محمود عرف سجنا گروپ کے ترجمان اعظم طارق کے بقول تحریک طالبان پاکستان اپنے بانی رہنما بیت اللہ محسود کے مقررہ کردہ اہداف سے پچھے ہٹ گئی تھی جس کے سبب وہ الگ گروپ بنانے پر مجبور ہوئے۔ اعظم طارق کا کہنا ہے کہ تحریک کے سایہ تلے ڈاکہ زنی ، بھتہ خوری ، علما کی شہادت ، مدارس سے بھاری رقوم کی طلبی ،پیسہ لے کر عوامی مقامات پر دھماکے کرکے مختلف ناموں سے ذمہ داری قبول کرنا،امارت اسلامی افغانستان کے خلاف پروپیگنڈے جیسے اقدمات بار بار کی کوششوں کے باوجود نہ رک سکے۔"کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں اختلافات کی خبریں پہلی بار اس وقت سامنے آئِیں جب بیت اللہ محسود کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ ان دنوں یہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں کہ نئی قیادت کے انتخاب پر شوری کے اندر بھی تصادم ہوا۔ مگر نومبر دوہزار تیرہ میں امریکہ جاسوس طیاروں کی کاروائی میں ٹی ٹی پی سربراہ حیکم اللہ محسود کی ہلاکت نے طالبان کے مختلف دھڑوں میں پائی جانے والی مخاصمت کو کھل کر واضح کردیا۔ بظاہر ٹی ٹی پی قیادت ملا فضل اللہ کو دینے کے لیے افغان طالبان کا اثرروسوخ ہی فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ملا عمر کی جانب سے پاکستانی طالبان پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ افغانستان میں روپوش ملا فضل اللہ کی سربراہی کو تسلیم کرلیں۔ تحریک طالبان پاکستان میں محسود قبیلہ اس لحاظ سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ ہمیشہ کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت محسودوں کے پاس ہی رہی ۔ الگ ہونے والے دھڑے کے ترجمان اعظم طارق نے بھی اعتراف کیا کہ الگ ہونے کا فیصلہ بھی محسود قبائل ہی کے سبب کیا گیا۔ مگر اعظم طارق کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ہرکسی کو ان کے ساتھ آملنے کی آزادی ہے۔ خالد محمود عرف سجنا گروپ کی تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی کے منفی و مثبت دونوں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بظاہر حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرت کرکے ان عناصر کو الگ کرلیا جائے جو بات چیت کے ذریعہ تنازعات حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ مگرایک رائے یہ بھی ہے کہ طالبان کا مختلف دھڑوں میں بٹ جانا انھیں کنڑول کرنا مشکل بھی بناسکتا ہے۔ لہذا ایک ہی قیادت یا ایک ہی چھتری تلے متحرک گروپوں سے بات چیت کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ روشن تھے۔ عسکریت پسندوں کے خیالات ونظریات اور ان کی حکمت عملی سے شناسا حلقوں کا دعوی ہے کہ مضبوط قیادت کے موجود نہ ہونے سے مختلف گروہوں کا تادیر باہم متفق و متحد رہنا ناممکن تھا ۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود جیسے جنگجو کمانڈروں کی زندگیوں میں تو ٹی ٹی پی میں رخنہ کی ہرکوشش ناکام رہی مگر ان کی ہلاکت کے بعد صورت حال یکسر مختلف ہوگئی ۔ تحریک طالبان پاکستان میں جاری توڑ پھوڑ کے پس منظر میں ایسی خبریں بھی آرہیں کہ مسقبل قریب میں مزید گروہ بھی ٹی ٹی پی قیادت سے انحراف کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ چھبیس مارچ کے بعد تاحال حکومت اور طالبان کے درمیان عملی طور پر مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ فریقین کی جانب سے باضابطہ طور پر مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف نہ کیے جانے کے باوجود بات چیت کا عمل آگے بڑھتا نظر نہیں آتا۔ حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے گروہوں کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جو جنگ بندی کی خلاف وزری کے مرتکب ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے ہونے والی فضائی کاروائی کے نتیجہ میں کم وبیش اسی کے قریب ملکی و غیر ملکی جنگجو کام آئے۔ عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں خاطر خواہ کمی کی وجہ باہم اختلافات کے علاوہ سکیورٹی اداروں کی بہترین حکمت عملی بھی بتائی جارہی ہے۔ دوسری جانب ملک کی سب ہی سیاسی قوتیں اس امر پر متفق ہیں کہ ان عناصر سے سختی سے نمٹا جائے جو مختلف حیلے بہانوں سے آئین وقانون سے بغاوت کے مرتکب ہیں۔ حالیہ پیش رفت پر خوشی کے شادیانے بجانے کی بجائے وفاقی حکومت کو ھنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جو حقیقی معنوں میں قبائلی علاقوں کے مسائل ختم کرڈالیں۔ المیہ ہے کہ ستاسٹھ سال گزرنے کے باوجود قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا فقدان رہا۔ روس افغان جنگ میں غیرت و حمیت کے جذبوں سے لبریز قبائلی علاقے جس طور پر جنگ کا ایندھن بنے وہ بھی ہماری قومی تاریخ کا المناک باب ہے۔ کالعدم تحریک طالبان جیسے گروہوں کی تخلیق دراصل ہمارے حکمران طبقات ہی کا کیا دھرا ہے۔ آج سیاسی و عسکری قیادت کی یہ حکمت عملی قابل ستائش ہے کہ طاقت کے بے دریغ استمال کی بجائے بات چیت ہی کو ترجیح دی جائے۔ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے دھڑے خالد محمود عرف سجنا کی جانب سے مذاکرت کا عندیہ آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے ۔ ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کی منفی سرگرمیوں کی نشاندہی کرکے الگ ہونے والے گروہ سے بتدریج ایسے عسکریت پنسد بھی آملیں جو ملک دشمن سرگرمیاں اختیار کرنے والوں سے دو ٹوک انداز میں لاتعلقی کا اعلان کر ڈالیں۔