Get Adobe Flash player

سٹریٹ کرائمز۔۔۔اعجاز احمد

اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ 12سال سے امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ کی وجہ سے پاکستان ایک بین الاقوامی میدان جنگ بنا ہوا ہے اور اس خطے کے تمام ممالک اپنے مفادات کے لئے پاکستانی سر زمین کو استعمال کر رہے ہیں اور بد قسمتی سے اب تک اس جنگ میں 100 ارب ڈالر مالی نُقصان کے علاوہ 50 ہزار عام شہری اور 10 ہزار کے لگ بھگ قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے اہل کار جن میں زیادہ تر پولیس والے ہیں، شہید ہو گئے ہیں ۔ اور میں وطن کے ان بہا در سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ملک میں افراتفری سے قانون شکن اور سماج دشمن عنا صر فا ئدہ اُٹھا رہے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ آئے دن وطن عزیز کے مختلف حصوں اور بالخصوص جڑواں شہروں پنڈی اسلام آباد میں سٹریٹ کرائمز ، یعنی بھتہ خوری، مائوں بہنوں اور بیٹیوں سے پرس چھیننے اور چو ری کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔میں گزشتہ کئی سال سے پنڈی اسلام آباد میں فکر معاش کے سلسلے میں رہائش پذیر ہوں، مگر گذشتہ تین چار سال سے جتنے سٹریٹ کرائمز میں دیکھ چکا ہوں شاید 30 سال میں, میں نے نہیں دیکھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو سال میں ، میں نے بذات خود 70 کے قریب سٹریٹ کرائمز جس میں پرس چھیننے کے واقعات، دکانوں پر ڈاکے ڈالنے ،لوگوں سے گا ڑیاں چھیننے اور گا ڑیاں چو ری کے واقعات بنفس نفیس دیکھ چکا ہوں۔ اور گاہے بگاہے اپنے کالموں میںحالات کی نشان دہی اور احوال کو ٹھیک کرنے کے لئے اسکا ذکر بھی کر چکا ہوں۔حال ہی میں ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر کے نیوز سُپر وائزر اور پاکستان ٹیلی وژن نیشنل کے سابقہ نیو ز ایڈیٹر , ہمارے محترم اورقابل قدر دوست بہرہ مند بحر کی ٹیوٹا کروناگا ڑی نمبرPK 290 ICT ما ڈل نمبر 1979 انکے گھر کے باہر بہارہ کہو سے چو ری ہو گئی۔ اسلام آباد جسکو عام طو ر پر پھولوں اور امن کا شہر کہا جاتا تھا ، اب چو روں ، ڈاکووں اغوابرائے تاوان والوں پر س چھیننے والے اور رہزنوں کا شہر بن گیا ہے ۔ چند دن پہلے میں رات کو دفتر سے آرہا تھا کہ ایچ نائن سیکٹر میں واقع انٹر نیشنل سکول کے قریب رہ زنی کا واقعہ پیش آنے والا تھامگر میرے اور میرے دوست کے بر وقت ایکشن کی وجہ سے رہ زن مو قع سے فرار ہوگئے۔ہمارے دفتر کا ایک چو کیدار محمد فا روق چند دن پہلے ڈیوٹی کے لئے آرہا تھا کہ راستے میںرہ زنوں نے اُسے زد کوب کیا مگر میرا یہ دوست رہ زنوں کو چکر دیکر بھاگ گیا۔ کچھ دن پہلے پرائیویٹ سیکیورٹی کے دل ساز نامی چوکیدار کو رہ زنوں نے پکڑ لیا اور اُس سے ایک موبائل فون اور تین ہزار روپے زبردستی چھینے گئے۔بہر حال اسلام آباد جو ایک زمانے میں پاکستان کا محفو ظ ترین شہر سمجھا جاتا تھا اب اس شہر میں کسی کی جان ومال اور عزت محفو ظ نہیں۔آج کل پیر ودھائی ، ایچ الیون اور آئی الیون اور پی ایچ اے کا ایریا چو روں ڈاکوں رہزنوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بن گیا ہے میرے خیال میں اسلام آباد میں چو ری، ڈکیتی اور رہ زنی کے سب سے زیادہ واقعات اسی سیکٹروں اور علاقوں میں ہو تے ہیں۔میرے ایک دوست محمد حسین کے بیٹے حسن سے رہزن 17ہزار روپے کا موبائیل فون اور 2 ہزار روپے بند و ق کی نو ک پر چھین لے گئے۔