وفاقی بجٹ 2014-15ئ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

نئے سال کے بجٹ کی شروعات کاآغاز ہوگیا ہے ۔اور جوں جوں بجٹ قرب آرہا ہے ۔عوام کے دلوں کی دھڑکن نے اضطراب کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے ۔وفاقی بجٹ کے حوالے سے وفاقی کابینہ نے حکم عملی کی دستاویزا ت کو شرف قبولیت بخش دیا ہے ۔بجٹ کا مجموعی حجم 3846ارب سے بڑھا کر.37 39کھرب رکھنے کی تجویز ہے ۔ تقریباََ 700ارب روپے دفاعی بجٹ کیلئے مختص کئے جارہے ہیں 240ارب روپے نیا چونا لگانے کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔حکومت کیلئے ضروری ہے کہ پنشنرز کی تنخواہوں میں کم از کم 30فیصد اضافہ کرے ۔آئندہ بجٹ میں خسارہ 1400ارب کے قریب ہونے کا امکان ہے ۔ وفاقی حکومت نے پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے بجٹ کے چار اہداف رکھے ہیں ۔ٹیکس اور توانائی میں وسعت پذیر ی ۔معاشی ترقی کیلئے اقدامات ،سبسڈیز کو محدود کرنا اور ٹیکس چوری کو کم از کم سطح پر لانا۔ معاشی تر قی کے ہدف کا حصول حکومت کیلئے کس حد تک ممکن ہے ۔حکومت معاشی ترقی کے حصول کیلئے کیا حکمت عملی مرتب کرتی ہے ۔یہ تو آنے والا وقت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا ۔بادی النظر میں حکومت بیرونی سرکاری وغیر سرکاری سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی ڈھانچے کو استوار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔سبسڈیز کو محدود کرنے اور ٹیکس چھوٹ کے خاتمے کا براہ راست اثر چھوٹے صنعتکاروں اور تاجروں کے علاوہ ملازم پیشہ افراد پر لازمی پڑے گا ۔متبادل حکمت عملی وضع کئے بغیر ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ غربت اور تنگ دستی میں اضافے کا سبب بنے گا ۔اگر ٹیکس عوام کی قوت بر داشت کو مفلوج کردے گا توا س کے نتیجے میں کرپشن اور بددیانتی میں اضافہ ہوجائے گا ۔غربت اور افلاس ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہی ہے ۔بے روزگار ی اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشیوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔حالت باایں جارسید سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت سے ضمانت طلب کی ہے کہ آئندہ کو ئی آدمی بھوک سے نہیں مرے گا ۔مظلوم نچلے درجے کے ملازم پیشہ لوگ تو پہلے ہی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھوا رہے ہیں ۔علاج معالجے کی ناپید ہوئی سہولتوں کے پیش نظر اپنے بچوں کا علاج اتائیوں سے کروارہے ہیں ۔قدرت کی ستم ظریفی اور ہمارے مقدر کی بربادی ہے کہ حکومتیں ہمیشہ مصلحتوں کی شکار رہی ہیں ۔اور اس کا بدیہی نتیجہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ۔ملک ایک عرصہ سے معاشی بحران کا شکار ہے ۔جس کی وجہ سے IMFاور دیگر مالیاتی ادارے حکومتوں کو اپنی شرائط منوانے پر آمادہ کرلیتے ہیں اس طرح غریب آدمی ذلت ورسوائی کے دوزخ کا ایندھن بن جاتا ہے ۔ہزاروںایکڑ زرعی زمینوں کے مالک مختلف حیلے بہانوں سے زرعی ٹیکس ادا کرنے سے بچ جاتے ہیں ۔ملک کی صنعت کا ر بھی عائد شدہ ٹیکسز کو آگے بڑھا دیتے ہیں ۔سیلز ٹیکس پر اگر آپ غور کریں تو ہو ٹلنگ سے لیکر ٹافی تک،برقی آلات سے لیکر ماچس کی تیلی تک قیمت آگے ۔''جمع ٹیکس'' اسطرح درج ہوتا ہے جسطرح انگشتری میں نگینہ لگا ہوا ہے ۔ذاتی رہائش کیلئے 5مرلے کے مکانوں پر ٹیکس لگانے کا قطعاََ کو ئی جواز نہیں ہے ۔دیہاتی علاقوں میں جدید ترین ہائوسنگ کالونیز ،پلازے،محل نما مکانات ،فارم ہاؤسز کو کیٹگر ی Aقرار دینے کی بجائے ان کو رورل ایریا قرار دے کر ٹیکس کے دائرے سے باہر پھینک دیا جاتا ہے ۔