نریندر مودی ،نوازشریف ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

وزیر اعظم پا کستا ن میاں نواز شریف نے قومی سلامتی سے متعلقہ اعلیٰ اجلاس جس میں چیف آف آرمی سٹاف راحیل شریف ،وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خاں ،آئی ایس آئی کے سربراہ ڈائریکٹرجنر ل لیفٹینٹ جنرل ظہیر السلام ڈ ائریکٹر ملٹری آپریشن میجر جنرل عامر ریاض اور وزیر اعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور فضائیہ کے سربراہ اور بحریہ کے سر براہان بھی شریک تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا نئی بھارتی اور افغان حکومتوں سے مذاکرات چاہتے ہیں ۔وزیر اعظم پاکستان نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم بھارت کی شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا ء پر میاں نواز شریف کی تقریب حلف برداری بھارتی وزیرا عظم شریک نہیں ہوسکے تھے ۔میاں نواز شریف کے دل میں بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی شدید خواہش موجود ہے ۔گزشتہ د نوں آرمی چیف جناب جنر ل راحیل شریف نے کشمیر کو پاکستان کی شاہ رگ قراردے کر افوا ج پاکستان کے ماٹو جہاد فی سبیل اللہ کو اجا گر کیا ہے ۔بھارت کی طرف سے جارحانہ انداز میں کشمیر میں دیوار بر لن کی تعمیر ،65ڈیموں کی تعمیر ،صدیوں پر محیط ،ہند وانہ تعصب ،پاکستان فوج کا قومی سلامتی کے بارے خاص نقطہ نظر ،کیا ان حالات میںوزیر اعظم پاکستان کیلئے بھارتی وزیر اعظم محترم نریندرمودی کی طرف حلف وفادار ی میں شرکت کی دعوت کو قبول کیا جاسکتا ہے،دعوت کو قبول کرنے کے پاک و ہند کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ امید ہے مودی وزیر اعظم بننے کے بعد زمینی حقائق تسلیم کرلیں گے مزید دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت سے تعمیری اوبلاتعطل مذکرات چاہتے ہیں ۔وزرائے اعظم کی پہلی ملاقات میں کشمیر سمیت تمام امور پر بات چیت ہوگی ۔بھارت سے تعمیر ی اور بلا تعطل مذاکرات کے خواہش مند ہیں ۔مذاکرا ت میں کشمیر کے علاوہ ،سیاچن ،پانی ،دوطرفہ تجارت سمیت تمام متنازعہ امور پر بات چیت ہونے کا امکان تھا ۔نریندر مودی پیر کے روز مورخہ 26مئی کو بطور وزیراعظم بھارت حلف اٹھالیا ہے ۔ تقریب حلف وفاداری میںسارک ممالک کے سربراہوں کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔سارک ممالک کے علاوہ کسی غیر ملکی سربراہ کو دعوت کے اعزاز سے سرفراز نہیں کیا گیا ۔وزیراعظم حسینہ واجد نے جاپان کے دورے میں مصروفیت کی وجہ سے معذرت کرلی تھی ۔ منتخب ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نے سارک ممالک کے سربراہوں کو دعوت د ے کر خارجی پالیسی کے محاذ پر قصداََ خیر سگالی کے جذ با ت کے فروغ کیلئے تقریب حلف وفاداری کے موقع کو بین الاقوامی سطح پراپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے مثبت پیش رفت کی تھی ۔افغان صدر حامد کرزئی نے بھارت دوستی میں اونچی اڑان میں محو پر وازہوکر دعوت کو شرف قبولیت بخشا ۔قومی و بین الاقوامی ماہرین خارجہ کی رائے ہے کہ اصل میں یہ دعوت محترم وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو سہانے خواب دکھانے کیلئے اور ان کے دل میں موجود بھارتی محبت کے چراغوں کو آفتاب بنانے کیلئے دعوت دی گئی ہے ۔اس دعوت کو سارک ممالک کی عبا پہنا کر پاکستان کی رائے عامہ کو فریب دینے کی کوشش کی گئی ہے اگر صرف وزیر اعظم پاکستان کو تقریب حلف وفاداری میں مدعو کیا جاتا تو پاکستان کے عوام کیلئے یہ عمل انتہائی ناقابل قبول ہوتا ۔نریندر مودی نے حالیہ بھارتی الیکشن میں ہندو توا کے فروغ کا منشور دے کر کامیابی حاصل کی ہے ۔نریندر مودی راشٹریہ سیوک سنگھ کے اہم رکن کی حیثیت سے بھارتی وزیر اعظم کو اپنی عزت افزائی بین الاقوامی سطح تک مطلوب تھی تو انہیں روسی و چینی اور امریکی رہنما ء کو بھی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کی دعوت دینی چاہیے تھی ۔بھارت کے سفارتی ماہرین بھی خارجہ پالیسی کی نئی جہت کے ابھار پر پریشانی کا اظہار کررہے تھے ۔بھارتی وزرات خارجہ وزیر اعظم پاکستان کے تقریب میں شرکت کے حوالے سے بے یقینی کاشکار تھی۔بھارتی وزیر اعظم کا ماضی مسلم دشمنی سے لبریز ہے ،بہت سی گفتنی باتیں اور نا گفتنی باتیں ان سے منسوب ہیں ۔جب کنٹرول لائن پر جھڑپیں ہو رہی تھیں تو نریندر مودی نے من موہن سنگھ حکومت کو ان الفاظ میں للکارا تھا کہ ہمارے فوجیوں کے سر کٹ رہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم کے سر میں پاکستانی چکن بریانی کی خوشبو رچی بسی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی اب انتہا پسند ہندو ذہنیت کا مالک ہے ۔ہمیں اس سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے لیکن کیا ہم بھارت دشمنی کے خوف سے ڈر کر زندہ رہنے کے با وقار قرینوں سے تہی دامن ہوجائیں ۔زندگی کا سب سے بڑا آرٹ مخالفوں اور دشمنوں کے ساتھ زندہ رہنے کا سلیقہ ہے۔محترم میاں نواز شریف نے وسیع القلبی او ر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے قدزیباکے ساتھ بھارتی وزیر اعظم کی تقریب حلف وفاداری میں شرکت کرکے خارجہ پالیسی کے محازپر اعلی کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔وزیر اعظم پاکستان کی بھارتی تقریب میں شرکت پاکستان کے قد میں اضافہ کرے گی ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں ہمارے زودرنج حریفوں نے جو سفارتی سطح پر منفی پراپیگنڈے کی جوت جگا رکھی تھی وہ شرکت سے بے کار ہوجائے گی ۔وزیر اعظم پاکستان یہ بات بالکل خاطر میں نہیں لائے کہ پاکستان کے کچھ رجعت پسند حلقے میاں نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کو بھارتی دوستی پر طعنہ زنی کرتے ہیں ۔بھارت اور پاکستانی قیادت کی یہ مشترکہ خواہش ہے کہ تجارتی تعلقات کو باہمی فروغ دیا جائے۔بھارتی وزیر اعظم نے دعوت نامہ بھجواکر ایک تیر سے کئی اہداف کو حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔نرم لہجہ،نرم گفتار ی،صلح جوئی نے اُس کے رویے اس کی شیریں بیانی کو مشکوک بنادیا ہے ۔نریندر مودی بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو امن کے پر چارک،ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔اہل پاکستان چھ عشروں سے ہندو نیتاؤ ںسے گرم و سرد ،محبت و نفرت کی گفتگو سننے کے عادی ہیں ۔