Get Adobe Flash player

مودی نواز ملاقات۔۔۔ ملک عبد الرحمن جامی

میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا۔ ایک ٹی وی چینل کا نمائندہ اپنے کیمرے اور مائیک کے ساتھ ایک مکان کی چھت پہ دبکا بیٹھا تھا اور وہاں سے وہ لال مسجد کے واقعہ کی لائیو کوریج کر رہا تھا۔ مسجد کے اندر کی جانب سے گولیاں برس رہی تھیں اور وہ رپورٹر کہہ رہا تھا کہ یہ کیسی حکومت ہے جس کے دارالخلافہ کے عین دل پہ اتنے دہشت گرد وں کا قبضہ ہے۔وہ حکومت کے لتے لے رہا تھا۔ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ لال مسجد سے چند قدم کے فاصلے پہ ملک کے سب سے بڑے خفیہ ادارے کا صدر دفتر ہے۔دنیا کی اس نمبر ون ایجنسی کو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ یہاں بالکل ان کی بغل میں کیا ہورہا ہے۔یہی حال ٹی وی چینلز کے دوسرے رپورٹرز اور اینکرز کا تھا۔ ہر شخص حکومت کی رٹ کی دھائی دے رہا تھا۔ہر آدمی حکومت کو ہلا شیری دے رہا تھا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے۔حکومت بے بسی سے ان رپورٹرز اور اینکرز کے طعنے سن رہی تھی۔انہوں نے مل کے حکومت کو اس قدر زچ کیا کہ آپریشن شروع ہو گیا۔آپریشن شروع ہوا تو اس میں پکنک نہیں ہوتی ۔گولے پھٹتے ہیں ۔لوگ زخمی ہوتے اور مارے جاتے ہیں۔جب یہ ہوا تو حکومت کی سفاکی بربریت اور مظالم کو ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم کے ساتھ ملا یا گیا۔پروپیگنڈے کا وہ طوفان اٹھایا گیا کہ پورا ملک ہل کر رہ گیا۔ لال مسجد پہ فائرنگ کی کوئی تک ہی نہیں بنتی تھی۔ صرف ان کا پانی گیس اور بجلی بند کر دی جاتی تو وہ ہفتہ بھی اندر نہ رہ پاتے۔انہیں باہر نکلنا ہی پڑتا لیکن حکومت کے راز حکومت ہی جانتی ہے۔حکومت صبر نہ کر سکی اور اسے بے صبرکرنے میں جہاں اور بہت سے عوامل کار فرما تھے وہیں اس میں پاکستان کے نوزائیدہ الیکٹرانک میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔جس کا خمیازہ آج تک پوری قوم کیا بلکہ پورا خطہ بھگت رہا ہے۔ہم پچاس ہزار سے زیادہ جانیں قربان کر چکے۔خدا جانے ابھی اس جرم کی پاداش میں اور کتنا خون بہے گا۔ہمارے پڑوس میں انتخابات ہوئے۔ایک پارٹی کو شکست ہوئی ایک دوسری پارٹی بر سر اقتدار آگئی۔ وہ پارٹی سیکیولر ازم کی نہیں ہندوتوا کی علمبردار ہے ۔تسلیم! لیکن ہم اسلام کے علمبردار ہو سکتے ہیں تو دوسرا اپنے مذہب کا علمبردار کیوں نہیں ہو سکتا۔وہ بڑا ملک ہے ۔ایٹمی قوت ہے۔بڑی جمہوریت ہے اور ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بھی۔اس کا نو منتخب وزیر اعظم گجرات کے مسلمانوں کا قاتل ہے۔اس کے مسلم دشمن اور پاکستان مخالف جذبات اور خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔تو کیا ہم چھپ کے بیٹھ جائیں؟کیا ہم دنیا سے منہ موڑ لیں۔وزیر اعظم کو وہاں سے دعوت آئی ہم پچھلے دس سال سے مرے جا رہے ہیں کہ کسی طرح کوئی بھارتی وزیر اعظم ہمارے ہاں آ جائے۔ نہیں آتا تو کم از کم ہمیں ہی بلا لے۔ یوں تو ہم مرتے مر جاتے ہیں لیکن کسی بھی معاملے میں بھارت کا نام لینے سے یوں ہچکچاتے ہیں جیسے دیہاتی دلہن اپنے میاں کا نام لیتے ہوئے شرما جاتی ہے۔ہمارا یہ عجیب رویہ ہے۔ ہمارے ہاں جس کا جو کام ہے اسے کرنے نہیں دیا جاتا یا وہ کرتا نہیں۔دوسروں کے معاملے میں لیکن ٹانگ اڑانا ہم اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔نواز شریف جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک خوشی کی تقریب میں دشمنوں کی دعوت پر ان کے ملک گئے۔ یہ تو ایک رسمی تقریب تھی۔ مذاکرات کا نہ موقع تھا نہ محل۔نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے ہیں۔مودی اس عہدے پہ بالکل نئے ہیں۔نواز شریف نے اس موقع کا پورا فائدہ اٹھایا۔ان کی بدن بولی ایک وزیر اعظم کے شایان شان تھی جبکہ مودی آداب مہمان نوازی نبھاتے ہوئے کچھ دبے دبے نظر آئے۔نواز شریف کا اعتماد بھی بلا کا تھا۔ جس طرح انہوں نے مودی کے مطالبات کے جواب میں لاہور ڈیکلریشن کی بات کی اور امن کی ضرورت پر زور دیا۔ ماضی کے قضیوں کو بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا یہ ان کی برتری کا واضح ثبوت ہے۔اس گفتگو سے نواز شریف دنیا کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ پاکستان ایک کھلے دل کا اور امن پسند ملک ہے جو مودی جیسے بنیاد پرست فتنہ گر کے ساتھ بھی معاملات حل کرنا چاہتا ہے۔نواز شریف دورہ کر کے واپس بھی آ چکے لیکن اب پاکستانی چینلز پہ ماتمی دستے اتر رہے ہیں۔رنگ میں بھنگ ڈالنے کی تیاریاں ہیں۔ کچھ از کار رفتہ بزرگ ٹی وی چینلز پہ بیٹھ کے دور دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔ کسی کو گلہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں سے مشاورت نہیں کی۔کوئی شکوہ کر رہا ہے کہ کشمیر کی بات کیوں نہیں کی۔غرض جتنے منہ ہیں اتنی باتیں۔ شادی کی دعوت پہ زمین کے بٹوارے کی بات تو کوئی دیہاتی بھی نہیں کرتا۔ نواز شریف تو ایک ملک کے حکمران ہیں۔کوئی ان ماتم پارٹیوں کو سمجھائے کہ ہم دنیا کی بہترین فوج کے مالک ہیں۔ ہم ایٹمی قوت ہیں ۔ہم دنیا کی بہترین فضائیہ اور کمال کے میزائیل پروگرام سے لیس ہیں۔ ہم جے ایف تھنڈربنا رہے ہیں۔ ہم رس گلے نہیں کہ کوئی ہمیں منہ میں ڈال کے نگل لے گا۔ہم متحد نہیں ہم میں اتفاق نہیں لیکن کسی دشمن کی ہم پہ پہلی نظر پڑے گی تو ہم متحد بھی ہو جائیں گے اور متفق بھی۔