Get Adobe Flash player

سٹرٹیجی کے طور پر ا نتقام۔۔۔شاعر الرحمان عباسی

اس سال دہشتگردوں پر تین بار ہوائی حملے ہوئے ہیں جس میں جیٹ طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کئے گئے ان حملوں میں درجنوں مشکوک دہشتگرد بھی مارے گئے لیکن شہریوں کے جانی نقصان کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا ان حملوں میں ہماری سٹریٹجی واضح نہیں مذاکرات کے ساتھ ساتھ آپریشن کا جاری رہنا صورتحال کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہے۔
اس جنگ میں خوف کے ساتھ ساتھ اشتعال بھی بڑھ رہا ہے جس حملے میں دہشتگرد مارے جاتے ہیں وہاں شہری آبادی بھی جانی نقصان سے بچنے کیلئے نقل مکانی کرتی ہے اپنا گھر بار چھوڑنا کوئی معمولی قربانی نہیں ہے اس سے شہریوں میں غم اور غصہ بڑھتا ہے اور وہ اپنے اجڑے ہوئے گھر کو دیکھ کر کسی کا بستا ہوا گھر دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے۔
مذاکرات کا تعطل اور جنگی جھڑپیں یہ ایسی صورتحال ہے جس میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کل کیا ہونے والا ہے حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو ڈرانے کا عمل جاری ہے لیکن مکمل آپریشن کیلئے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی۔
وزیر داخلہ کا یہ اعلان کہ اگر دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوا تواس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اس وقت وزارت داخلہ دو کشتیوں پر سوار ہے ایک کا رخ مذاکرات کی جانب اوردوسری کا رخ فوجی ایکشن کی طرف ہے اس میں نہ سیز فائر ہے اور نہ ہی مذاکرات کے عمل کا خاتمہ نظر آرہا ہے۔
تازہ ترین ہوائی حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں بھی ابہام ہے اور وہ دو ٹوک فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت اور فوج دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے ایک ٹریک پر نہیں ہیں فوج شاید یہ سمجھتی ہے کہ دہشتگرد صرف آپریشن کے ذریعے سے ہتھیار ڈالیں گے لیکن حکومت شاید کوئی دوسرا راستہ مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہتی ہے لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ مذاکرات یا پھر آپریشن ہی اس مسئلے کا حل ہیں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ مذاکرات بے نتیجہ ہوئے تو دوسری صورت میں فوج یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لے گی اور اس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں فیصلہ کن جنگ لڑے گی۔
دہشتگردی کی جنگ میں ہمارے سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہو چکی ہے یہ نقصان ناقابل برداشت ہے آرمی کو شاید یہ فیصلہ کرنا پڑ جائے کہ لمبی جنگ میں زیادہ نقصان ہوتا ہے لہذا ایک ہی دفعہ بڑا آپریشن کرکے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہیے لیکن کسی آپریشن سے قبل اس کو موثر بنانے کا جائزہ لینا پڑے گا۔اس میں کوئی شک نہیں فوجی ایکشن کے پیچھے سیاسی قیادت اور عوام کی بھرپور سپورٹ انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر یہ ایکشن اپنے اثرات قائم نہیں رکھ سکے گا اور اس میں کوئی بڑا سانحہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ آپریشن کے دوران فوج کا مورال بھی بلند رکھنا سیاسی قیادت اور عوام کا کام ہے کیونکہ فوج کی قربانیوں کو عوامی سطح پر تسلیم کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے صدر اوبامہ نے کچھ عرصے پہلے افغانستان کا دورہ کرکے اپنے فوجیوں کے حوصلے بلند کئے اسی طرح ہمارے وزیر اعظم کو فرنٹ لائن کا دورہ کرنا چاہیے اور زخمی فوجیوں کی عیادت کرکے ان کے حوصلے بلند کرنا ضروری ہیں وقت آگیا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس جنگ کو اپنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس ایشو کو سیاسی قیادت اور فوج ایک یونٹ کی طرح نظر آئیں اس طرح اس جنگ میں عوام سیاسی قیادت اور فوجی قیادت کے کندھے سے کندھا ملا کر لڑنے میں ہی کامیابی ہوگی۔
اب طالبان کی صفوں میں دراڑیں پڑنی شروع ہوگئی ہیں محسود طالبان جو سب سے بڑا جنگجو گروپ ہے الگ ہو گئے ہیں ان کا مائنڈ سیٹ دیگر گروپوں سے الگ ہے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جو گروپ الگ ہو اس سے فوری رابطہ کرکے اس سے سمجھوتا کرنا چاہیے اب طالبان ایک دوسرے کو اجرتی قاتل کہہ رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جنگ کسی مشن کیلئے نہیں ہے بلکہ مالی مفاد کے پیش نظر ہے مالی مفاد کیلئے جنگ کرنے والے کمزور ہوتے ہیں کیونکہ ان کو جس طرف چمک نظرآئے ادھر رخ کر لیتے ہیں اس طرح کی جنگ جیتنا آسان ہے کیونکہ لالچی انسان غیرت مند نہیں ہوتا اور نہ اس کی دین سے وابستگی میں پختگی ہوتی ہے۔دہشتگردی پاکستان کی اندر کی آگ ہے اس کو بجھانا اشد ضروری ہے اس آگ نے دنیا میں ہمارے تشخص کو جھلسا کر رکھ دیا ہے یہ حقیقت ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