مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی فیصلہ۔۔۔ضمیرنفیس

وزیراعظم نواز شریف کی نئی دہلی روانگی سے پہلے اس نوع کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں کہ وزیراعظم بھارت پہنچنے کے فوراً بعد پاکستانی ہائی کمیشن میں کل جموں وکشمیر حریت کانفرنس کے رہنمائوں سے ملاقات کریں گے سرکاری ذرائع کے حوالے سے ان اطلاعات کی اشاعت اس لئے بھی بامعنی تھی کہ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ وزیراعظم سمیت پاکستان کی کوئی بھی اہم شخصیت جب بھی مذاکرات کے لئے بھارت کا دورہ کرتی ہے تو ہائی کمیشن میں کشمیری لیڈروں سے مشاورت کے عمل کی ایک نشست ضرور رکھی جاتی ہے ایسے ہی ایک موقع کے ہم بھی عینی شاہد ہیں جب سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے آگرہ مذاکرات کے لئے بھارت کا دورہ کیا تھا تو حسب روایت کشمیری لیڈروں سے ان کی ملاقات بھی شیڈول میں شامل تھی' پاکستانی قائدین سے کشمیری لیڈروں کی ملاقات اور مشاورت اس لئے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کا وکیل ہے تمام عالمی اداروں میں وہی کشمیریوں کا مقدمہ لے کر گیا ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات ہمیشہ اسی نے عالمی امور علاقائی سطح پر اٹھائے ہیں مگر ابتدائی اطلاعات کے بعد نئی دہلی کے پاکستانی ہائی کمیشن میں کشمیری لیڈروں سے ملاقات کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی گویا کشمیری لیڈروں سے وزیراعظم کی ملاقات کو شیڈول سے خارج کر دیا گیا بعدازاں یہ استدلال پیش کیا گیا کہ وزیراعظم کا دورہ تقریب حلف برادری میں شرکت کے حوالے سے تھا۔ یہ ایسا دورہ نہیں تھا جو محض دو طرفہ مذاکرات کے حوالے سے طے کیا گیا ہو اس لئے کشمیری لیڈروں کے ساتھ ملاقات نہ رکھی گئی' مگر یہ استدلال بہت کمزور ہے کسی بھی ذی شعور کو مطمئن کرنے کے لئے کافی نہیں ہے اگر ایک لحظہ کے لئے مذکورہ استدلال کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے کہ یہ مذاکرات کی غرض سے طے پانے والا دورہ نہیں تھا تو بھی کشمیری لیڈروں سے ملاقات میں کیا ہرج تھا کشمیری لیڈروں کو پاکستان آنے اور پاکستانی لیڈروں سے ملاقاتوں کے لئے اجازت بمشکل ملتی ہے اس لئے وہ کسی بھی اعلیٰ سطح کے پاکستانی لیڈر سے ہائی کمیشن میں ملاقات کے لمحات کو غنیمت سمجھتے ہیں مگر اس بار انہیں اس ملاقات سے محروم کر دیا گیا ہماری وزارت خارجہ کی یہ احتیاط روی کشمیریوں کے لئے بڑی حد تک پریشان کن ہے وزیراعظم نے مودی سے ملاقات کے بعد جو پریس کانفرنس کی اس میں بہت سے امور کا تذکرہ تھا سوائے مسئلہ کشمیر کے' ادھر دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے آئین کی شق370کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دی گئی ہے انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دے گی اب تیزی سے اس حوالے سے آئینی و قانونی ترمیم لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کیا اسے دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ایک ریاست بنا کر مسئلہ کشمیر کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے گا یا اس کے لئے کوئی دوسری حیثیت وضع کی جارہی ہے اس بارے میں سردست کوئی بھی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ سوال یہ ہے کہ سرحد پار بھارتی آئین سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہم اس معاملے میں بلند آواز سے گفتگو بھی مناسب نہیں سمجھتے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کا فیصلہ کشمیریوں کی رائے اور مشاورت سے ہونا چاہیے چنانچہ ان قراردادوں کی روشنی میں پاکستان یا بھارت انہیں اپنے صوبے کا درجہ نہیں دے سکتے ماضی میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں جب اس بارے میں کشمیری لیڈروں سے مشاورت کی تو سردار عبدالقیوم نے ان پر دوٹوک انداز میں واضح کیا تھا کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنانے سے کشمیر پر پاکستان کا کیس ختم ہو جائے گا اس لئے اس بارے میں نہ سوچا جائے اس کے بعد دوبارہ کبھی اس ایشو کو نہیں اٹھایا گیا مگر بھارت اگر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرتا اور اسے اپنی ایک ریاست کا درجہ دیتا ہے تو اسے کسی قسم کی منفی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اس لئے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیر کیس کا وکیل ہے نہ مدعی بلکہ مدعا علیہ ہے مدعا علیہ کی تو ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کیس ہی ختم کر دیا جائے تاکہ اسے بار بار کٹہرے میں نہ آنا پڑے اگر بھارت کی نئی سرکار اس انداز سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتی ہے تو ہماری حکمت عملی کیا ہوگی؟ شاید ہم کسی بھی معاملے میں پیشگی غوروغوض کے عادی نہیں ہیں جب کوئی معاملہ عین سر پر آپڑتا ہے اس وقت غوروخوض شروع کرتے ہیں۔