Get Adobe Flash player

بلوچستان دہشت گردی میں افغان خفیہ ایجنسی ملوث ہے!۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کے مطابق بلوچستان میں لاشیں پھینکنے والا خفیہ ہاتھ بے نقاب ہونے سے پتہ چلا کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے۔ بلوچستان میں مٹھی بھر غیر ملکی آلہ کار بدامنی کے ذمہ دار ہیں جبکہ ان کے پیچھے افغان خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے۔ اسی لئے سرحد پر سیکیورٹی سخت کردی گئی اور خندقیں کھودی جارہی ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، دہشت گردوں کی سرپرستی افغان ایجنسی نیشنل ڈیفنس سکیورٹی کر رہی ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بلوچستان میں افغان ایجنسیوں کی مداخلت کے مصدقہ ثبوت حاصل جبکہ دہشت گرد گروپوں کے اہم افراد بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ گرفتار دہشتگردوں نے دوران تفتیش چمن میں رواں سال کی گئی دہشتگردی کی کئی کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے جن میں 24 جنوری کو چمن دھماکہ، 3مارچ کو سکیورٹی فورسز پر حملہ ، 9 مارچ کو چمن پولیس سٹیشن پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ، 9 مارچ کو باب چمن دھماکہ، 18 مارچ کو لیویز لائن چمن میں کیا گیا دھماکہ شامل ہیں۔ ان دھماکوں میں متعددسکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو افغان پولیس کا آئی جی عبدالرزاق سپورٹ کر رہا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں افغانستان کے علاقے سپن بولدک کا رہائشی عبداللہ اور اس کا پاکستانی ساتھی گرن شامل ہے جو چمن کا رہنے والا ہے۔ ان دہشت گردوں نے ٹریننگ افغانستان میں حاصل کی۔ ان دہشت گردوں نے قندھار میں جنوری 2013ء میں افغان بارڈر پولیس کے آئی جی سے ملاقات کی۔  ملاقات میں بی ایل اے کے شر جان بگٹی بھی شامل تھے۔ دہشت گردی کے علاوہ یہ افراد سمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔ یہ افراد چمن میں ہونے والے دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث ہیں۔ افغانستان میں لطیف اللہ محسود کی گرفتاری کے بعد اس گروپ کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ افغان انٹیلی جنس نیشنل ڈیفنس سکیورٹی پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔  بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی خفیہ موساد اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کی بڑھتی ہوئی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نے حساس اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ''را' کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستانی اداروں نے حاصل کر لئے ہیں۔  ''را'' اورافغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن آرمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ افغانستان میں موجود ''را'' کے حکام ان دہشت گردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کے لئے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی کے قریبی کمانڈر ریاض گل بگٹی کو احمد جاوید نامی ایک افغان کاروباری شخصیت ظاہر کر کے بھارت کا ویزا دیا گیا۔ ریاض گل بگٹی نے نئی دہلی میں بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتیں کیں اور تجویز پیش کی کہ بلوچ نوجوانوں کی عسکری تربیت کیلئے بلوچی انسٹرکٹر تعینات کئے جائیں تاکہ انہیں آسانی حاصل ہو۔ اس تجویز پر ''را'' نے اپنے اور افغان انٹیلی جنس کے حکام کے لئے بلوچی زبان کے کورس بھی کروائے۔ ''را'' کے ایک ونگ نے تمام عالمی فورمز پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔ بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا میں مقیم سیاسی شخصیت طارق فاتح کو بھی ''را''اس مقصد کے لئے استعمال کر رہی ہے فروری 2013ء میں (UNHCR) کے اجلاس کے موقع پر طارق فاتح نے پاکستان کے خلاف خوب بھڑاس نکالی جس کے بعد طارق فاتح نے بھارت میں ''را' کے افسران وکرم سود اور اے ایس دولت سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی حساس اداروں نے کراچی میں دہشت گردی میں ملوث افراد کی افغان سرحد پر بھارتی افسران سے ملاقاتوں کے شواہد بھی حاصل کئے ہیں اسی طرح سوات سے نکل کر افغانستان میں پناہ لینے والے مولانا فضل اللہ کی بھی ''را'' اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی سے ملاقاتوں کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کئے گئے ہیں۔ کراچی، بلوچستان اورپاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو کئی ملین ڈالرز کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات بھی بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد کوئی شبہ نہیں رہا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔اگر واقعی ٹھوس ثبوت ہیں تو پاکستان معاملہ حکومتی سطح پر اٹھائے۔