بھارتی پارلیمنٹ ، جرائم پیشہ افراد کا گڑھ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 بھارت کی نو منتخب لوک سبھا کئی اعتبار سے مختلف اور منفرد ہے۔ پارلیمنٹ کے نومنتخب 543 ارکان میں سے 186 ارکان کیخلاف کرمنل مقدمات قائم ہیں۔ ایسو سی ایشن فار ڈیمو کریٹک ریفارمز کے ایک تجزیے کے مطابق بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی کی جانب سے انتخابات میں کئے گئے شفافیت اور کرپشن سے نجات کے وعدوں کے باوجود انڈیا کی اگلی کابینہ میں اس بار اراکین کی ریکارڈ تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہوگی جن پر قتل، اغوا، رہزنی اور فرقہ وارانہ یا نسلی فسادات پھیلانے جیسے سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔ اے ڈی آر کے مطابق ایسے ارکان کی تعداد 186 ہے جن پر کوئی نہ کوئی مقدمہ قائم ہے۔ اس کے علاوہ پی آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ نے تمام سیٹوں کی پروفائل اسٹڈی کے بعد فہرست جاری کی ہے جس سے نئی لوک سبھا کی پوری صورت حال سامنے آتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق اس بار انتخابات میں کل 61 نشستیں ایسی ہیں جہاں سے خواتین امیدوار کامیاب ہوئی ہیں جو مجموعی شرح کا تقریبا 11 اعشاریہ تین فیصد ہے۔ ملک میں نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد کے باوجود اس بار ایسے ایم پی کی تعداد زیادہ ہے جن کی عمر 55 سال سے زیادہ ہے، ان کی مجموعی تعداد 253 ہے جو کہ پارلیمنٹ کا 47 فی صد ہیں۔ایسے منتخب ارکان کا تناسب جو دسویں جماعت بھی پاس نہیں، تین فی صد سے بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے ممبران کی تعداد میں پہلے سے تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بھارت میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات قرار دیا جا رہا ہے حکومت کو انتخابی عمل پر 1114 کروڑ بھارتی روپے خرچ کرنا پڑے۔امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور حکومت کے مجموعی اخراجات 30 ہزار کروڑ روپے بنتے ہیں۔ بھارت میں ایک امیدوار کو 76 لاکھ روپے تک خرچ کرنے کی اجازت ہے ایک اندازے کے مطابق 9 مرحلوں پر محیط بھارتی انتخابات پر حکومت، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی طرف سے مجموعی طور پر 30 ہزار کروڑ بھارتی روپے خرچ کئے گئے۔ 158 افراد پر مشتمل پچھلی کابینہ کے مقابلے میں ایوانِ زیریں کے 34 فیصد اراکین پر جرم کے الزامات ہیں۔ یہ تنظیم گڈ گورننس اور صاف حکومت کی وکالت کرتی ہے اور اسی کیلئے تحقیق کرتی ہے۔ 543 اراکین پر مشتمل کابینہ کے کئی اراکین پر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔ بی جے پی کے نو میں سے چار اراکین پر قتل کے مقدمات ہیں، جبکہ سترہ میں سے دس پارلیمانی اراکین پر اقدامِ قتل کے الزامات ہیں۔نریندر مودی کے دور میں 2002ء میں گجرات میں مسلم کش فسادات کے دوران 26 ہزار کے لگ بھگ مسلمانوں بشمول خواتین بچوں کی شہادت کے بعد ان کے وزیراعظم بننے سے لاکھوں مسلمانوں کی نسل کشی، ہجرت اور بے سروساماں ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے یہ سانحہ گجرات سے بھی بڑا المیہ ہو سکتا ہے۔ بی جے پی مسلم دشمنی اور مسلم نسل کشی کے باعث پوری دنیا میں بدنام ہے۔بھارت کی 16 ویں منتخب پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی تعداد تاریخ میں سب سے کم ہے اور حالیہ انتخابات میں 543 نشستوں میں سے صرف 20 مسلمان کامیابی حاصل کر پائے۔ ریاست اترپردیش کی 80 نشستوں میں سے کوئی بھی مسلمان امیدوار کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ مغربی بنگال سے کانگریس کے ٹکٹ پر 2، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے 2 اور ترینامول کانگریس کے 3 جبکہ ریاست بہار سے راشٹریہ جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، لوک جنشکتی پارٹی اور کانگریس کے ایک، ایک مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے۔ اسی طرح مقبوضہ جموں کشمیر سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر 3، آسام سے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے 2، لکشدویپ سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ایک ، ریاست تامل ناڈو کے شہر رماناتھاپورم سے ''اے آئی اے ڈی ایم کے'' کے ایک اور حیدر آباد دکن سے مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما لوک سبھا میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تاہم 30 سال بعد ایوان میں تنہا حکومت بنانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 282 کامیاب امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جس سے انتہا پسند جماعت کی مسلمانوں سے نفرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