سزا ضرور ملے گی۔۔۔سمیع اللہ ملک

سلطنت ر یاست ہا ئے متحدہ ا مریکہ ،جمہوریت،ا نسا نی حقوق،ا حترام آد میت اور درخشاں تہذیبی ا قدار کی تا بندہ علامت ہے جس کی دانش گاہوں سے پھوٹتی روشن خیالی دنیا بھر کے درودیوار منور کر رہی ہے اورقصرسفیدکاہرفرعون شہنشاہ عالم پناہ عالم اسلام کو تہذیب و تمدن کا سلیقہ سکھانے کامقدس فریضہ اپنافرض اولیں سمجھتاہے۔ایسا ہی ایک درس تہذیب 19 نومبر 2005کو عرا قی صوبہ انبار کے ایک قصبے حدیثہ کے مکینوں کو دیا گیا جہا ں ا مر یکی بہادر فو جیوں نے گھروں میں گھس کر معصوم اور بے گناہ بچوں ، عورتوںاور بوڑھوں سمیت 42افراد کے سینے بہیمانہ طریقے سے چھلنی کر دیئے۔اس قتل کے مرتکب افسروں،ا ہلکاروں اور ان کے کمانڈروں نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ ا پنی درندگی پر پردہ ڈالتے ہوئے مشہور کر دیا کہ یہ لوگ بم د ھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔معروف ا مریکی میگزین ٹائم نے ما رچ کے شمارے میں شائع ہونے والی تفصیلی رپورٹ میں عینی شا ہدوں کے بیانات اور ویڈیو فلم کی مدد سے ا نکشاف کیا کہ مرنے والے بم دھما کے کا نہیں بلکہ قریب سے گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔سب کے سروں اور سینوں میں گولیاں لگی تھیں۔واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا گیا اور شہنشاہ عالم پناہ نے کہا ہے کہ غلط کا روں کو سخت سزا ضرور ملے گی لیکن آج تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔کئی برس پہلے لیفٹیننت کیلی نے بھی ایسے ہی بھیانک جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اسے بھی ایسی ہی سخت سزا ملی تھی ۔یہ کہا نی ایک انگر یزی اخبار میں شائع ہو ئی ہے جسے نجا نے آج دہرانے کوکیوں جی چا ہتا ہے۔ با جوڑ کا وہ سفا کا نہ واقعہ جس نے دل و دماغ اور روح تک کو جھنجھو ڑ کر رکھ دیا تھا ،شاید وہ یتیم، معصوم اور بے گناہ مفلسی کے ہاتھوں مجبور بچے جو مسجد میں قرآن حفظ کرنے اور دینی تعلیم کیلئے جمع تھے اور شہنشاہ عالم پناہ کی بہادر سپاہ کے ایسے ہی ظالمانہ حملے کے میزائل کا شکار ہو گئے تھے،قطاراندرقطار خون میں لت پت چھو ٹے چھو ٹے ان گنت ٹکڑوں میں ناقابل شاخت حالت میں کھڑے آج بھی مجھ سے سوال کررہے ہیں کہ جس قلم کی رب العزت نے قسم کھا ئی ہے تمہارے ہا تھوں میں آ کر اس میں لغزش کیوں آ جا تی ہے؟قصر سفید کے فرعون کے حکم کی بلا چون و چراں تعمیل اور اس کی بزدل سپاہ کے ہا تھوں سر انجام پا نے وا لے قبیح جرا ئم کوآخر ہما رے فاسق کمانڈو نے ا پنے کھاتے میں کیوں ڈال لیاتھا؟ایک ہی ظا لم کے ہا تھوں سر انجام ہو نے وا لے واقعات میں کس قدر مماثلت ہو تی ہے۔انگر یزی اخبارنے یہ کہا نی شا ئع کر نے کی جرات تو کر لی لیکن کیا میرے ملک کے غیور عوام کے ووٹوں سے منتخب جمہوری حکومتیں بھی اپنے ا مریکی دورے میں کسی ایجنڈے میں یہ شامل کر نے کی ہمت کی کہ وہ ا پنے ان بے گناہ مظلو موں کی ہلا کت کے معا ملے کو اٹھائیں اور ایسے ظا لموں کو بھی سخت سزا کیلئے کسی عدالتی کا روائی کا بندوبست کر سکیں؟یہاں تو جمہوریت کوسب سے بڑاانتقام کہنے والے خود این آر او کی پاکستان کش جیکٹ پہن کر پاکستان کے حکمران بن گئے۔شاہانہ اقتدار کی غلا ما نہ ذہنیت ہا تھوں میں ما نگنے کا کشکول تھام کر سب سے پہلے خودداری کو دفن کرتے ہیں پھر اس کے بعد آقا کے تمام احکام کی تعمیل باعث فخر سمجھی جا تی ہے ۔