Get Adobe Flash player

مضبوط پارلیمنٹ مگر کیسے۔۔۔ضمیر نفیس

 جمہوری نظام میں جب مضبوط پارلیمنٹ کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب قائمہ کمیٹیوں کا موثر کردار ہوتا ہے اور یہ کمیٹیاں اسی وقت موثر کردار ادا کر سکتی ہیں جب ان کی تحقیقات اور سفارشات پر حکومت پوری طرح عملدرآمد کرے جس طرح قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان میں وقفہ سوالات دراصل حکومت کے احتساب کا دورانیہ ہوتا ہے جس میں ارکان اپنے سوالات اور حتمی سوالات کے ذریعے مختلف وزارتوں کی کارکردگی اور حکومتی پالیسیوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اسی طرح قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کے دوران متعلقہ وزیر' سیکرٹری اور دیگر حکام شریک ہوتے ہیں اور زیر غور ایجنڈا کی روشنی میں کمیٹی کے ارکان کو کارکردگی کے حوالے سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں قائمہ کمیٹی کی کمپیوزیشن یہ ہوتی ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہوتی ہے اور اس کے چیئرمین کا انتخاب بھی ارکان کے ووٹوں کے ذریعے ہوتا ہے لیکن جب کوئی وزیر یا وفاقی سیکرٹری کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے سے گریز کرے اور ارکان انتظار کرتے رہ جائیں تو اس کا واضح مطلب ہے کہ حکومتی سطح پر قائمہ کمیٹی کو اہمیت نہیں دی جاتی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی محکمہ سے  متعلقہ قائمہ کمیٹی کوئی سفارش کرتی ہے اور متعلقہ وزارت اور حکومت اس سفارش کو ردی کی ٹوکری کے سپرد کر دیتی ہے تو اس کا بھی یہ واضح مطلب ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کو مضبوط اور طاقتور نہیں دیکھنا چاہتی' قائمہ کمیٹی کا مطلب پارلیمنٹ ہے اس کے فیصلے کی وہی اہمیت ہے جو قومی اسمبلی یا سینٹ کے ایوان میں طے پانے والے کسی فیصلے کی ہے حکومتیں عام طور پر پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے دعوے تو کرتی ہیں لیکن درحقیقت وہ اسے مضبوط اور طاقتور نہیں دیکھنا چاہتیں' اس لئے کہ مضبوط پارلیمنٹ حکومت کے سخت احتساب کا فریضہ سرانجام دیتی ہے اور قدم قدم پر اسے من مانے فیصلوں سے روکتی ہے۔ اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہر فیصلہ اس کے فورم پر طے پائے۔وزیراعظم یا وزیر اپنے طور پر پارلیمنٹ سے بالاہی بالا فیصلے نہ کریں۔ سارے فیصلے عوام کے منتخب نمائندے کریں۔ مگر یہ کیفیت حکومت کے لئے قابل قبول نہیں ہوتی۔ اگر وزیراعظم اور حکومت چاہے تو کسی وزیر یا سیکرٹری کی جرات نہیں کہ کسی کمیٹی کے اجلاس سے غیر حاضر رہے یا اس کی سفارشات کو ہوا میں اڑا دے یہ سب کچھ حکومتی شیہ کے نتیجے میں ہوتا ہے تازہ ترین مثال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کی ہے قائمہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار ڈاکٹر امجد کو ہٹانے اور ان کے خلاف مقدمات کے اندراج سے متعلق وزارت کو سفارشات ارسال کیں مگر وزارت نے ان سفارشات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جو چیئرمین خالد حسین مگسی کی صدارت میں منعقد ہوا اس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ سمیت وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی مذکورہ اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے پی ایم ڈی سی کے معاملے پر وزارت ہیلتھ سروسز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی ایگزیکٹو باڈی کو اور رجسٹرار پی ایم ڈی سی کے حوالے سے سفارشات پیش کی تھیں تاہم دو ماہ گزرنے کے باوجود ان پر عمل نہیں کیا گیا اس کے برعکس وزارت  نیشنل ہیلتھ سروسز نے کمیٹی کے احکامات کے خلاف کورٹ میں تحریری طور پر لکھ دیا کہ ہمیں رجسٹرار پی ایم ڈی سی ڈاکٹر امجد پر کوئی اعتراض نہیں وہ بحیثیت رجسٹرار اپنی خدمات جاری رکھ سکتے ہیں کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ رجسٹرار کی موجودگی کمیٹی کے منہ پر طمانچہ ہے وزیر مملکت اجلاس میں موجود تھیں انہوں نے کورٹ میں دی جانے والی تحریر کے حوالے پر خاموشی اختیار کی گویا قائمہ کمیٹی نے جو سفارش کی وزارت نے اس کے بالکل الٹ کورٹ میں بیان دیا۔ وزارت کی بیورو کریسی وزیر مملکت اور رجسٹرار ایک طرف ہیں اور قائمہ کمیٹی دوسری طرف جسے حکومت نے پچھاڑ کر رکھ دیا ان حالات میں مضبوط پارلیمنٹ کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