Get Adobe Flash player

فلاحی ریاست ہی منزل ہے۔۔۔ظہیرالدین بابر

پاکستان کے جوہری تجربات کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ کیسی جوہری طاقت ہے جہاں اندھیرے ہوں،علم کی بجائے جہالت ہو، آسودگی کم غربت زیادہ ہو،جہاں شدت پسندی ہو اور امن کم اوربدامنی زیادہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ ایٹمی طاقت ایسی تو نہیں ہوا کرتی"وزیراعظم پاکستان کے مذکورہ تجزیہ سے کسی بھی ہوشمند شخص کو اختلاف نہیں۔آج ملک کے شہر و دیہات جن انواع واقسام کے مسائل کی آماجگاہ ہیں وہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔ تادم تحریر یہ طے نہیں ہوسکا کہ آخر ملکی مسائل ومشکلات کا حل کیا ہے۔ موجودہ جمہوریت کی حامی قوتوں کا متفقہ موقف ہے کہ جاری نظام اگر اسی شکل وصورت میں جاری وساری رہا تو آنے والے ماہ وسال میں مشکلات میں بڑی حد تک کم ہوجائیںگی۔ اس کے برعکس سسٹم کے ناقدین زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس اصلاح کے طلب گار ہیں۔ ملک کی بیشتر سیاسی ومذہبی قوتیں اس امر پر متفق ہیں کہ اگر مگر کے باوجود بہتری کی گنجائش بہرکیف موجود ہے مگر کیا اقدامات اٹھائے جانے چاہیں یہ تاحال طے نہیں ہوسکا۔بظاہر آئین و قانون کی حکمرانی کے سب ہی قائل ہیں مگر معاملہ جب شخصی یا گروہی مفادات کا آئے تو ہر کسی کا اپنا اپنا ہی سچ ہے۔ستاسٹھ سال گزرنے کے بعد ریاست کے ہر ذمہ دار ادارے کو یہ سچائی کھلے دل ودماغ سے تسلیم کرلینا چاہے کہ موجودہ خرابیوں میں اس کا بھی تھوڑا یا زیادہ حصہ موجود ہے۔ ایسا نہیں کہ ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہوئے ہر کوئی خود سرخرو ہونے کی ناکام کوشش کرتا پھرے۔ جمہوریت کا تسلسل خوش آئند مگر گزشتہ پانچ سالہ دور بدانتظامی و ابتری کا جو منظر پیش کرگیا اس پر بھی خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ یہ ہرگز مبالغہ آرائی نہیں کہ پاکستان پیلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے برعکس موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کے لیے کسی نہ کسی حد تک کمربستہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ملکی سیاسی اشرافیہ تاحال عوام کے بھرپور اعتماد وحمایت سے محروم ہے ۔ عام آدمی سوال کرتا ہے کہ ایسا نظام کب آئیگا جب اس کی مشکلات ومسائل پر خاطر خواہ طور پر قابو پالیا جائے۔ تعلیم، صحت ، اشیاء خردونوش کی سستے داموں فراہمی، انصاف کا حصول جیسی بنیادی ضروریات سے بلامبالغہ کروڑوں شہری محروم ہیں۔ افسوس کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کی اکثریت کے نزدیک روزمرہ مسائل قابل توجہ نہیں۔ چنانچہ ناقدین کا موقف ہے کہ عام آدمی کی زندگیوں میں آسانیاں لانا منتخب ممبران اسمبلی کی ترجیح ہی نہیں ۔ دیہات تو دور بڑے شہروں میں بھی عشروں سے ایسے سینکڑوں مسائل گنوائے جاسکتے ہیں جن کی جانب توجہ نہیں دی جارہی۔ مثلا بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے وفاقی وصوبائی سطح پر ایسا موثر پروگرام موجود نہیں جس کی کارکردگی کے پیش نظر امید لگائی جائے کہ شہریوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے اس کا کردار قابل رشک ہے۔ دوسری جانب آبی ماہرین دہائی دے رہے کہ چند دہائیوں کے بعد پاکستان میں پانی کا مسلہ بدترین شکل اختیار کرنے جارہا ہے مگر سرکاری حلقوں میں متوقع ابتری کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار سنجیدگی مفقود ہے ۔ یقینا تاریخ میں وہی قومیں ترقی کی معراج کو پہنچیں جنھیں ایسی قیادت نصیب ہوئی جو اخلاص وبصیرت میں بے مثال ثابت ہوئیں۔ پاکستان کا اِیٹمی قوت بن جانا قابل رشک ضرور مگر مملکت خداداد کا روشن مسقتبل اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سیکورٹی اسٹیٹ کی بجائے ویلفیر سٹیٹ کے درجے پر فائز ہوجائیں۔ افسوس وطن عزیز میں آج بھی ایسے ہزاروں بااثر افراد موجود ہ ہیں جو اربوں یا کروڑوں روپے رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ ہر دور میں ذمہ داروں کی جانب سے طاقتور شخصیات سے ٹیکس وصول کرنے کے دعوے تو کیے گئے مگر بعدازاں اس بھاری پتھر کو چوم کر وہی چھوڑ دیا گیا۔ ملک کے مسائل آج اس نہج کو پہنچ چکے جہاں محض اکیلی حکومت کا ان سے نبرد آزما ہونا ممکن نہیں ۔ تمام ریاستی اداروں کو طے کرنا ہوگا کہ بہترین کردار ادا کرنے سے کم کچھ قبول نہیں۔ حزب اقتدار وحزب اختلاف دونوں کو سطحی مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے تعمیر وطن کے منصوبوں پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا ۔ سیاست کرنے سے کہیں اہم ملک کو ان مشکلات کے بھنور سے نکالنا ہے جس مِیں کئی عشروں سے بطور قوم ہم ہچکولے کھا رہے۔ پاکستان کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کا آسان و آزمودہ حل یہی ہے کہ صرف اورصرف ترجیح ملکی مفاد کو دی جائے۔ ذمہ داروں کی پالیسیاں بھی اسی صورت میں مقبول عام کا درجہ پاسکتی ہیں جب ان میں عوامی فلاح وبہبود ہی بنیاد بنے۔ زیادہ پرانی بات نہیں حب وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابد شیر علی کی جانب سے ثبوتوں کے ہمراہ اعلان کیا گیا کہ کئی وفاقی و صوبائی سرکاری محکموں کی جانب سے بجلی کے واجبات بروقت ادا نہ کرنے کا بوجھ عام صارف برداشت کررہا ہے۔ انہی تلخ سچائیوں ہی بدولت تاثر یہی ہے کہ سینکڑوں سرکاری ادارے عوامی فلاح پر مبنی اقدمات اٹھانے کی بجائے اعلی عہدیدوں پر کی خوشنودی کے لیے ہی فعال ہیں۔ نہیں بھولنا چاہے کہ اہل پاکستان آج بھی وطن کے لیے ہر قربانی ومشکل برداشت کرنے کو تیار ہیں مگر شرط محض اتنی ہے کہ انھیں یقین دلا دیاجائے کہ بڑوں کا محور ومرکز اب ملک وملت کے مفاد کے سوا ہرگز کچھ اور نہیں۔