Get Adobe Flash player

کوئلہ اور ہمارا مستقبل ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

کائنات طلسم کدہ ہے،دنیا میں حیرتوں کا ایک جہاں آباد ہے جس کی کوکھ سے اللہ کی نعمتیں جنم لیتی ہے۔تخلیق کائنات میں لا متنا ہی داستانیں اسرار و رموز سے مرصع ہیں ۔انسان جب خدا کی دی نعمتوں سے استفادہ کرتا ہے تو خود پکار اٹھتا ہے اور قرآ ن حکیم کی آیات کے سنہری الفاظ اس کی نطق کا خزانہ بن جاتے ہیں۔اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔سیا ہ کوئلہ اپنے اندر بجلیوں کے خزانے چھپائے ہوئے ہے ،عالمی توانائی ایجنسی کے اعداد وشمار برائے سال 2013ء کے مطابق 2012ء میں کوئلے سے بجلی کی پیدوار 9138ٹریلین واٹ آوررہی ہے ۔جبکہ1973میں صرف 3343 ملین واٹ آوررہی تھی۔گزشتہ چالیس بر سوں میں کوئلہ سے بجلی کی پیدوار میں 4 گناہ اضافہ ہواہے۔عالمی توانائی ایجنسی اور توانائی کی پیداوار حکمت عملی مرتب کرنے والے ماہرین متفق ہیں کہ اگلے 40سے60برس تک کوئلہ دنیا بھر میں بجلی بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔دنیا میں تقریباََ 14فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جارہی ہے ۔دنیا میں پولینڈ ،جنوبی افریقہ ،چین ،بھارت،آسٹریلیا ۔چیک ری پبلک ،قازقستان ،جرمنی ،امریکہ ،بر طانیہ ،ترکی ،یوکرائن اور جاپان کوئلے سے بجلی بنانے والے اہم ممالک ہیں ۔امریکہ اور یورپ کا انحصار کوئلے سے بننے والی بجلی پر ہے۔کوئلے سے سستی بجلی پید ا کرکے خوشحالی کی منزلیں طے کرنے والا چین آج معاشی طور پر انتہائی مستحکم ملک بن گیا ہے ۔1990ء سے اب تک چین میں کوئلے کے استعمال میں بلا مبالغہ260 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے چین کی GDPگرائونڈ ڈومیسٹک پراڈکٹ 20گنا اضافہ ہوا ہے ۔عالمی توانائی ایجنسی نے چین کی ترقی میں سب سے اہم عامل سستی بجلی (کوئلہ) کو قراردیا ہے۔دنیا میں فوکو شیما میں ہونے والے جو ہری حادثے نے عالمی اقتصادی طاقتوں کو مجبور کردیا تھا کہ وہ ایٹمی تونائی سے چلنے والے بجلی گھروں کو بند کردیں اس سلسلے میں 2011 ء کے موسم بہار میں جرمنی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ 2022ء تک تمام ایٹمی بجلی گھروں کو بند کردیا جائے گا ۔فوکو شیما کے حادثے کے فوراََ بعد جرمنی نے اپنے آٹھ ایٹمی بجلی گھروں کو بند کردیا تھا ۔2030ء تک جرمنی کو بجلی کی ضروریا ت 42فیصد تک براؤن کوئلے سے پوری کی جائیں گی۔پاکستان آجکل لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ملک ہے ۔ہمارے ہاں درآمد شدہ فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ہمارے ہاں استعمال ہونے والا فرنس آئل سلفر سے لبالب بھر ا ہوا ہے تیل سے بجلی بنانے والے کارخانے سے خارج ہونے والی سلفر کے مرکبات کی حامل گیسز کے ماحول پر پید ا ہونے والے اثرات اور اس سے جنم لینے والی بیماریوں کے بارے میں آج تک ہم نے توجہ نہ دی ہے ۔پاکستان میں گیس کے ذرائع بے حد محدود ہیں اور درآمد شدہ گیس سے اگر بجلی بنائی جائے تو ہمیں بے حد مہنگی پڑے گی ۔ایک بڑے ڈیم اور جوہری پلانٹ کی تعمیر کیلئے بہت زیادہ سرمایہ اور 12-15سال کی مدت درکار ہوتی ہے ۔