گفتگو۔تقریر ۔خطابت۔۔۔میاں انوار الحق رامے

انسانوں کا سب سے بڑا وصف اظہار خیال ہے۔آپ اپنی گفتگو کے ذریعے اپنے خیالات ،افکارات ،تصورات ،اعتقادات کو دوسرے تک باآسانی پہنچاسکتے ہیں ۔جب آپ اپنی گفتگو کا آغاز کریں تو چند چیزوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا آپ کیلئے ازحد ضروری ہے۔آپ کو اپنی ذات پر بھر پوراعتماد ہونا چاہیے۔جس موضوع پر آپ گفتگو کرنا چاہ رہے ہوں اُس کے بارے میں آپ کی معلومات کامل وجامع ہونی چاہئیں ۔آپ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے بلا حیل وحجت براہ راست گفتگو کا آغاز کریں ۔اگر آپ اپنی گفتگو کو قرینے سے آگے بڑھائیں گے تو آپ اپنے خیالات کے ذریعے دوسروں کو متا ثر کر کے اپنی پیروی پر آمادہ کریں گے ۔آپ کے اند ر گفتگو کی صلاحیت آپ کی خوبیوں کو جَلا بخشتی ہے ۔اور دوسرے لوگوں سے آپ کو ممتازوممیز کرتی ہے۔آپ کسی بھی اورسماجی اور معاشرتی سرگرمی کی بناء پر معتبراور موقر نہیں بن سکتے ۔جتنی جلدی گفتگو اور فن تقریر کی بناء پر آپ لوگوں میں اپنا مقام بہتر واہم بنا لیتے ہیں ۔گفتگو اور تقریر سے آپ کو اپنے اندر ایک عظیم قو ت کا احساس ہوتا ہے ۔یہ عمل آپ کو دوسرے لوگوں کی سطح سے بلند کردے گا ۔اگرآپ تاریخ کے جھروکوں کا جائز ہ لیں تو فتوحات کی تاریخ میں سپین کے ساحل پر طارق بن زیاد کا کشتیوں کو جلا کر فو ج سے خطاب کرنا اور اعتماد سے بھر پور انداز سے تقریر کرتے ہوئے مجاہدین کو جلتی ہوئی کشتیوں کی طرف متوجہ کرکے کہنا کہ اب شکست کی صورت میں واپس جانے کی امید ختم ہوگئی ہے ۔اب ایک ہی راستہ ہے ۔مکمل فتح اور آگے بڑھنے کا راستہ۔کیوں نہ آپ اسی طرز پر تقریر کرتے ہوئے حاضرین کا خوف دل سے نکال دیں اور بھر پور اور پُراعتماد انداز میں اپنے خیالات کولوگوں تک پہنچائیں ۔اعتماد اور بے خوفی کے بعد دوسرا اہم عنصر موضوع کے متعلق کامل علم ہونا ضروری ہے۔ آپ کو اُس وقت تک تقریر کا آغاز نہیں کرناچاہیے جب تک آپ کو کامل یقین نہ ہوجائے کہ آپ کے پاس کہنے کیلئے کیا مواد ہے۔کیا یہ مواد اورمعلومات متعلقہ موضوع کے بارے میں درست اور معیاری ہیں ۔اگر آپ واقعتاََ کامل طور پر تیار ہیں تو یہ صلاحیت آپ کو پریشان ہونے اور گھبراہٹ پر قابو پانے میں بہت حد تک معاون ثابت ہوگی۔آپ کے علم میں ہوگا دنیا ہمیشہ بہادر اور جرأت مند انسانوں پر فریفتہ ہوتی ہے ۔تقریر کرنے کیلئے جرأت وہمت سے آگے بڑھیں مسکراہٹ اور اعتماد کے ساتھ لوگوں کو محسوس کرائیں کہ آپ لوگوں کی بے جاںروحوں کو زندہ وبیدار کرنے کے فن سے آشنا ہیں ۔آپ خود کو پیغام رساں سمجھیں لوگوں کو محسوس کرائیں کہ آپ کے پیغام میں ان کیلئے مسرت وراہ نجات ہے۔آپ کو الفاظ کے چناؤ میں مہارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے فقروں کی ادائیگی میں سلیقہ اور بار بار کی مشق سے آپ کے اعتماد میں بے حد اضافہ ہوگا۔آپ کی زبان کی لکنت اور ادائیگی میںرکاوٹ دور ہوجائے گی۔جب آپ بولنے کے بار بار تجربہ سے گزریں گے تو آپ کندن بن جائیں گے ۔آپ اگر تجربہ کار ہوجائیں گے تو خوف پر خود بخود قابو پالیںگے ۔