یہ 14 ما رچ 1986 کی ایک بد قسمت سہ پہر کا ذکر ہے۔ا مریکی فوج کے گیا رہویں ڈویژن کی چا رلی کمپنی کے مسلح سپاہی و یت نام کے صوبہ کوانگ نا گیکے علا قے سے گزر رہے تھے کہ سڑک کے کنا رے نصب ایک بم پھٹ جا نے سے ایک ا مریکی فوجی ہلا ک ہو گیا۔دو دن کی مسا فت کے بعد چارلی کمپنی ما ئی لا ئی گائوں کے قریب سے گزری تو 42 سا لہ پلا ٹون کما نڈر لیفٹیننٹ و لیم کیلی نے ا نتقام لینے کی ٹھا نی۔اس کمپنی کو ویت نام میں آئے ہو ئے صرف چار ماہ ہوئے تھے لیکن اس مختصر سی مدت میںوہ کئی د یہا توں کو نذر آتش کر نے ،کئی نہتے افراد کے پر خچے اڑانے،کئی کنوئوںمیں زہر ملا نے اور کئی عورتوں کی بے دریغ عصمتیں لو ٹنے کے کا رنا مے سر انجام دے چکی تھی۔ما ئی لا ئی کے خوفزدہ لو گوں نے گھروں سے نکل کر کھیتوں اورٹیلوں کے نشیب میں پناہ لے لی۔پلا ٹون کما نڈر لیفٹیننٹ ولیم کیلی کی سر براہی میں فو جیوں نے ا نہیں گھیرے میں لے لیا ۔گائوں کے سب لوگ نہتے تھے ،کسی کے ہا تھ میں لا ٹھی تک نہ تھی۔بھا ری تعداد نہتے بچوں،عورتوںاور بوڑھوں کی تھی۔ لیفٹیننٹ و لیم کیلی نے حکم دیا کہ ان کو بھون ڈا لو ۔گولیوں کی بوچھا ڑ نہتے بچوں،عورتوںاور بوڑھوں پر شروع کر دی گئی۔یہ بے گناہ بچے،عورتیں اور بوڑھے گر نے، تڑپنے او ر پھڑکنے لگے۔کیلی خود ا پنی آٹو میٹک را ئفل کی میگزین پے در پے خالی کر تا اور نشا نے لگاتا رہا۔ذرا دیر بعد مکمل خا مو شی چھا گئی جو کبھی کبھار و لیم کیلی اور اس کے سا تھیوں کے ا بلیسی قہقہوں سے ٹوٹ جا تی تھی ۔ما ئی لا ئی کے چھوٹے سے قصبے کی کل تعداد چھ سو کے لگ بھگ تھی ۔آج وہاں بنائی گئی یادگار پر امریکی قتل عام کا لقمہ اجل بن جانے وا لے 504افراد کے نا م کنندہ ہیں ،ان میں 281خواتین جن میں71حاملہ تھیں 371کمسن بچے تھے ،15کے قریب جسما نی معذور تھے اور 60 سال سے زا ئد عمر کے 06 بوڑھے بھی شا مل تھے۔امریکی فوج نے بڑی فنکا ری اور مہا رت سے یہ معا ملہ دبا دیا۔اکتوبر 1970 میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہو نے وا لی سٹوری نے اس بہیما نہ قتل عام کا بھا نڈہ پھوڑ دیا۔دنیا بھر میں کہرام مچ گیا ۔پلا ٹون کما نڈر لیفٹیننٹ ولیم کیلی کو گرفتار کر کے ا مریکہ لا یا گیا۔17 نومبر 1970 کو ما ئی لا ئی کے قتل عام کے حوا لے سے کو رٹ ما رشل کی کاروائی شروع ہوئی۔ عدالت ایک کر نل،چار میجر اور ایک کپتان پر مشتمل تھی۔سماعت کے دوران سفاک و لیم کیلی کو اسی عمارت کے آراستہ و پیراستہ اپارٹمنٹ میں رکھا گیاجہاں اسے دوستوں سے ملنے،دعوتوں کا اہتمام کر نے اور اپنے مداحوں کو خطوط لکھنے اور ٹیلیفون کالز کا جواب دینے کی مکمل آزادی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی کے سر براہ کرنل نے بتایا کہ ہلاک ہو نے والے تقر یبا سبھی افراد بچے،بوڑھے اورعورتیں تھیں ۔چا رلی کمپنی کے ایک سپا ہی،ڈینی کو نٹی نے گواہی دیتے ہو ئے کہا کہ پلا ٹون کما نڈر لیفٹیننٹ و لیم کیلی اور میڈلو سا تھ ساتھ کھڑے ہو گئے، وہ لوگوں پر سیدھا نشانہ لیکر فائر کر نے لگے،چیخ و پکار کی آوازیں اٹھنے لگیں ۔ لوگ لڑکھڑانے،چکرانے اور زمین پر ڈھیر ہو نے لگے۔کیلی اور میڈلو خاص طور پر سروں کا نشانہ لیکر گو لیوں کی بو چھاڑ کر تے ہوئے قہقہے لگا رہے تھے۔