Get Adobe Flash player

لندن پلان میں ناکامی اور دس نکاتی ایجنڈا۔۔۔ضمیر نفیس

آخرکار مسلم لیگ ق اور عوامی تحریک کے عزائم کھل کر سامنے آگئے دونوں جماعتوں نے دو روزہ مذاکرات کے بعد حکومت کے خاتمہ کے لئے دس نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیاہے اس ایجنڈے پر غور کیاجائے تو یہ دس نکاتی مذاق زیادہ معلوم ہوتاہے چوہدری برادران کی لندن یاترا کی وجہ یہ تھی کہ کینڈین شہری ڈاکٹر طاہر القادری فی الحال لاہور آنے کے لئے تیار نہ تھے ان کا کہناتھا کہ وہ کینیڈا سے لندن تک آسکتے ہیں اس لئے لندن میں ملاقات ہونی چاہیے چنانچہ حسب شیڈول یہ ملاقات ہوئی دونوں کی کوشش اور خواہش تھی کہ ایم کیو ایم کے لندن سیکرٹریٹ سے بھی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کوئی ممبر ان کے اجلاسوں میں شریک ہو اور اس طرح ان کے عظیم کاز میں ایم کیو ایم بھی شریک ہوجائے جو جمہوریت کو تلپٹ کرنے کے سلسلے میں ان کے دماغوں میں ہلچل مچائے ہوئے ہے لیکن ایم کیوایم کے ساتھ رابطے نہ ہوسکے اور ظاہر سی بات ہے کہ رابطے نہ ہونے کی وجہ ایم کیو ایم کی عدم دلچسپی ہے اگر اسے دلچسپی ہوتی تو اب تک اس اتحاد کا خوب ڈنکابج چکا ہوتا عمران خان کے ساتھ رابطوں کے معاملے میں بھی چوہدری برادران اور ڈاکٹر طاہر القادری کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا میڈیا کے ذریعے انہوں نے تاثر دیا کہ تحریک انصاف جو حکومت کی مخالفت میں پیش پیش ہے لندن مذاکرات میں وہ بھی شامل ہوگی کیونکہ عمران خان پہلے سے ہی لندن میں موجود ہیں اس تاثرکی قلعی تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے یہ کہہ کر کھول دی کہ فی الحال تحریک انصاف کا کسی اتحاد میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں اور عمران خان اپنے بچوں سے ملاقات کے لئے لندن گئے ہیں اس طرح لندن پلان بری طرح ناکام ہوگیا کیونکہ مذکورہ جماعتوں نے چوہدری برادران اور ڈاکٹر طاہر القادری کے اشتراک اور اتفاق سے کو قطعاً اہمیت نہ دی ان دونوں جماعتوں کے درمیان طے پانے والے دس نکاتی مذاق کی بھی سنیے یہ کہاگیا کہ''موجودہ حکومت غیر آئینی اور غیرقانونی ہے،،عوامی مینڈیٹ کے ذریعے جو حکومت قائم ہوئی جن انتخابات کو عالمی مبصرین کی بھاری تعداد نے بھی شفاف قرار دیا جس حکومت نے آئین کے تحت حلف اٹھایا جسے آئین کے تحت سابقہ حکومت نے اقتدار منتقل کیا جس حکومت کو عالمی برادری نے تسلیم اور قبول کیا اسے کوئی صیح الدماغ شخص غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں کہہ سکتا عالمی مالیاتی ادارے جس حکومت کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کر رہے ہیں دنیا کے بہت سے ممالک جس کے ساتھ معاہدوں کے تحت پاکستان میں توانائی کے منصوبوں کے لئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینا کسی مذاق سے کم نہیں دس نکاتی مذاق کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جون میں وہ وطن واپس آئیں گے اس کے بعد حکومت کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا جمہوری حکومتوں میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں ان دونوں جماعتوں کی سیاسی حیثیت بہت کمزور ہے ان کی طرف سے حکومت کے خاتمے کی باتیں چونکانے کے زمرے میں بھی نہیں آتیں البتہ سننے والوں کے لئے مسکراہٹوں کا سامان فراہم کرتی ہیں عوامی تحریک کی مرکز اور صوبوں میں تنظیم ہے نہ سیاسی سطح پر اس کا وجود ہے البتہ یہ الیکشن کمیشن کے پاس دیگر درجنوں گمنام جماعتوں کی طرح رجسٹرڈ ہے اس کے لیڈر انقلاب کے بغیر اپنے آپ کو قائد انقلاب قرار دیتے ہیں رہی مسلم لیگ ق کی بات تو یہ محض چوہدری برادران کے گرد گھومتی ہے فوجی آمر کے ساتھ اس نے اقتدار میں عیش وعشرت کے جو دن گزارے وہ اسے مسلسل بے چین کئے ہوئے ہیں دس نکاتی مذاق کا ایک نکتہ یہ ہے کہ''ہم انقلاب کے ذریعے اقتدار نچلی سطح پر منتقل کریں گے،،حیرت ہے کہ اعلی سطح پر جن کے اقتدار کی خواہش ایک خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی وہ نچلی سطح پر اسے منتقل کرنے کے پیمان کر رہے ہیں ایک نکتے میں کہاگیا موجودہ حکومتیں خلاف آئین تشکیل پانے والے الیکشن کمیشن کے تحت دھن دھونس اور دھاندلی پر مبنی غیر قانونی وغیر شفاف الیکشن کے نتیجے میں وجود میں آئیں گویا چوہدری برادران اور طاہر القادری نے سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومتوں کو بھی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا اس طرح ہر دو جماعتوں کے لئے اپنے دروازے مزید بند کر دیئے الیکشن کمیشن کو غیر آئینی قرار دینا بھی مذاق سے کم نہیں آئین کے تحت وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیاگیا جن سے بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حلف لیا اس الیکشن کمیشن کو وہی غیر آئینی قرار دے سکتے ہیں جو حکومت کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہیں چوہدری پرویز الہی کا کہناتھا کہ ہم پٹواری کلچر کا خاتمہ کریں گے اور پولیس کے نظام میں اصلاحات لائیں گے فوجی آمریت کے دنوں میں مرکز اور پنجاب کی حکومتوں پر قابض ہونے کے باوجود نہ جانے اس وقت یہ اصلاحات انہیں کیوں یاد نہیں آئیں اب اقتدار ملا تو یہ اصلاحات لائی جائیں گی ہے نہ مذاق، خوابوں اور مذاق کی باتیں۔