Get Adobe Flash player

ہنگامی اقدامات ناگزیز ہوچکے۔۔۔ظہیرالدین بابر

 حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح پچاس فیصد سے زائد ہے۔وفاقی وزیرخزانہ نے غربت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ شخص جس کی آمدن دو ڈالر سے کم ہے وہ خط غربت سے نیچے تصور کیا جائیگا۔ اسحاق ڈار کے بقول ٹیکس وصولی کی مد میں حکومت اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ مذید یہ کہ مئی کے مہینے تک انیسو پچپن ارب کے ٹیکس جمع کِیے گئے جب کہ ہدف چوبیس سو پچتہرارب روپے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ کا جواب تھا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ افراز زر کی شرح دس فیصد تک نہیں پہنچے گی"۔معاشی ماہرین کے بقول  رواں سال کے دوران حکومت کی اقتصادی کارکردگی پچھلے سال کی نسبت بہتر رہی مگرباوجوہ وہ اہداف  حاصل نہ ہوسکے جو مقرر کیے گئے تھے۔ اس میں دوآرا نہیں کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل  آسان نہیں رہا۔ چنانچہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ چٹکی بجاتے ہی لاتعداد مشکلات کا پل صراط  آن ہی آنا فانا ہی عبور کرلیا جائے۔ ہمارے ہاں  آمرانہ حکومتوں کے برعکس جمہوری قیادت کے مسائل اکثروبیشتر زیادہ رہے۔ بعض حلقوں کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جہاں ایک طرف  بلدیاتی ادارے فعال رہے وہی مہنگائی کو قابو میں کرنے کی کوشش بھی جاری  رہیں۔ یہ محض الزام نہیں کہ حقیقت ہے کہ عالمی ادارے فرد واحد کے دور اقتدار میں پاکستان پر زیادہ فراخدل  رہے۔ چنانچہ  ملک کے بیشتر اہل فکرونظر بقول تاحال عام آدمی  ایسا بالغ نظر نہیں ہوا جو آمرانہ دور کا موجودہ دورسے موازنہ کرکے جمہوری حکومت کو ہی داد تحیسن دے ڈالے۔  سیاسی حکومتوں کی کارکردگی جانچنے کا معیار وعدوں و دعووں سے کہیں زیادہ عملی اقدمات  ہیں۔ اٹھارہوِیں ترمیم میں صوبوں کو زیادہ خود مختاری دینے  کی وجہ یہی تھی کہ وفاق پرذمہ  داریوں کا بوجھ کم کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو فعال کیا جائے۔ اقتصادی جائزہ بتا رہا کہ ملک میں شرح خواندگی کی شرح تو ساٹھ فیصد ہے مگرپانچ سے نو سال کے ستاسٹھ لاکھ بچے تاحال سکول نہیں جارہے۔جن میں انتالیس فیصد لڑکے اور چھیالیس فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ اکنامک سروے  میں ایک اور تشویش ناک یہ ہے کہ کروڑوں کی آبادی کے باوجود ملک بھر میں محض ایک لاکھ لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جبکہ ایک ہزار نوزائِیدہ بچوں میں سے چھیاسٹھ بچے پیدائش کے فورا بعد ہی مرجاتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا عالم یہ ہوچکا کہ پاکستان اٹھارہ کروڑ تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جن میں اکیاون فیصد مرد اور انچاس فیصد خواتین ہیں۔اقتصادی سروے کے بیشتر اعداد وشمار یقینا حوصلہ افزا نہیں یہ بھی درست ہے کہ منتخب حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے محض ایک سال ہی مکمل ہوا ۔ چنانچہ یہ ہرگز انصاف نہ ہوگا کہ مسائل حل ہونے کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت کے کندھوں پر لادھ دی جائے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو  ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا  کہ کون سے شعبے ایسے ہیں جو واقعتا زمہ داروں کی ھنگامی توجہ کے مستحق ہیں۔ بظاہر تعلیم ، صحت ، روزگار میں پیش رفت سب ہی شہریوں کی ضرورت ہے۔ ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے  جو سیاسی ،مذہبی و لسانی وابستگی سے قطع نظر ہرکسی کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے۔ یہ مطالبہ نامناسب نہیں کہ زمہ داروں کو اپنی صلاحیتیں تعمیری سرگرمیوں کے لیے وقف کرنا ہونگی۔ سیاسی محازآرائی یا اداروں سے تصادم کسی طورپر بھی ایسے ماحول کی تشکیل میں معاون ثابت نہیں ہوسکتا جس میں خیر کا پہلو نمایاں ہو۔ ماضی میں جو ہوا سو ہوا مگر آج  درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہونا حکمران قوتوں ہی کی زمہ داری ہے۔ اس خوش فہمی سے دامن چھڑانا ہوگا کہ  ناکامی کی صورت میں یہ جواز قبول کرلیا جائے کہ فلاں شخصیت یا ادارے کے سبب سرکار خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھاِئی جاسکی۔ مشکلات کے باوصف اہل سیاست  کا  امتحان یہی ہے کہ وہ کس طور پر ایسے پاکستان کی تشکیل میں اپنا کردار کریں جو آنے والی نسل کو روشن و خوشحال مستقبل دینے کا سبب  بن سکے۔ یہ قابل تحسین ہے کہ  مسلم لیگ ن نے تینوں صوبوں میں ان جماعتوں کی حکومتوں کو بخوشی قبول کرلیا  جنھیں بجا طور پر حزب اختلاف کی پارٹیاں کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ آج کروڑوں  مشکلات کم کرنے کی زمہ داری محض وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ  صوبائی زمہ داروں کو بھی اپنا طرزعمل بہتر بنانا ہوگا ۔ طے شدہ ہے کہ  اشیا خردونوش کی سستے داموں فراہمی میں زرعی شبعہ کو سہولیات فراہم کرنا  لازم ہے۔ارباب اختیار کو کسانوں کی ان نمائندہ تنظمیوں کے  مطالبات پر خاطرخواہ توجہ دینا ہوگِی کہ جس میں بیج ، کھاد  ،بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی  ترجیح ہیں۔  زرعی شعبہ میں یہ تاثر موجود ہے کہ صنعتی شعبہ کی مشکلات کا ازالہ تو کسی طور پر ہوررہا ہے مگر ان کے مسائل پر ہمدردانہ غور نہیں کیا گیا۔ قومی سیاست  آنے والے دنوں کی ایسی  منظر کشی کررہی جو سیاسی استحکام کے حوالے سے ہرگز نیک شگون نہیں۔ اقتصادی سروے کی روشنی میں ہی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارتی آدھی سے زائد آبادی کے لیے تعلیم وصحت کی سہولیات کا ناکافی ہونا بتا رہا کہ بنیادی ضروریات زندگی  سے محروم عوام کسی وقت بھی احتجاج کرتے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ وسائل و مسائل میں تفاوت ہونے کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں آسانِیاں لانا ذمہ داروں کا ایسا فرض ہے  جن سے پہلو تہی کی گنجائش بہرحال موجود نہیں۔