ہمارے پاس بھی ایک ہی آپشن باقی رہ جاتی ہے کہ ہم جدید اور محفوض ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے براؤن کوئلے سے بجلی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں ۔یہ بات زباں زد عام ہے کہ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کی وجہ سے خطر ناک گیسز کا اخراج انسانی صحت کیلئے ناقابل برداشت حد تک مضر رساں ہے ۔لیکن یہ بات قِصہ پارنیہ ہے گئے وقتوں کی بات ہے ۔ماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے 2000ء کے بعد Clean Coal Technologyیعنی کوئلے سے صاف ستھری بجلی بنانے کی ٹیکنالوجی تقریباََ صفر گیس اخراج کے ٹار گٹ کی طرف رواں دواں ہے ۔ دور حاضر میں فضا ء کو آلودہ کرنے والی گیسز کے کنٹرول کی ٹیکنالوجی آجکل کوئلے کے بجلی کے گھروں کے ڈیزائن کا اہم حصہ ہے ۔نائٹروجن آکسائیڈز کو کنٹرول کرنے کیلئے روایتی بر نرز کے بر عکس Low Noxبر نرز استعمال کئے جاتے ہیں ۔یہ بر نرزکو ئلہ اور ہوا کو تقسیم کرتے ہوئے کوئلے کے جلنے کے عمل کو دوحصوں میں مکمل کرتے ہیں اور نائٹروجن آکسائیڈ ز کی بہت بڑی مقدار کو پید ا ہی نہیں ہونے دیتے یا اس کو بے ضرر نائٹروجن میں بدل دیتے ہیں اوران برنرز کی قیمت بھی روایتی برنرز جتنی ہے ۔سلفر آکسائیڈ ز گیس کے اخراج کو ہوا میں خارج کرنے کیلئے جذب ٹاور میں نیچے سے داخل کیا جاتا ہے اور جذب ٹاور کے اوپر سے چونے کا محلول اسپرے کیا جاتا ہے ۔سلفر ڈائی آکسائیڈ چونے کے محلول سے کیمیائی عمل کے کرکے پلاسٹر آف پیرس میں بدل دیا جاتا ہے جو کہ ایک قیمتی اضافی پیداوار ہے ۔فضاء میں آسانی سے سلفرڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روک لیا جاتا ہے ۔کوئلے کی راکھ سے باریک ذرات کو فضاء میں جانے سے روکنے کیلئے Electrostatic Precipitators استعمال کئے جاتے ہیں ۔کو ئلے کے بجلی گھروں سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج کا تعلق بجلی گھروں کی تھرمل کارکردگی سے ہے ۔کوئلے کے وہ بجلی گھر جو Circulating fluidized bed combustion techonologyپر مشتمل ہیں ان کو تھر مل استعدادکا تیس فیصد کے قریب ہوتی ہے ۔انٹرنیشنل توانائی ایجنسی کی اندرونی سیریز برائے سال 2013ء کے مطابق اس وقت دنیا میں کوئلے کی اوسط تھر مل استعداد کا 33 فیصد ہے اور ایسے بجلی گھروں جن کو تھر مل استعداد کا 42فیصد ہے ان سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 25فیصد کم ہوتا ہے Baboch Powerکے مطابق الٹرا سپر کر ٹیکل پاور پلانٹس جس کو تھر مل استعداد کار 46فیصد ہے ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 20فیصد کمی آجاتی ہے اورمزید احتیاط کیلئے کوئلے کے ساتھ گنے کی پھوک ،کپاس کی چھڑیاں اور چاول کی پھک وغیرہ ملا کر جلایا جائے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ میں اور نائٹروجن آکسائیڈ مزید کم ہوجاتی ہے ۔انٹر نیشنل توانائی کے Task 39کے مطابق 2009ء سے دنیا بھر میں 234کوئلے کے بجلی گھر کوئلے کے ساتھ Biomassملا کر بجلی پید ا کررہے ہیں میں امریکی ماحولیاتی ایجنسی کے ڈیٹا بیس 2012ء کے مطابق کوئلے کے بجلی گھروں سے نکلنے والی آلودہ گیسز کے اخراج میں 1970ء کے مقابلے میں 2010-2015ء کے دوران فی میگا واٹ 87فیصد کمی واقع ہوئی ہے دنیا بھرمیں انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی کا سب سے بہتر ین اور قابل اعتماد ادارہ MITہے ۔