سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی۔۔۔ضمیر نفیس

وزارت صحت کی طرف سے سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے پابندی کا مقصد لوگوں کو سگریٹ نوشی سے دور رکھنا ہے کیونکہ اشتہارات بھی نئی نسل میں سگریٹ نوشی کی ترغیب کا ذریعہ بن رہے ہیں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث روزانہ74افراد موت کی وادی میں جارہے ہیں جبکہ 5ہزار افراد روزانہ تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر روز بارہ سو کے لگ بھگ بچے تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں حکومت سالانہ 62ارب روپے تمباکو نوشی پر عائد ٹیکس وصول کر رہی ہے آنے والے بجٹ میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لئے اس پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا ڈاکٹروں کے مطابق تمباکو نوشی کینسر' دل کے امراض' فالج اور دیگر مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہے اگر تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی امراض اور دیگر امراض کے نتیجے میں مرنے والوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے باعث اموات کی شرح زیادہ ہے۔ وزارت صحت کے سروے کے مطابق مردوں میں تمباکو کے استعمال کی شرح 45فیصد اور خواتین میں صرف چھ فیصد ہے 28فیصد مرد حضرات سگریٹ اور 22فیصد حضرات تمباکو کی دیگر مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں چھ سے 35سال کی عمر کے لوگوں میں سے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔انسداد تمباکو نوشی کے ضمن میں یہ قانون پہلے سے موجود ہے جس کے مطابق عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی ممنوع ہے یہ بھی ہے کہ 18سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت نہیں کیا جائے گا تعلیمی اداروں کے اطراف میں بھی سگریٹ کی فروخت پر پابندی ہے لیکن اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا کوئی اچھے سے اچھا قانون بھی اگر فائلوں میں موجود ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جارہا تو وہ بے معانی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے پہلے جو قوانین موجود ہیں مرکز اور صوبے ان پر سختی سے عمل کروائیں سگریٹ نوشی کے اشتہارات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر طویل عرصے سے دکھائے جارہے ہیں نہ شائع ہو رہے ہیں مگر پہلے سے موجود گزشتہ حکومت کے اس فیصلے کو وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز محترمہ سائرہ افضل تارڑ نے اس دھوم دھڑکے سے پیش کیا جیسے یہ سب کچھ ان کی کسی عرق ریزی کا نتیجہ ہے ان کی انفرادی عرق ریزی محض اتنی ہے کہ اب کسی پان سگریٹ کی دکان کے باہر بھی تمباکو نوشی کے تشہیری پوسٹر نہیں لگائے جاسکیں گے اور تمام وزارتوں میں تمباکو نوشی کی ممانعت کے سائن بورڈ آویزاں کئے جائیں گے۔حکومت جتنے بھی اقدامات کرلئے جو لوگ سگریٹ نوشی کے دائرے میں داخل ہوچکے ہیں ان میں کمی صرف موت کے ذریعے ہی ممکن ہے البتہ غیر معمولی تشہیر کے روکے جانے سے نئے سگریٹ نوش قدرے کم سامنے آئیں گے حکومتی مہم میں حقہ نوشی کا ذکر نہیں ہے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ حقہ نوشی کے ذریعے چونکہ دھواں پانی کے ذریعے انسان تک پہنچتا ہے اس لئے اس کے نقصانات بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں جبکہ سگریٹ کا دھواں براہ راست اثر پذیر ہوتا ہے جو شدید نقصان دہ ہے حقہ نوشی کے منفی اثرات کے بارے میں بھی صورتحال واضح ہونی چاہیے ایک دور تھا کہ فوج میں سگریٹ پہنے والے جوانوں کو کے ٹو سگریٹ کے ماہانہ دو ڈبے مفت فراہم ہوتے تھے اب معلوم نہیں سگریٹوں کا تحفہ مل رہا ہے یا نہیں کے ٹو سگریٹ تو برسوں سے نہیں دیکھا اس کے متبادل کوئی سگریٹ فراہم کیا جارہا ہے یا نہیں اس حوالے سے معلومات یقینا دلچسپ ہوں گی۔سگریٹ نوشی کی طرح پان خوری کا شوق بھی وطن عزیز میں عام ہے یہ ایسا شوق ہے جس پر قوم کا خطیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں مگر حیرت ہے کہ حکومت نے کبھی پان خوری کے خلاف مہم نہیں چلائی تو یقینا ہمارے ہاں بھی چلے گی مگر شاید اقوام متحدہ کے بیشتر ممبر ملکوں کا مسئلہ پان خوری نہیں ہے نسوار کے نقصانات بھی ہیں مگر اس کے خلاف کبھی مہم سننے میں نہیں آئی کبھی یہ پختونخوں سے منسوب تھی اب ہر علاقے اور زبان میں مقبول ہے غریبوں کے لئے اس سے ارزاں نشہ اور کوئی نہیں ہوسکتا جس انداز سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر سگریٹ نوشوں کی تعداد کم اور نسوار استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