قتل کرنے میں عزت نہیں۔۔۔ظہیرا لدین بابر

پنجاب کے شہر جڑانولہ کی فرزانہ کی آہوں و سسکیوں کی گونج تاحال باقی ہے۔ پسند کی شادی کرنے والی اس خاتون کے قتل پر بین الاقوامی ردعمل بھی آچکا۔ انسانی حقوق سے وابستہ تنظمیوں کے علاوہ بیشتر لکھنے و بولنے والے ان قانونی نقائص کی جانب توجہ دلا رہے جو عموما ایسے واقعات کے ظہورپذیر ہونے کے بعد کھل کرسامنے آتے ہیں۔ دوہزار چار میں "غیرت " کے نام پر ہونے والے قتال کو روکنے کے لیے کریمنل ایکٹ دوہزار چار تو بنایا گیا مگر اس کی افادیت یہ رہی کہ اس کے تحت خواتین کو قتل کرنے والا کوئی بھی ملزم سزا یافتہ نہ کہلایا۔ ستم بالا ستم یہ بھی کہ ایسے بیشتر مقدمات میں عدالتی عملہ بھی اپنی غیرجانبداری ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ سماعت کے دوران عدلیہ کے ذمہ داروں سے ایسے جملے بھی سنے گئے کہ " کوئی بھی شخص اپنی بہن،بیوی اور بیٹی کو ناپسندیدہ عمل میں ملوث دیکھے گا تو اس سے برداشت کی توقع نہیں رکھی جاسکتی"۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے جب فاضل ججز نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ" غیرت کا بہانہ بنا کرقتل کو ہرگز جواز نہیں بخشا جاسکتا"۔ مذکورہ مقدمات کا یہ پہلو افسوسناک ہے کہ غیرت کے نام ہونیوالے ہر قتل میں قاتل کے موقف کو ہی حتمی تسلیم کیا جاتا رہا۔ افسوس صد افسوس کہ ہمسایہ ملک کی طرح ہمارے ہاں ایسی مثالیں ناپید ہیں جہاں خواتین کی آبروریزی یا قتل جیسے واقعات پر بھرپور عوامی احتجاج سامنے آیا ہو۔ اکثر وبیشر ایسا بھی ہوا کہ ملزمان نے جذبات سے کہیں زیادہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خاتون کو قتل کیا گیا ۔ اس ضمن میں پہلے سے موجودہ قانونی سقم سے نہ صرف بھرپور واقفیت حاصل کی گئی بلکہ واردات کے بعد پولیس کی مٹھی گرم کرکے مقدمہ کو ہی کمزور کر دیا گیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سال دوہزارتیرہ میں نوسو سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔ ایک تبصرہ یہ کہ قانون چاہے جتنے بھی سخت ہو جائیں جب تلک سماجی سطح پر جرم سے نفرت کا رجحان پروان نہیں چڑھے گا بہتری کے امکانات مخدوش ہی رہیں گے۔مان لینا چاہے کہ عورتوں سے یکساں سلوک میں ہمارا معاشرہ تاحال فراخ دل واقع نہیں ہوا۔ معاملہ تعلیم کا ہو یا جائیدار میں حصہ دینے کا بیشتر اوقات کوشش یہی رہی کہ کسی نہ کسی طرح خاتون کو اس کے جائز حق سے محروم کردیا جائے۔ بھائیوں کے حمایت میں اپنے قانونی حصہ سے دستبردار کروانے کے واقعات تو ہمارے ہاں معمول ہیں۔ حیرت انگیزطور پر غیرت وعزت کا معاملہ بھی محض خواتین سے ہی منسوب ہے ۔حریف کی عزت خاک میں ملانے کا کارگر نسخہ آج بھی یہی ہے کہ اس کی قریبی رشتہ دار خواتین کوبے آبرو کردیا جائے۔ شائد یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ تاحال ترقی پذیر ممالک میں قبائلی ذھنیت موجود ہے۔ ترقی کی چکا چوند بظاہر تو دکھائی دیتی ہے مگر عملی طور پر ہر کسی کا دل و دماغ مہذب نہیں ہوا۔ اس سوال پر کھلے عام بحث مباحثہ کِی ضرورت ہے کہ کیا پسند کی شادی ایسا جرم ہے جس کی سزا صرف اور صرف موت کے سوا کچھ اور نہیں ۔ افسوس کہ بسا اوقات نہ صرف اپنی مرضی سے نکاح کرنے والی خاتون جان سے محروم کردی گئی بلکہ اس کے شوہر و بچوں کی زندگیوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ گزشتہ روز ہی کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں پولیس اہکار، اس کی بیوی اور دوبچوں کو قتل کردیا گیا ۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتول اہلکار محمد رمضان نے چار سال قبل مقتولہ نازیہ سے لومیرج کی تھی۔ ہر سماج کی طرح پاکستانی معاشرے بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یہ بھی درست ہے کہ تبدیلی کی مخالف قوتیں ہر دور میں نئے رجحانات کے آڑے آئیں۔ خرابی یہ ہے کہ جہالت و پسماندگی کے سبب بدلتے رویوں کو بزور قوت دبانے کا چلن عام ہورہا۔ ایسے امکانات تاحال روشن نہیں کہ درندگی کا یہ کھیل کسی طور پر اچانک رک جائے۔ اصلاح کے لیے لازم ہے کہ مذہبی ، سیاسی و سماجی حلقے متحرک ہوں ۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان کو اسلامی ملک قرار دینے کے باوجود نکاح میں خاتون کی مرضی کو بنیادی اہمیت دینے کے رواج پر اتفاق نہیں ۔ مگر حوصلہ افزا یہ ہے کہ جڑانولہ کی فرزانہ ہو یا کراچی کی نادیہ دونوں دلخراش واقعات کے مقابل ایسی بھی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں پسند کی شادی کو نہ صرف لڑکا و لڑکی کے گھروالوں نے باخوشی قبول کیا بلکہ سالوں گزر جانے کے باوجود  پرتشدد کاروائی دیکھنے میں نہ آئی۔ سماجی حلقوں کا سرکار سے یہ مطالبہ نامناسب نہیں کہ ھنگامی بینادوں پر کرمینل ایکٹ دوہزار چار میں موجود نقائص کو دور کرنے کے لیے اقدمات اٹھاِئے جائیں ۔ وطن عزیز کی سیاسی و مذہبی قوتوں کا کام یہی نہیں کہ وہ اقتدار کے کھیل سے منسوب مخصوص معاملات میں ہی جوش وخروش سے حصہ لیں بلکہ معاشرے میں برداشت پر مبنی رویوں بالخصوص انسانی جان کی حرمت کا شعور بیدار کرنے کے لیے بھی انھیں میدان میں نکلنا ہوگا۔ افسوس کہ خواتین سمیت کمزور طبقہ کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو مغربی ایجنڈے کا نام دے کر نظر کرنے کا وطیرہ عام ہے۔ اس حقیقت کو ہرگز فراموش نہ کیا جائے کہ گلوبل ولیج کہلانے والی اس دنیا میں کوئی بھی ملک دوسروں سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ لازم ہے کہ بحثیت قوم ہم ان خرابیوں کو کھلے زھن کے ساتھ تسلیم کرتے ان کی اصلاح کریں جو ہمارا اسلامی اور جمہوری دونوں طرح کا تشخص خراب کرنے کا سبب بن رہیں۔