جسکا تا حال کوئی پتہ نہیں لگا،اور اب یکم مئی2014 کو 8 اور 9 بجے کے درمیان محمد حسین کے گھر، بلاک نمبر 12 سی، فلیٹ نمر 3پی ایچ اے میں چو ری ہوئی جس میں چور 4 لاکھ روپے کے زیورات اور قیمتی سامان لے گئے۔ مو صوف نے مورخہ 5 مئی کو آئی الیون پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 46794درج کرائی ۔ اسی طر ح پی ایچ اے آئی الیون فلیٹ نمبر 67-D، فلیٹ نمبر 4 کے روحان مدثر کی چو ری مو رخہ 17-4-2014 کو ہوئی چور لاکھوں کا سامان چو ری کر گئے۔فلیٹ نمبر ،3 بلاک نمبر 32 ڈی کے رہائشی شہزاد سلیم کی چو ری 30-3-2014کو ہو ئی اور اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر3601 مو رخہ 3-3-2014کو درج کی گئی۔ پی ایچ اے ، فلیٹ نمبر 8، بلاک نمبر 12-c کے سیف الرحمان کی چو ری، مو رخہ 17-1-2014کو ہوئی اورر اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 35037کو اسی روزدرج کی گئی۔ پی ایم اے کے فلیٹ نمر 6، بلاک نمبر 32-Dکے گلفام کی چو ری ہوئی۔ اسی طر ح فلیٹ نمبر 6کے وقار احمد کی چو ری 13 اگست کوہوئی ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اب ان تمام ایف آئی آر اور چو ری کی وارداتوں کے با وجود بھی نہ تو کوئی چور اور نہ ملزم پکڑا گیا۔میںاس کالم کی تو سط سے وفاقی وزیر داخلہ اوراسلام آبا د کے آئی جی سے استد عا کر تا ہوں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے مگر پولیس کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کی جان ومال کے تحفط کے لئے اقدامات کریں اور جُڑواں شہروں میں تخریب کاروں ، چوروں اور ڈاکووں کا صفایا کیا جائے۔ آئی الیون پو لیس سٹیشن اور پو لیس اہل کاروں کی بر وقت کا روائی نہ ہونے کی وجہ سے چو روں ، ڈاکووں اور رہ زنوں کے حو صلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس قسم کے گھنائونے واقعات میں مزید اضا فہ ہوا۔ اور اب تو نوبت یہاںتک آپہنچی کہ جن لوگوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات ہو تے ہیںوہ پو لیس سٹیشن اور پولیس والوں کے پاس جانے سے کتراتے ہیں، کیونکہ انکو پتہ ہے کہ چو ر ڈاکو، رہزن کے خلاف کوئی کا روائی نہیں ہوگی تو اس قسم کے پنگوں میں الجھنا فضول ہے۔ جُڑواں شہر پنڈی اور اسلام آبا د پورے ملک کا بیرومیٹر سمجھا جاتا ہے اور عام خیال یہ کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں شہرمحفوظ ہیں۔ اور اگر یہاں اس قسم کے حالات ہوں تو وطن عزیز کے دوسرے حصوں کے لو گ کیسے اپنے آپکو محفوظ سمجھیں گے۔ عام طو ر پر ملک کے دور دراز لوگوں کا خیال ہو تا ہے کہ جُڑواں شہروں پنڈی اور اسلام آباد میں نہ تو کوئی جُرم ہوتا ہے اور نہ قانون شکنی ۔ اگر وہ شہر جس میں پوری دنیا کے سفارت خانے ، قو نصلیٹ ، وزیر اعظم اور صدر ہائوس ، قومی اسمبلی سینیٹ،تمام وزراء ، ملک کی اعلی عدلیہ اور اسکے علاوہ انتہائی حساس دفاتر ہوں وہاں پر اگر اس قسم کے جرائم ہوں تو ملک کے دوسرے اور دور دراز علاقوں کے لوگ کیسے اپنے آپکو محفو ظ اور اسلام آباد میں مقیم غیر ملکی ہمارے اور پاکستان کے بارے میں کیا تصور کریں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنڈی اسلام آباد میںشرح خواندگی اور حساسیت کی وجہ سے عام لوگ اور بالخصوص بچے اپنے آپکو غیر محفو ظ تصور کرتے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ جُڑواں شہروں میں آئے دن نفسیاتی امراض اور مریضوں میں حد سے اضا فہ ہو رہا ہے۔