فکرانگیز اورحقیقت پسند انہ خطاب۔۔۔ضمیر نفیس

وزیراعظم محمد نواز شریف نے تیسر ی مرتبہ وزارت عظمیٰ کی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد اپنی حکومت کا پہلا پارلیمانی سال مکمل کرلیا ہے یہ آئینی تقاضا ہے کہ پارلیمانی سال مکمل ہونے کے بعد صدر مملکت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں چنانچہ اس آئینی تقاضے کو بروئے کار لاتے ہوئے صدر ممنون حسین نے مشتر کہ اجلاس سے خطاب کیا یہ امر اطمینا ن بخش ہے کہ اپوزیشن نے متعدد معاملات پر حکومت سے اپنے اختلافات کے باوجود صدر مملکت کی تقریر کے دوران کسی قسم کی مداخلت اور ہنگامہ آرائی سے گریز کیااور تحمل سے ان کی تقریر سنی تاہم پیپلزپارٹی اور اے این پی کے سینیٹروں نے اس جواز کے تحت مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا کہ وزیراعظم ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک سینٹ کے ایوان میں نہیں آئے احتجاج یقیناً حزب اختلاف کی کسی بھی جماعت کا حق ہے مگر اس میں صدر مملکت کاکیا قصور ہے کہ ان کے خطاب کابائیکاٹ کیاجائے اور پھر تضاد تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اس احتجاج کے معاملے پر بھی تقسیم تھی اس کے ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے محض سینیٹروں نے بائیکاٹ کیا روایات کے مطابق صدر مملکت مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت کی کارکردگی کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں حکومتی ترجیحات اور پالیسیوں کا اعادہ کرتے ہیں اورجہاں ہمیں مناسب سمجھیں رہنمائی کے لئے حکومت کو تجاویر دیتے ہیں اس تناظر میں صدر ممنون حسین کاخطاب روایات کے بالکل عین مطابق تھااپنے خطاب میں جہاں انہوں نے عوام کی ترقی کے ضمن میں جمہوری استحکام کو لازم قرار دیا وہاں خارجہ پالیسی خصوصاً پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی حکومتی پالیسی کا سرسری سا تذکرہ بھی کیاانہوں نے معاشی ترقی اوربہتری کے سلسلے میںحکومتی کامیابیوں کا بھی مختصراً ذکرکیااور میڈیاکی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس امرپر بھی زور دیا کہ اسے اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنی ذمے داریوں اور حد ود کایکساں طور پر احساس کرنا ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ حکومت میڈیا پر کسی قسم کی پابندی کا تصور بھی نہیں کرسکتی تاہم وہ یہ تو قع ضرور رکھتی ہے کہ میڈیا اپنے طور پر اپنے لئے ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرے اور اس پر عمل کرے جس سے قوم کے وقار میں اضافہ ہو اور عوام میڈیا کو اپنی امنگوں کا حقیقی ترجمان تسلیم کریں صدر مملکت نے بہت خو بصورتی سے یہ بات واضح کی ہے کہ میڈیا کاکردار قومی امنگوں کے مطابق نہیں ہے اور اس میں اس ذمے دارانہ رویے کا فقدان ہے میڈیا کی آزادی جس کا تقا ضا کرتی ہے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے سلسلے میں انہوں نے میڈیا کواس کا کردار یاد دلانے کوشش بھی کی ہے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں صدر مملکت نے اس پس منظر میں جہاں یہ واضح کیا کہ پاکستان تمام ہمسایوں کے ساتھ برابری اور احترام کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے وہاں ایک بار پھر حکومت کی اس پالیسی کا اعادہ کیا کہ پاکستان بھار ت اور افغانستان کی نئی سیاسی قیادت کے ساتھ دو ستانہ اور تعمیری تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے اس ضمن میں انہوںنے وزیر اعظم نواز شریف کے منتخب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میںشرکت کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مہذب دنیا میں اس فیصلے کے پیچھے کار فرما جذبے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا یہ حقیقت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں تاہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش میں بھی صدر مملکت مسئلہ کشمیر کو نہیں بھولے اور اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قرارداد وں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ایک دن ضرور پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور یہ دونوں ملکوں کی دوستی کی جڑوں کو مزید مضبوط کرے گا اسی طرح انہوں نے چین کی دوستی کو دونوں ملکوں کے مثالی تعلقات میں لازوال اور زندہ استعارے سے تعبیر کیا صدر مملکت کی تقریر کا ایک اور اہم پہلو سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سلامتی کے حوالے سے پاک فوج کے کردار کو زبر دست خراج تحسین تھا انہوں نے کہاکہ یہ امر نہایت حوصلہ افزاء ہے ہمارے تمام سول اور عسکری ادارے بڑی خوش اسلوبی اور حب الوطنی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ملکی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کی ذمہ داری کو ہماری مسلح افواج جس احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں اور دیگر عسکری ادارے جس جانفشانی کے ساتھ کام کررہے ہیں اس پر پوری قوم کو فخر ہے ملک کو آج جس قسم کے چیلنجز در پیش ہیں ان میں صدر مملکت نے بجا طور پر قوم کویہ مشورہ دیا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کرایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہوجائے ہمیں فرقہ واریت صوبائی عصبیت لسانی امتیازات اور علیحدگی پسندی سمیت دہشت گردی اوراشتعال انگیز نظریات سے اپنے سوچ اور عمل کے دامن کو بچا کر رکھنا ہے اگر قوم صدر مملکت کے اس مشورے کو عمل کے سانچے میں ڈھال لے تو اس کے بیشتر دلدردور ہو سکتے ہیں۔