یوکرین،عالمی طاقتوں کے لئے لمحہ فکریہ ۔۔۔میاں انوار الحق

روس اور یورپی ممالک کے درمیاں سالانہ تجارت کا حجم 640ارب ڈالر ہے ،روس یورپ کو تیل اور گیس فراہم کرتا ہے ۔مغرب نے زبانی طور پر کریمیا کے روس سے الحاق کی بھر پور مذمت کی تھی ۔ابتدا ء میں روسی وزیر خارجہ سر گئی لاروف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیاں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے ۔ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد مغربی ممالک کی طر ف سے کئی عمل اقدامات کاآغاز ہواابتدائی طور پر روس کی G8تنظیم کی رکنیت کو معطل کیا گیا ۔امریکہ نے بھی روس کومتنبہ کیا کہ اگر وہ بازنہ آیا تو مزید اقتصادی پابندیاں لگا ئی دی جائیں گی ۔امریکہ اور مغربی ممالک کے درمیاں اندرون خانہ اس بات پر اتفاق ہے کہ روس کا کریمیا کے ساتھ الحاق کسی بڑی کاروائی کا تقاضا نہیں کرتا ہے ۔کیونکہ کریمیا کی اکثریت روسی زبان استعمال کرتی ہے ۔15مارچ 2014ء کو کریمیا میں ریفرنڈم منعقد ہو اتھا ۔جس میں روسی بولنے والوں کی اکثریت نے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔اس کے بعد کریمیا کے حکمرانوں نے روس میں باقاعدہ شمولیت کی درخواست دی تھی جسے روسی پارلیمانی نے شرف قبولیت بخشا تھا ۔اس طرح کریمیا 1954ء کے بعد دوبارہ روس کا حصہ بن گیا ۔ اٹھا رویں صدی میں روس اور عثمانی حکمرانوں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں روس نے کریمیا کو عثمانی  حکمرانوں سے چھین کر یوکرائن جو پہلے ہی روس کے زیر نگیں اُس کا حصہ بنالیا تھا ۔روس کے نزدیک کریمیا کی بے حد اہمیت ہے روس گرم پانیوں تک اس کے ذریعے رسائی کا خواہش مند ہے کریمیا کی بحراسود (بلیک سی) میں موجود بندرگاہوں نے روس کو یہ سہولت فراہم کردی ہے اسی لئے روس کا بحری  بیڑہ کریمیا کی بندرگاہ سیوسٹا پول پرمستقل قیا م کرتا ہے۔ یہ بحری اڈہ روس کو بحیرہ روم اور ساری دنیا تک رسائی فراہم کرتا ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ روس دنیا سے بحری تعلقات کی شاہ رگ کریمیا کی بندرگاہیں ہیں ۔سیوسٹال پول ایک بہترین بندرگاہ ہے ۔اور تاریخ طور پر اہمیت کی حامل ہے ۔1954ء میں مسٹر خروشیف نے کریمیا کو ایک اندرونی تبادلے کے ذریعے یو کرائن جو روس کی ریاست تھی حصہ بنا یا تھا ۔کریمیا کے روس سے الحاق سے ایک بہت بڑا سوال جنم لیتا ہے کہ لسانی بنیادوں پر ملکوں کی توڑ پھوڑ جائز ہے ۔ایک زبان بولنے والوں کو بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے فوجی مداخلت قانونی و جائز ہے ۔لسانیت کو ہوا دینے سے  دنیا کی موجودہ جغرافیائی سرحدیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھر جائیںگی۔دور جدید میں قابض فوجوں نے افغانستان ،عراق،لیبیا کو بھی کسی دوسرے ملک سے الحاق پر مجبور نہیں کیا ۔1974ء میں ظاہر شاہ کا تختہ الٹنے پر روس نے ایسے ہی اقدامات کئے تھے جس کی اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی تھی ۔پیوٹن کا خیال ہے کہ مغرب ایک خاص حد سے آگے نہیں جائے گا اور مغرب کا زیادہ سے زیادہ ردعمل روس کیلئے قابل برداشت ہوگا کیونکہ مغرب کی اقتصادی ترقی کا انحصار روس کی گیس اور تیل کی سپلائی سے وابستہ ہے ۔یوکرائن میں امن و امان کو بحال کرنے کا لیور روس کے ہاتھوں میں ہے ۔