پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ کیوں نہیں؟۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بناتھا اور اس کی اول و آخر منزل اسلام ہے۔ جو لوگ ملک میں آئین اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی کر رہے ہیں وہ ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں۔ پاکستان کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ آئین کی اسلامی دفعات سے انحراف کرنے والوں نے ملک کو غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیاہے۔دینی قوتیں پاکستان کو اسی نظریے اور عقیدے پر قائم دیکھنا چاہتی ہیں جس نظریے کی بنیاد پر اسے قائم کیا گیا۔ اس دھرتی کو 65سال سے اسلامی نظام سے محروم رکھا گیاہے۔ بقول مولانا فضل الرحمن  پاکستان کو عملاً مغربی ایجنڈے اور تہذیب کے تابع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فحاشی و عریانی اور بے حیائی کو فروغ دیا جارہاہے۔ اسلامی ماحول کو ختم کیا جارہاہے اور قوم کو فرقہ بندیوں میں تقسیم کر کے تشدد پسند قوتوں کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام اعتدال کا دین ہے اور پور ی انسانیت کے لیے دوستی کا پیغام ہے۔ڈاکٹر صفدر محمود  وقتاً فوقتاً اہل ِ پاکستان کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا ۔ اْن کے پاس قائداعظم   کی تقاریر کے متعدد حوالہ جات موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اسلامی شریعت نافذ کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سیکولر دانشور باز نہیں آتے اور وہ گاہے بگاہے سیکولر ازم کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیکولر ازم کا نفاذ ممکن نہیں، کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام حکومت 1973ء کے دستور میں طے کر دیا گیا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو ہنوز کامیاب نہیں ہو سکیں۔ پاکستان میں آج تک سود کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ جنرل ضیاء الحق نے گیارہ سال تک حکومت کی اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق جزوی طور پر اسلام نافذ کیا۔ اس کے بعد مسلم لیگی حکومتیں بھی رہیں، لیکن ہنوز اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوا۔یہ درست ہے کہ پاکستان اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے قائم ہوا تھا۔ اب طالبان بھی اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ہم اسلامی نظام کے نفاذ میں آخر کامیاب کیوں نہیں ہو سکے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا معاملہ طے شدہ ہے تو پھر اب مختلف مکاتب فکر ملک میں اپنی تعبیر کے مطابق شریعت کیوں  نافذ کرنا چاہتے ہیں۔انہیں اسلامی تاریخ کی روشنی میں موجودہ دور میں اسلامی ممالک میں نفاذ اسلام کی کوششوں پرتحقیق ضرور کرنی چاہئے۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ اس وقت مسلمان ممالک میں کون سا ایسا ملک ہے جس میں مکمل اسلامی نظام نافذ ہو چکا ہے۔ اسلامی ممالک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے، جو انتہا پسند اسلامی تنظیمیں موجود میں آ چکی ہیں، اْن میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جومتشددانہ طریقوں سے نظام اسلام چاہتی ہیں۔ نائیجیریا، پاکستان اور بعض اسلامی ممالک میں نفاذ اسلام کے نام پر دہشت گردی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے نظام میں جب تک اسلا م کو سپریم ہر معاملے میں نہیں لایا جائے گا تب تک تباہی،بربادی ،پریشانی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں دو قومی نظریہ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ دو قومی نظریہ سے نوجوانوں کو اپنی رہنمائی حاصل کرنا چاہیے۔ اسلام ہمارا مذہب ہے اور پاکستان کی بنیادمیں اسلامی نظریہ کو دو قومی نظریہ نے بھرپورطریقے سے بیان کیا ہے۔ طاغوتی قوتوں نے مسلم دنیا کے نوجوانوں کو اپنا ٹارگٹ بنا رکھا ہے اور اسلام کا نام لینے والے نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں اسلامی نظام کے علاوہ اور کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا اور یہ سب کچھ آئین کا بھی حصہ ہے جس کیلئے ہمارے آبائواجداد نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انگریز نے اسلامی قوانین اپنے معاشرے میں نافذ کر کے اپنے ممالک میں امن کو فروغ دیا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اسلام کو چھوڑا اور انگریز کے قانون کو اپنے اوپر نافذ کر کے دہشت گردی کے چنگل میں اپنے آپ کو پھنسا دیا۔یہ حقیقت ہے کہ دینِ اسلام ہی اللہ تعالیٰ کی وہ آخری نعمت ہے جو اس عالم کو دی گئی ہے اور عصر ِ حاضر کی تاریخ میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے مگر…