Get Adobe Flash player

نواز شریف کو اپنی حکمت عملی پر عمل کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔۔۔اسلم لودھی

وزیر اعظم پاکستان کے دورہ بھارت کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہمیں پاکستان کو درپیش حالات و واقعات کا جائزہ لینا پڑے گا۔ پاکستان جس محل وقوع میں آباد ہے اس کے مغرب میں افغانستان ٫ جنوب میں ایران مشرق میں بھارت اور شمال میں عوامی جمہوریہ چین واقع ہے۔ سوائے طالبان حکومت کے افغانستان ہمیشہ پاکستان کامخالف رہا ہے اور اب بھی افغان صدر کرزئی کی جانب سے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر زبانی بمباری کاسلسلہ کم نہیں ہوا۔افغانستان میں بھارت اپنے پنجے کامیابی سے جما چکا ہے وہاں بیٹھ کر قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں اور تنظیموں کو بھاری سرمایہ اور جدید ترین اسلحہ فراہم کررہاہے۔ اداروں کی ناکامی کی بنا پر پورا ملک سیکورٹی رسک کی صورت اختیار کرچکا ہے۔کراچی لاہور پشاور اور کوئٹہ کی بات تو چھوڑیں پاکستان کا دارالحکومت ہر لمحہ دہشت گردوں کی یلغار کی زد میں رہتا ہے بم دھماکے اور خود کش دھماکے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا آغازامریکہ نے 2001ء میں کیا تھا اس منحوس جنگ کے سائے پاکستان کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ جہاں تک ایران کی بات ہے بظاہر اس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خوشگوار نظر آتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔گزشتہ مہینے چند ایرانی سرحد محافظوں کے اغوا کا جو واقعہ رونما ہواتھا اس پر ایران نے پاکستان میں ایرانی فوج بھیجنے کا اعلان کرکے ہماری خوش فہمیوں کو ختم کردیا تھا۔ایران اس وقت تک ہمارا دوست ہے جب تک اس کے مفادات ہم سے نہیں ٹکراتے۔رہی بات چین کی۔ دنیا میں اگر کوئی سچا اور کھرا دوست ہے تو وہ چین ہے لیکن چین بھی اس وقت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا جب خود پاکستان اپنے دشمنوں کے سامنے سینہ سپرہونے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ان حالات میں اگر نواز شریف بھارتی وزیر اعظم کی دعوت پر دہلی گئے تو انہوں نے نہایت دانشمندانہ فیصلہ کیا۔زبانی کلامی باتوں اور تڑیاں لگانے سے جنگ نہ تو لڑی جاتی ہیں اور نہ ہی جیتی جاسکتی ہیں۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان تین اطراف سے دشمنوں میں مکمل طور پر گھیر چکا ہے اور ملکی سالمیت کے چوتھے دشمن وہ دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں طاقت کے بل بوتے پر اپنا نظام مسلط کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بھارتی وزیر اعظم مودی بذات خود ایک دہشت گرد تنظیم کا رکن رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کا ان سے بڑا کوئی جانی دشمن نہیں ہے انہوں نے اپنی وزارت اعلی کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ جس ہولناک قسم کا سلوک کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ مودی کی کامیابی پر نہ صرف پاکستان کے اٹھارہ کروڑ پاکستانی تشویش میں مبتلا ہیں بلکہ بھارت میں رہنے والے پندرہ کروڑ مسلمانوں کا مستقبل بھی مخدوش نظر آتا ہے۔وادی کشمیر جہاں پہلے ہی بھارتی فوج ظلم و استبداد کا ہر حربہ آزما رہی مسلمان کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں سے بھارتی فوجی کھیلتے ہیں جہاں مسلمانوں کے گھر جلانے اور املاک تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔ مودی کے وزیر اعظم بننے سے بھارتی انتہا پسندوں کے حوصلے مزید بلند ہوچکے ہیں جس کی ایک جھلک حلف وفاداری کے دن مودی کی آبائی ریاست گجرات میں مسلم کش فسادات کی شکل میں سامنے آئی ہے جہاں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو آگ لگا دی گئی۔اس میں شک نہیں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور جب تک یہ شہ رگ بھارت جیسے مکاردشمن کے پنجوں میں جکڑی رہے گی پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہوگا۔اسی طرح پاکستانی دریاؤں کے پانی پر بھارتی قبضے نے ایک تنازع کی صورت اختیار کرلی ہے جب تک یہ دونوں مسئلے حل نہیں ہوجاتے اس وقت تک پاکستان کے بھارت کے حقیقی دوستانہ تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔بہتریہی ہے کہ حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین جنگ کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے کشمیر اور پانی کا مسئلہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے اور دوسری جانب پاکستان اپنے انتظامی اوراندرونی حالات بہتر بنائے۔باربار فوجی مداخلت٫ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں ٫ پاکستانی سیاست دانوں کی غیر ذمہ ارانہ سرگرمیاں اور سرکاری فنڈ کا غیرسرکاری استعمال پاکستانی وحدت اور سالمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کے سامنے آرہے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چاروں اطراف سے خطرات میں گھرنے کے باوجود ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی قبریں کھود رہے ہیں مفادات کی جنگ میں وہ اس قدر بہک چکے ہیں کہ اب دشمن کو پاکستان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ دشمنوں سے بڑھ کر وہ خود قومی وحدت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر نواز شریف بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس سے ایک جانب ایٹمی جنگ کے خطرات ٹل جائیں گے تو دوسری جانب پاکستان کو اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کا موقع میسر آجائے گا۔