جمہوریت ہار گئی۔۔۔غلام مرتضی باجوہ

عالمی میڈیا پرجاری بحث سے پتاچلتا ہے کہ عبدالفتاح السیسی سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں مصری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے۔ انہیں جنوری 2011 میں شروع ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد نہایت ذلت آمیز حالات میں مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ابھی حال ہی میں حسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں کو سرکاری وسائل کے خردبرد اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر باالترتیب تین برس اور چھ چھ برس کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔مصر کے صدارتی انتخاب میں ریٹائرڈ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کی   کامیابی کے بعد عرب دنیا میں جمہوریت کے لئے ابھرنے والی خواہش کو نہایت جابرانہ اور ظالمانہ طریقے سے کچل دیا گیا ہے۔ اب ملک پر ایک طویل عرصہ کے لئے فوج کی اعانت سے اقتدار سنبھالنے اور پھر انتخاب کا ڈھونگ رچا کر صدر بننے والے السیسی کا راج ہو گا۔مصر کے شہریوں کے علاوہ دنیا بھر کو سابق صدر حسنی مبارک کا عہد یاد ہو گا۔ اس کے جور و ستم اور اقربا پروری کی داستانوں پر ابھی تک وقت کی گرد نہیں پڑی ہے۔ لیکن تاریخ اس قدر جلد خود کو دہرائے گی اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔ تاہم اب فوج کی مرضی کے آئین اور نظام کے بعد ان کی اپنی صفوں سے نکلے ہوئے سابق جرنیل اور فوجی سربراہ کے برسر اقتدار آنے سے جمہوریت ، انسانی حقوق ، خوشحالی اور عوام کی حکمرانی کی سب باتیں جھوٹ ثابت ہو چکی ہیں۔قاہرہ کے التحریر چوک سے شروع ہونے والی انقلابی تحریک کو عرب بہار کا نام دیا گیا تھا۔ مصر عرب دنیا کا اہم ملک ہے۔اس میں رونما ہونے والی تبدیلیاں دوسرے ملکوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس لئے مصر میں عوامی تحریک کی کامیابی کے بعد کئی ملکوں میں آمروں کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تبدیلی لانے کی کوشش کی۔ لیکن تین برس کی مختصر مدت میں سارا جوش و ولولہ تحلیل ہو گیا۔ عرب بہار کے نام سے انقلاب لانے کی خواہش رکھنے والے گروہ غیر منظم نوجوانوں پر مشتمل تھے۔ انہیں کسی ٹھوس سیاسی ڈھانچے کی ہمدردی حاصل نہیں تھی۔ اس لئے اس تحریک کو مستقل تبدیلی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکا۔مصر کی حد تک ملک کی قدیم اور منظم تنظیم اخوان المسلمین نے حسنی مبارک کے علیحدہ ہونے کے بعد گرمجوشی سے قیادت کے لئے خالی ہونے والی جگہ کو پر کرنے کی کوشش کی۔ انہیں عام طور سے پذیرائی بھی نصیب ہوئی۔ 2012 کے انتخابات میں اخوان المسلمین کے امیدوار محمد مرسی نے صدارتی انتخاب جیت کر اقتدار سنبھالا۔ انہیں ملک کی طاقتور فوج اور بگڑی ہوئی معاشی حالت کا سامنا تھا۔ بدنصیبی سے مرسی اور ان کے ساتھیوں نے سیاسی دوربینی سے کام لینے کی بجائے انقلابی ہتھکنڈوں سے ملک اور لوگوں پر اپنا ایجنڈا تھوپنے کی کوشش کی۔اقتدار سنبھالتے ہی اعلی فوجی قیادت میں تبدیلیاں کی گئیں۔ عجلت میں ایک ایسا آئین منظور کروایا گیا جس کے بیشتر حصوں پر ملک کی بھاری لبرل اور غیر مسلم اقلیت کو شدید اعتراضات تھے۔اس کے باوجود صدر مرسی عوام کی بات سننے ، احتجاج کے جواب میں نرمی اختیار کرنے اور باہم بات چیت کے ذریعے درمیان کا راستہ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ملک کے لبرل عناصر نے اس رویہ سے عاجز آ کر احتجاج شروع کر دیا۔ حکومت ایک طرف مسلح افواج کا اعتماد کھو چکی تھی تو دوسری طرف روزگار اور سماجی سہولتوں کے حوالے سے عوام کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام رہی۔ مسلسل سیاسی بے چینی اور احتجاج کی فضا کی وجہ سے ملک کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی۔ اس طرح بیروزگاری ، احتیاج اور غم و غصہ میں مزید اضافہ ہوا۔اخوان المسلمین نے اپنے رویے اور طرز عمل سے صرف مصری عوام کو ہی مایوس نہیں کیا۔ انتہا پسندانہ ایجنڈے کی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک کے تحفظات میں اضافہ ہوا۔ طاقتور اور دولتمند عرب ملک بھی صدر مرسی اور ان کے اخوان ساتھیوں سے ناراض تھے۔ برسر اقتدار اخوان نے داخلی ، علاقائی اور عالمی صورتحال کا ادراک کرنے اور اپنے رویہ میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مرسی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے تھے لیکن ان کا طرز عمل یکطرفہ اور فیصلے آمرانہ تھے۔اس افسوسناک صورتحال میں ملک گیر احتجاج کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں فوج نے صدر مرسی کو معزول کر دیا اور اب انہیں دہشت گردی اور ملک دشمنی جیسے سنگین الزامات میں مقدمات کا سامنا ہے۔ عالمی رائے عامہ کو مطمئن رکھنے کے لئے السیسی نے رسمی طور پر اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ آئینی سپریم کورٹ کے صدر کو عبوری صدر بنا کر فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اخوان المسلمین پر پابندی لگا دی گئی۔ اس جماعت کے حامیوں کو پوری فوجی قوت سے کچل دیا گیا اور ملک کے آئین کو منسوخ کر کے نئے آئین کو ریفرنڈم کے لئے پیش کیا گیا۔اس انتظام کے تحت السیسی نے فوج کی قیادت سے استعفی دے کر فوج کے نمائندے کے طور پر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ مصر کی فوج یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ سویلین لبادے میں ملک کے معاملات وہ اپنے ہاتھ میں رکھے گی۔ اس لئے پورے سرکاری ڈھانچے نے گزشتہ کئی ماہ سے عبدالفتاح السیسی کے لئے بھرپور مہم سازی کی اور وہ طاقتور صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں اترے۔ان انتظامات کے باوجود وہ عوام کو یہ باور کروانے میں ناکام رہے ہیں کہ آخر وہ کون سی تبدیلی لانے کے لئے اقتدار سنبھال رہے ہیں۔ ان کا واحد نعرہ انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔ اس لئے مغربی ممالک اور سعودی عرب جیسے ملک ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن غریب مصری عوام کے لئے یہ نعرہ کافی نہیں ہے۔ السیسی کے پاس معیشت کی بحالی اور لوگوں کی حالت بدلنے اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے پولنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔عالمی مبصرین اور میڈیا نے بھی اپنے نمائندے اسی شیڈول کے مطابق مصر روانہ کئے تھے۔ تاہم مصر کے الیکشن کمیشن نے منگل کی رات کو اچانک ووٹ دینے کی مدت میں مزید ایک روز اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ عالمی مبصرین اس وقت تک ملک چھوڑ چکے تھے۔ مصری انتخاب کے بارے میں عالمی سطح پر پہلے ہی شبہات موجود تھے تاہم اس اعلان نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے بارے میں سارے شبہات کو ختم کر دیا۔اس کے باوجود صرف 39 فیصد لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ اس طرح السیسی کے یہ اعلانات اور دعوے غلط ثابت ہو گئے کہ انہیں 40 ملین لوگ ووٹ دیں گے۔ مصر کے کل ووٹر 54 ملین ہیں۔ البتہ عبدالفتاح السیسی 23 ملین ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