برطانوی پولیس سے سیکھنا ہوگا۔۔۔ظہیر الدین بابر

تین سال سے زاِئد کا گزر جانے کے باوجود ایم کیوایم کے سابق کنونیئر ڈاکڑ عمران فاروق کے قتل میں ملوث ملزمان کے کیفرکردار تک پہنچنے کی امید تاحال ناامیدی میں نہیں بدلی۔ حال ہی میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے محسن علی سید اور کاشف خان نامی دو نوجوانوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ دونوں ستمبر دوہزار دس کے اوائل میں برطانیہ پہنچے اور ڈاکڑ عمران فاروق کے قتل کی شام ہی لندن سے روانہ ہوگئے۔ میڑوپولٹین پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر خیال ظاہرکیا کہ مطلوب افراد فی الحال پاکستان میں ہیں جبکہ ان کے تفتیش کار پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں۔ مذکورہ مقدمہ میں بتدریج پیش رفت ہورہی ۔گزشتہ روز ہی برطانوی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر داخلہ سے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس سلجھانے میں پاکستان کو برطانیہ کی مدد کرنا ہوگی جس پر چوہدری نثار علِِی خان نے کہا کہ پاکستان اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریگا۔ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں پوچھ گچھ اور برطانیہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی رہائشگاہ سے ملنی والی بھاری رقوم کو بنیاد بناتے ہوئے ایم کیوایم کا کہنا ہے کہ الطاف بھائی کیخلاف ملکی وعالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے گھنائونی سازش تیار کی گئی ہے۔ خود الطاف حسین اور ایم کیوایم کے دیگر رہنمائوں نے جلسے جلوسوں میں بھی کھلے عام برطانوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔خود ساختہ جلاوطنی کو سالوں بیت جانے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی جانب سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کی کوششوں کو بھی لندن میں جاری قانونی کاروائی کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ڈاکڑعمران فاروق قتل میں کون کون ملوث ہے یا یہ کہ انھیں منظر سے ہٹانے کا بینادی محرک کیا بنا۔ برطانوی پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات میں ڈاکڑ عمران فاروق الگ سیاسی جماعت بنانے کے حوالے سے سرگرم تھے اس ضمن میں برطانوی پولیس ان کی جانب سے دوہزار دس میں نیا فیس بک اکائونٹ اور روابط کو بھی اہم قرار دے رہی ہے۔ بظاہر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ پاکستانی سیاست میں کلیدی اثرات کا حامل ہوسکتا ہے ۔ بعض حلقوں کے مطابق کراچی کی سیاست میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ کسی بھونچال سے کم نہ ہوگا۔ مقدمہ میں اب تک ہونے والی پیش رفت پتہ دے رہی کہ قتل کی وجہ سیاسی بھی ہوسکتی ہے۔ معاملہ میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ ڈاکڑ عمران فاروق ملک کے پہلے سیاست دان ہونگے جن کے قاتل اپنے انجام کو پہنچے۔ افسوس کہ جمہوریت اور نظام عدل ہونے کے باوجود ہمارے ہاں ایسی مثالِیں معروف نہیں جن میں عام شہری تو درکنار اہم شخصیات کے قاتل بھی پکڑے جائیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل حالیہ قومی تاریخ کی المناک مثال ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادیوں کی پانچ سالہ حکومت کے باوجود بی بی کو زندگی سے محروم کرنے والے قانون کی گرفت سے آزاد رہے۔ ناجانے اس الزام میں کہاں تک صداقت ہے کہ پی پی پی کے سیاسی وارث ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقدمہ میں پس و پیش کے مرتکب ہوئے۔ خود بی بی کے دور حکومت میں ان کے بھائی مرتضی بھٹو کو سرعام قتل کیا گیا مگر نہ مقدمہ کی تسلی بخش تحقیقات کی گئیں اور نہ کوئی مجرم سزا یافتہ کہلایا۔ انسانی جان کی حرمت کا تصور نہ ہمارے ہاں پروان چڑھا اور نہ ہی سیاسی اشرافیہ نے اس ضمن میں اقدامات اٹھانے کی زحمت گوارا کی۔ شائد ہم بھول رہے کہ جمہوریت شہریوں کی جان ومال کی حقیقی حفاظت بنا بے معنی ہے۔ ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں مستقل مزاجی سے لندن پولیس کی تحقیقات بتا رہی ہیں کہ سماجی استحکام میں ریاست کا کردار کیا ہے۔ اپنی سرزمین پر قانون کی حاکمیت قائم کرنے کی کوشش میں ایسا ہونا خارج ازامکان نہیں کہ برطانوی تحقیقاتی ادارے سب ہی کرداروں کو اس انداز میں ناکام کرڈالیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ ڈاکڑ عمران فاروق کے قاتلوں کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ انھوں نے اپنے حریف کو ختم کرنے کے لِیے برطانوی سرزمین کا انتخاب کیا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے کہ جس طور پر سکارٹ لینڈ پولیس تحقیقات آگے بڑھا رہی اس سے خود برطانیہ کے سیاسی مفادات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ مہذب ممالک میں قانون کی حاکمیت کا عالم یہی ہے کہ بسا اوقات اس کی زد میں ان کی ایسی پالیسیاں بھی نشانہ بنی جو بظاہر ملک و قوم کے مفاد میں تھیں۔اس ضمن میں ایک مثال گوانتاناموبے میں امریکی قید خانہ کی بھی ہے جس کی بیرون ملک تعمیر کی وجہ یہی رہی کہ امریکی قانون اجازت نہیں دیتا کہ مروجہ قوانین پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اگر ہمارے ذمہ داران میں سیکھنے کی صلاحیت ماند نہیں پڑ گئی تو ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی پولیس کی تحقیقات ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے۔ جدید دنیا میں ثابت ہوچکا کہ امن ، ترقی اور استحکام کا واحد راستہ صرف اور صرف قانون کی حکمرانی میں ہے۔ مگر سوال تو یہ کہ ایسے ملک میں پولیس شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کا فریضہ کس طور پر ادا کریگی جہاں منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی منشا و مرضی سے ہٹ کر علاقہ کے تھانیدار کا تقررو تبادلہ تاحال ممکن نہیں۔