Get Adobe Flash player

گجرات میںتازہ مسلم کش فسادات۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے اور انتہاپسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی کئی املاک کو آگ لگادی۔ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کے علاقے گومتی پور میں ایک شادی کی تقریب کے دوران دو گاڑیوں کے درمیان ٹکر ہوگئی جس کے بعد معمولی ٹریفک حادثہ دیکھتے ہی دیکھتے مسلم کش فسادات کی شکل اختیار کرگیا اور انتہاپسند ہندوؤں نے کئی دکانوں، ایک بس اور دیگر املاک کو آگ لگا دی۔ 2002ء میں نریندر مودی ہی کی وزارت اعلیٰ میں گجرات میں انتہاپسند ہندوؤں نے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید اور درجنوں خواتین کی عصمت دری کی تھی، اسکے علاوہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کی املاک کو بھی تباہ کردیا گیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 17 ستمبر 1950ء کو پیدا ہوئے۔ تریسٹھ سالہ نریندر مودی بھارت کے پندرہویں وزیراعظم ہیں۔ بچپن میں چائے کے سٹال پر والد اور بھائی کا ہاتھ بٹایا۔ انہوں نے 1971ء میں راشٹریہ سیوک سنگھ میں شمولیت کی۔ 1983ء میں آر ایس ایس کے ساتھ بی جے پی کی رکنیت بھی حاصل کی۔ 1988 میں بی جے پی گجرات کے جنرل سیکرٹری بنائے گئے۔ 1998 میں بی جے پی کے جنرل سیکرٹری بنے۔ وہ 7 اکتوبر 2001ء کیشو بھائی پٹیل کی جگہ گجرات کے وزیراعلیٰ بنے۔ 27 فروری 2002ء کو گودھرا ٹرین جلائی گئی جس سے مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے جس میں دو ہزار سے زائد مسلمان جاں بحق ہوئے۔ مسلم کش فسادات کرانا مودی کے سیاسی کیریئر کا سب سے منفی پہلو ہے۔ 2005ء میں مودی کو امریکی ویزا دینے سے انکار کیا گیا بھارت اور امریکہ تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ اکتوبر 2008ء میں مودی کے کہنے پر ٹاٹا موٹر پلانٹ بنگال سے گجرات منتقل ہوگیا۔ 20 دسمبر 2012ء کو مودی لگاتار چوتھی بار گجرات کے وزیراعلیٰ بنے۔31 مارچ 2013ء کو بی جے پی کے فیصلہ ساز پارلیمانی بورڈ کے رکن بنے۔ 9 جون 2013ء کو بی جے پی کی سینٹرل الیکشن کمپین کمیٹی کے چیئرمین بنے۔ 16 مئی 2014ء میں بھارتی انتخابات میں بی جے پی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کمال یہی ہے کہ وہ سیکولر ازم کے پردے میں ہندتوا(رام راج) کے فلسفے کو اس کی تمام جہات کے ساتھ پروان چڑھا رہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتیں عدم تحفظ کے احساس کی گرفت میں رہتی ہیں۔جن سنگھی تنظیموں نے انتہائی جارحانہ ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گجرات ،آسام، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں مسلم آبادیوں پر ہلے بولنا شروع کر دیے اور ہزاروں مسلمانوں کو بھارت کے طول و عرض میں شہیدکیا جا چکا ہے۔بھارتی گجرات میں نریندر مودی انتہا پسندہندو اکثریت کا محض اس لئے محبوب ترین لیڈر ہے کہ اس نے چند برس قبل گجرات میں عسکریت پسند ہندوؤں کو مسلمانوں کے قتل عام سے روکنے کے لیے ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ انتہا پسند ہندو گروہوں کو ہر بھارتی حکومت کھل کھیلنے کے آزادانہ مواقع فراہم کرتی رہی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سیکولر ازم کے بلند بانگ دعوے کے باوجود داخلی سطح پر بھارت ایک ہندو دہشت گرد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔بھارت میں ایک دو نہیں درجنوں کی تعداد میں ایسے بنیاد پرست اور عسکریت پسند متعصب جنونی ہندو جماعتیں پائی جاتی ہیں، جن کا منشور ہی ہندوستان کو تمام اقلیتوں کے وجود سے پاک کر کے سو فیصد ''ہندو استھان'' بنانا ہے۔اس سے قبل انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں پاکستان دشمنی کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حالیہ متوقع انتخابات میں بھی یہ بنیادپرست جماعت پاکستان دشمنی اور مسلم بیزاری کا ایجنڈا لے کرسیاسی میدان میں موجود ہے۔بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے ،جہاں تقریباًگزشتہ دو عشروں سے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔ہندو عوام کی اکثریت سیاسی طور پر بد راہ ہو چکی ہے۔ بھارتی انتہا پسند تنظیموں کے رہنما جانتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کو دہشت زدہ کر کے ان کی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور ایسے میں ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں جو انہیں بھارت کو ایک کٹر ہندو ریاست بنانے سے روک سکے۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعد بھارت میں مجموعی طور پر مسلم اقلیتی آبادی کو اکثریتی ہندو آبادی نے سماجی و ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ بھارت کے کٹر تشدد پسند ہندو حکمران طبقات مسلم اقلیتی آبادی کی نسل کشی کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ آج بھی جب تشدد پسند ہندو تنظیموں کے مسلح غنڈے بھارت میں کسی مسلم بستی پر چڑھائی کرتے ہیں تو برملا یہ اعلان کرتے ہیں کہ ''ہم بھارت میں موجود ''منی پاکستان'' کے شہریوں کو سبق سکھانے اور مزہ چکھانے جا رہے ہیں۔ احمد آباد، دہلی، لکھنؤ اور اترپردیش میں آج بھی جنونی ہندو عناصر مسلم محلوں پر ''پاکستان'' کی پھبتی کستے ہیں۔