آپ کے اند ر زبردست اور مستقل خواہش بہترین مقرر بننے کی موجود ہونی جاہیے۔جوآپ کیلئے جذبۂ محرکہ کے طور پر کام آئے گی ۔اپنے اندر بھر پور ولولہ پیدا کریں جو آپ کو معاشرتی وسماجی سطح پر بلند کرے اورآپ کی شہرت کو چار چاند لگائے۔تقریر اور گفتگو کرنے سے پہلے اپنے آپ کوتیاری کے مرحلے سے گزاریں ۔تیاری کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ موضوع کے متعلق سوچنا غوروفکر کرنا،پرانی یادداشتو ں کوکھودنا ۔ایسی چیزوں وواقعات کا انتخاب کرنا جس سے آپ متاثر ہوئے ہوں ۔ان کی نوک پلک درست کرکے ان کو ایک موزوں سانچے میں ڈھالنا۔اس کام کو انجام دینے کیلئے توجہ اور پر مقصد سوچ کی ضرورت ہے آپ موضوع پر خود غورو خوض کریں اس قدر غوروخوض کریں کہ آپ اس سے آشناہو جائیں ۔تقریر کی تیاری کے وقت سامعین کا بغور مطالعہ کریں ان کی خواہشات اور رجحانات کے متعلق سوچیں ۔دوران تقریر ان کی توقعات کو سامنے رکھ کر اپنا نکتہ نظر بیان کریں ۔آپ تقریر کی تیاری کیلئے بلا جھجک پبلک لائبریری میںجائیں اور وہاں کے لائبریرین کو اپنی ضرورت سے آگاہ کریں ۔وہ آپ کو آپ کی ضرورت کے مطابق کتابوں کے انبار سے مخصوص مواد فراہم کرے گا۔کوشش کریں تقریر کے دوران زیادہ مواد اور اصلاحات فراہم کریں ۔اچھی تقریر ہمیشہ وہ ہوتی ہے جو مقررہ وقت کے اندر مناسب مواد سے مزین ہو ۔جسطرح کوئی عقل مند شخص نقشے کے بغیر اپنے مکان کی کی تعمیر شروع نہیں کرے گا اس طرح وہ اپنی تقریر کا خاکہ تیار کئے بغیر اسے کیوں شروع کرے۔ ایک تقریر ایک ایسا سفر ہو تی ہے جس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔اس لئے اس کا خاکہ ضرور تیار کرلینا چاہیے ۔جو شخص بے ربطی میں تقریر کرتا ہے عمر بھر وہ اسی روگ میں مبتلا رہتا ہے ۔نپولین کے الفاظ ہیں کہ جنگ کا فن ایک سائنس ہے جس میں کو ئی ایسی بات کامیاب نہیں ہوتی جسے پہلے نہ سوچا گیا ہو۔یہ بات فن تقریر پر بھی اتنی صادق آتی ہے جتنی جنگ کے فن پر ۔خیالات کو بہترین اندازسے الفاظ کا جامہ پہنانے کیلئے ضروری ہے کہ خیالات کا جائزہ لیا جائے ۔تقریر کا مقصد صرف ٹھوس حقائق ہی نہیں ہوتا بلکہ حاضرین کے دلوں کو چھوکر ان کے جذبات کو بھڑکا کر اسے نقطہ عروج تک لے جانا ہوتا ہے ۔تقریر کو پورے خلوص اور جذبات میں رچ بس کر پیش کرنا چاہیے ۔کامیاب تقریر کیلئے کوئی مستقل اصول مرتب نہیں کیے جاسکتے لیکن چند چیزیں اس سلسلے میں معاون ہوسکتی ہیں ۔موضوع کے متعلق حقائق بیان کئے جائیں اور ان کے بارے میں پُرزور دلائل پیش کئے جائیں اور ان پرعمل پیرا ہونے کی درخواست کی جائے ۔کسی غلط کام کے بارے میں ذکر کیا جائے پھر بتایا جائے اس طرح اس کی اصلاح کس طرح کی ممکن ہے پھر اس کے لئے لوگوں کی مدد طلب کی جائے ۔ کوئی بھی کامیابی محنت شاقہ اور پیشگی سوچ بچار کے بغیر ممکن نہیں۔کوئی بھی معرکہ اور میدان مسلسل کاوش کے بغیر زیر نہیں کیا جاسکتا۔تقریر کو لکھنے کی عادت سے آپ کی قوت فکر زیادہ تیز ہوتی ہے ۔یہ عادت آپ کے خیالات کو واضح کرتی ہے۔آپ انہیں اپنی یاداشت کی لڑی میں پروسکتے ہیں۔یہ آپ کی ذہنی پریشانی میں کمی کرسکتی ہے۔