کیا مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دیں گے؟۔۔۔ریاض احمد چوہدری

بی جے پی کے وزیر کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کرانے کی بات سے بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مودی کابینہ کے ایک اور وزیر نیتن گڈکڑی نے بھی اس معاملے پر ساتھی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 ہی مقبوضہ کشمیر میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بی جے پی سرکار مقبوضہ کشمیر میں سیاحت کے فروغ اور دیگر اقدامات کے ذریعے ترقی لانا چاہتی ہے مگر اس کی راہ میں آرٹیکل 370 رکاوٹ ہے جسے دور کیا جانا چاہئے ۔ادھر مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئین کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کرائی نہیں جا سکتی اس کے لئے اتفاق رائے ضروری ہے اور دستور ساز اسمبلی کا اجلاس بلانا پڑے گا جو آسان کام نہیں دوسری طرف انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے سرگرم رہنما رام مادھو نے کہا کہ آرٹیکل370 رہے نہ رہے کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور رہے گا۔بقول رام مادھوعمر عبداللہ کی باتیں احمقانہ ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیر ان کے باپ کی جاگیر نہیں بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت کے خاتمے کی بات کی ۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے ساتھ تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔'انتخابی منشور اور بات ہوتی ہے لیکن اقتدار کے تقاضے اور اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ کشمیری اس کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔ مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 ختم کرنے کی جو بات کی ہے اس سے کشمیر میں آزادی کی تحریک تیز ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی مسئلہ کشمیر پر بھارت کی مخالفت میں تیزی آئے گی اس لئے یہ سوچ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سٹیٹس کو پر رہنے دیں اور دیگر معاملات بہتر کریں۔مقبوضہ کشمیر کی جہادی تنظیموں نے ان کے خلاف میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔آرٹیکل 370 کی موجودگی میںبھارتی حکومت اب تک خواہش کے باوجود جموں اور لداخ کو کشمیر سے الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ نہ ہی پنجاب کی طرح وہ یہاں آبادی کا تناسب تبدیل کر سکتی ہے۔ اب یہ آئینی تبدیلی صرف اسی مقصد کیلئے کی جا رہی ہے۔ تحریک المجاہدین کے کمانڈر ابو حمزہ نے کہا ہے کہ ہم نے بندوق کا راستہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور فوجی طاقت سے تحریک کو دبانے کی پالیسی کے ردعمل میں اختیار کیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں پر اپنی زمین تنگ کر دی ہے۔ بھارت کا فوجی ہماری زمین پر آکر ہماری شناختی پریڈ کرتا ہے یہ ہماری توہین ہے۔ بھارت کے ناجائز اور جبری قبضے کو ہم نے چیلنج کیا ہے۔ غلامی کے خلاف لڑنا کوئی جرم نہیں اور نہ ہی اسے دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا مودی کو یہ نظر نہیں آتا کہ بھارت کی 8 لاکھ فوج کشمیر پر قبضہ کئے بیٹھی ہے کشمیر میں آزاد میڈیا کو جانے نہیں دیا جاتا ان کے اپنے صحافی بھی کشمیر کے متعلق کچھ لکھیں تو انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔پاکستان کا مؤقف کہ کشمیرمیں رائے شماری کرالی جائے وہ تو بھارت مانتا نہیں وہ اقوام متحدہ کی قرار داد سے بھی راہ فرار اختیار کرتا ہے ہمارے دریاؤں کا پانی بھی بھارت نے روک رکھا ہے۔ کشمیر میں پاکستان آنیوالے دریاؤں پر ڈیم بنا ئے جا رہے ہیں۔پانی کا رخ موڑا جا رہاہے' سیاچن پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سیاچن موت کی وادی ہے دونوں اطراف سے بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے افواج بے رحم موسم کے رحم و کرم پر ہیں پھر سرکریک کا معاملہ ہے۔ غرض بھارت نے پاکستان کی تباہی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔جہاں تک بھارت میں اقلیتوں سے سلوک کا تعلق ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں 32 ہزارمسلم کش فسادات ہوئے' مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی' اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا گیا' سکھوں کے گولڈن ٹیمپل کے ساتھ کیا ہوا۔ عیسائیوں کے گرجے جلائے گئے انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ہم اگر تجارت کی بات کرتے ہیں اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں یہ بھارت کا ایشو ہے اور پاکستان سے تجارت کا سارا فائدہ اسی کو ہو گا کیونکہ اس طرح کی تجارت سے ہماری زراعت تباہ ہوجائے گی ' کسان بھوکے مر جائیں گے' محنت کش بیروز گار ہو جائیں گے اور ہم اپنے دشمن کو معاشی فائدہ پہنچا رہے ہوں گے۔