امریکی پابندیوں نے روسی صدر پیوٹن کے دونائب وزرائے اعظم اور 17بڑے کاروباری اداروں کو متاثر کیا ہے لیکن ماہرین معیشت کا خیال ہے یہ پابندیاں لگا کر اس کی معیشت کو اپاہج بنانا چاہتے ہیں ۔موجودہ حالات کے تناظر میں ممکن نظر نہیں آتا ہے ،یوکرائن کے قضیئے نے بہت عرصہ بعد امریکی اثرات نے یورپ کو زیر دست کرنے کے بعد آگے بڑھنے کی نمبر داری حاصل کی تھی ۔یو کرائنی قضیئے نے یورپ یونین کی منتشر ہوتی ہوئی قوتوں کو دوبارہ خوف اور عدم تحفظ کے نتیجے میں متحد کردیا ہے ۔آج یورپی ممالک جس قدر متحد و متفق ہیں گزشتہ عشرہ میں اس کا تصور محال تھا ۔دوسری اہم پیش رفت نیٹو اتحادی کے وجود کے بارے میں ہوئی ہے ۔افغانستان سے غیر معززنانہ اور غیرمعتبربانہ واپسی نے نیٹو اتحاد کے جواز کر ختم کردیا ہے۔نیٹواتحادی امریکی قیادت میں مسلمان ممالک کو عبرت نا ک سبق سکھا نے کے بعد اپنے لئے نئے ٹارگٹ تلا ش کرنے میں دشواری محسوس کر رہی تھی ۔لیکن روس کی جارحیت نے نیٹو اتحاد کو دوبارہ تازگی اور زندگی بخش دی ہے پورپی ممالک آجکل زبردست کساد بازی کا شکار ہیں اور مئی کے آخر میں پورپی یونین کے انتخابات بھی منعقد ہورہے ہیں ۔اس لئے پوری یونین کا خیال تھا کہ ان کیلئے سکون و آرام کے لمحات آگئے لیکن یہ آرزؤ  بھی تکمیل کے مراحل طے کرتی نظر نہیں آرہی ہے ۔روس نے امریکی اقتصادی پابندیوں اور یورپی معاشی دباؤ کا جواب دینے کیلئے مشرقی یوکرائن میں روسی جاننے والوں کو اپنے حق میں سرگر م کردیا۔مشرقی یوکرائن کے ایم شہروں میں علیحدگی پسندوں نے اکثر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا اور مئیرز نے حکومتی نظم و نسق سنبھال کر مرکزی حکومت کے خلا ف اعلان بغاوت کردیا اور علیحدگی کا مطالبہ کردیا  قائم کردہ ملیشیاء نے شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ۔مشرقی یوکرائن کے روسی بولنے والوں نے بھی روس کو مدد کیلئے پکارنا شروع کردیا ہے۔اور یہاں بھی روس کے ساتھ الحاق کے نعرے بلند ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔روس نے یوکرائن کی مشرقی سرحد پر مسلح فوج کو تعینات کردیا ہے ۔روس کو اس بات کا مکمل یقین ہے کہ امریکہ اور یورپ نے عظیم جنگوں کے بعد طے کرلیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ سے مکمل طور پر بچاجائے اس لئے روس کو یوکرائن اور کریمیا کے معاملے میں کسی مخالفانہ فوجی کاروائی کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔امریکہ اور یورپ روس کے خلاف ہر اقدام کرنے کیلئے کمر بستہ ہیں ماسوائے فوجی مداخلت اور کاروائی کے ۔یوکرائن معاملے کو مصالحانہ اور حکیمانہ انداز میں طے کرنے کیلئے امریکہ ،یورپی ممالک اور روس کے جنیوا میں مذاکرات ہوچکے ہیں ۔چین میں اعلان کیا گیا ہے کہ تمام فریق مشرقی یوکرائن میں جاری کشید گی کو کم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں ۔روسی وزیر خارجہ نے خو د میڈیا کو بتایا کہ مشرقی یوکرائن کے تمام شہروں میں تمام عمارتوں پر غیر قانونی قبضے ختم کروا دیے جائیں گے اور مسلح دستوں کو ختم کردیا جائے گا ۔تمام باغیوں کو غیر مشروط معافی دی جائے گی ۔اور ممکنہ طور پر روسی بولنے والے علاقوں کو زیادہ خود مختار ی دی جائے گی ۔ان اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی ایک فریم ورک کے تحت آرگنائزیشن فارسیکورٹی اینڈ کو آپریشن ان یورپ (او ایس سی ای ) کے مبصرین کریں گے ۔