توانائی کے بحران کا آسیب ہماری روحوں پر مسلط ہوگیا ہے ،ماضی میں ہم نے کوئلہ سے بجلی بنانے کی بجائے تھر مل پر زیادہ انحصار کرکے اپنی معیشت کا بیڑہ غرق کرلیا ہے ۔بجلی کی مہنگائی کی وجہ سے ہم صنعتی اور زرعی ترقی میں ترقی معکوس کا شکار ہوگئے ہیں ۔اب ادائیگیوں میں تاخیر اور لائن لانز کے نتیجے میں گردشی قرضہ ہمارے لئے وبال جان بن گیا ہے ۔مسلم لیگ کی حکومت نے بعجلت تمام گردشی قرضے کی رقم 480ارب ادا کرکے عوام کو خوشخبری کا پیغام پہنچایا تھا کہ بجلی کی لوڈشیدنگ سے نجات حاصل ہوجائے گی لیکن حالات کی ستم ظریفی اور واپڈا والوں کی کوتاہی عمل کے نتیجے میں گردشی قرضہ پھر 300ارب روپے کے قریب ہوگیا ہے ۔جب تک بجلی کی چوری اور کنڈا کلچر کے خلاف عوام رائے عامہ کو ہموار کرکے سخت اقدامات نہیں کئے جائیں گے تب تک لوڈشیڈنگ اور گردشی قرضے کا وبال ہمارے لئے جان لیوا ثابت ہوتا رہے گا ۔حکومت کو فی الفور توانائی کے متبادل ذرائع پر محنت شاقہ سے کام کرنا چاہیے ۔اب بھی ہم کوئلہ ،سولر ،نیوکلیئر اور ونڈانرجی پر توجہ دے کر اپنے مطلوبہ ہدف حاصل کرسکتے ہیں ۔موجودہ حالات میں تھر مل سے 6.9%،29فیصد ہائیڈرل سے باقی دوسرے ذرائع سے توانائی حاصل کی جاتی ہے ۔شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی ڈیوٹی زیر و کردے ۔نواز شریف کی حکومت چونکہ کارپوریٹ کلچر اور صنعت دوست حکومت ہے ۔صنعت کاروں کی شدید خواہش ہے کہ وفاقی بجٹ کی ان کی خواہشوں کا پرتو ہو اور اس کا اظہار بجٹ دستاویزات میں اظہرمن الشمس ہو ۔صنعت کاروں اور کاروباری کارٹلز کی شدید خواہش ہے کہ کوئی نیا ٹیکس ہرگز نہ لگایا جائے کیونکہ تاجر برادری نیا ٹیکس دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے ،بلکہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں ہر ممکن حد تک کمی کی جائے ۔مزید برآں ان اشیا ء کی درآمد ٹیکس اورڈیوٹیوں کا نفاز بڑھایا جائے جو ملک میں تیار ہورہی ہیں اس سے مقامی صنعت کو تحفظ حاصل ہوگا ۔اور غیر ضروری دآمد ات کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔بالخصوص اشیا ء تعیش کی درآمدگی پر ڈیوٹیوں میں حسب استعداد اضافہ کیا جائے ۔حکومت کے لئے لازم ہے کہ اپنے وسائل میں اضافہ کیلئے سمگلنگ کے کاروبار کو حتٰی الامکان ختم کرنے کی بھر پور کوشش کرے ۔پاکستان نام کا ایک زرعی ملک ہے ۔پیدواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ۔پانی اور بجلی کی شدید قلت نے چھوٹے زمینداروں کیلئے جینا ناممکن بنادیا ہے ۔سب سے زیادہ مسائل زراعت پیشہ افراد کا مقدر بن گئے ہیں ۔جس کی وجہ سے شعبہ زراعت زبوں حالی کا شکار ہوگیا ہے اور ملکی آبادی کو خوراک روزگار اور ملکی معیشت کے استحکام میں وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جو یہ ادا کرسکنے کی سکت رکھتا ہے ۔لہذا حکومت کو اگر دیہی آبادی کو خوشحال کرنے کی خواہش مند ہے تووفاقی بجٹ میں زرعی شعبہ کی بہتری پر خاص توجہ مرکوز کرے ۔حکومت کیلئے لازم ہے کہ وہ زرعی شعبہ کو ڈیزل ،بجلی ،ادویات ،کھادوں پر خصوصی سبسڈی مہیا کرے ۔اگر حکومت ترجیحی بنیادوں پر کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنائے تو زرعی پیداوار میں 25تا30فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے ۔حکومت کو ٹیل تک پانی پہنچانے اور پانی کی بچت کرنے کیلئے کھالوں اور نہروں کو پختہ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے اور اس کیلئے مطلوبہ فنڈز مہیاکرے۔