اہم رہنمائوں کی رہائی ۔۔۔عابد محمود عزام

طالبان کے ہاتھوں امریکیوں کی ہزیمت کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا جارہا ہے۔ امریکا کو ابھی پرانے زخموں پر مرہم لگانے سے فرصت نہیں مل پاتی کہ نئے زخم درد کی ٹیسوں میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔ افغانستان سے فرار کی راہ لیتے ہوئے امریکا کو کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا۔ ابھی افغانستان سے نکلنے کے منصوبوں کی تکمیل بھی نہ ہوئی تھی کہ افغان طالبان نے ایک بار پھر امریکا کو چت کردیا۔ ایک امریکی فوجی کے بدلے پانچ انتہائی اہم طالبان رہنمائوں کی رہائی امریکا پر طالبان کی برتری کا صاف پتا دے رہی ہے۔ طالبان نے اپنی قید میں ایک امریکی فوجی کے بدلے گوانتانامو بے میں قید ملا محمد فاضل اخند، ملا نوراللہ نوری، مولوی محمد نبی عمری، ملا خیراللہ خیرخوا اور ملا عبدالحق وثیق کو رہا کروا کر بڑی فتح حاصل کی ہے، رہا ہونے والے پانچوں افراد طالبان کے اہم رہنما ہیں، جو گزشتہ 13 برس سے امریکا کی قید میں تھے اور طالبان دور حکومت میں اہم عہدوں پر فائز بھی رہ چکے ہیں۔ امریکا کی قید سے رہا ہونے والوں میں ملا خیر اللہ خیر خوا طالبان حکومت کے سابق وزیر داخلہ اور گورنر ہرات کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ملا محمد فاضل اخند طالبان حکومت کے نائب وزیر دفاع تھے۔ ملا نور اللہ نوری صوبہ بلخ کے گورنر رہ چکے ہیں۔ چوتھے رہنما ملا عبدالحق وثیق طالبان کی حکومت میں انٹیلی جنس سروس کے نائب سربراہ تھے۔ رہائی پانے والے پانچویں قیدی مولوی محمد نبی عمری کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے بتایا جاتا ہے، وہ بھی طالبان کے اہم رہنما ہیں۔ طالبان نے ایک امریکی سارجنٹ کے بدلے اپنے پانچ اہم رہنمائوں کی رہائی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے تمام مسلمانوں کو مبارکباد دی ہے۔ تحریک طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر مجاہد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ: گوانتاناموبے جیل سے امارت اسلامیہ کے پانچ اہم مجاہد رہنمائوں کی رہائی کے متعلق، افغان مسلم عوام، سرفروش مجاہدین، قیدیوں کے اقربااور خاندانوں کو اس عظیم فتح کی مناسبت سے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد کہتا ہوں۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ مجاہدین کی بے دریغ قربانیوں کی برکت اور امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کی مدبرانہ جدوجہد کے نتیجے میں امارت اسلامیہ کے پانچ رہنما گوانتاناموبے جیل سے اللہ تعالی کی نصرت سے سالم حالت میں رہا ہوئے۔ اس عظیم کامیابی اور واضح فتح سے تمام مجاہدین رب منان کی بارگاہ میں سربسجود ہوں، جس نے اپنا اثر ہمارے مجاہد عوام کی قربانیوں پر مرتب کیا اور دشمن کی چنگل سے ہمارے مجاہدین کو نجات دلائی۔ یہ عظیم کامیابی ہمیں تمام ملک کی آزادی کی نوید سناتی ہے اور ہمیں مزید تسلی دیتی ہے کہ ان شاء اللہ افغان مجاہد عوام کی آرزوو ں سے بھری کشتی ساحل کی جانب قریب پہنچ چکی ہے۔ ملا محمد عمر مجاہد نے اپنے اہم رہنمائوں کی رہائی پر مملکت قطر اور اس کے امیر جناب شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی کا بھی شکر یہ ادا کیا، جنہوں نے مذکورہ رہنمائوں کی رہائی میں مخلصانہ جدوجہد، ثالثی اور میزبان کا کردار ادا کیا۔واضح رہے کہ طالبان نے اپنے پانچ اہم رہنما صرف ایک امریکی فوجی بووی برگڈل کے بدلے میں رہا کروائے ہیں، بووی برگڈل کو 30 جون 2009کو مشرقی افغانستان میں طالبان نے اغوا کرلیا تھا۔ امریکی سارجنٹ برگڈل امریکی فوجی افغان طالبان کے زیر حراست تھا۔ پینٹا گون کے مطابق بووی برگڈل مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتیا میں متعین الاسکا سے تعلق رکھنے والی انفنٹری رجمنٹ سے متعلق تھا۔ وہ افغانستان پہنچنے کے پانچ ماہ بعد ہی اپنے اڈے سے لاپتا ہو گیا تھا۔ امریکا کی جانب سے بووی برگڈل کی محفوظ بازیابی پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ رواں سال جنوری سے امریکی کانگریس میں اس امریکی سارجنٹ کی رہائی کا معاملہ زیرِ بحث تھا، جس کے بعد امریکا نے طالبان کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ سارجنٹ بووی برگڈل کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔ طالبان نے اسی ماہ امریکی فوجی کی ویڈیو جاری کی تھی۔ رواں سال فروری میں افغان طالبان نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔ ان مذاکرات میں 2009 سے طالبان کی قید میں موجود امریکی فوجی سارجنٹ بووی برگڈل کے بدلے امریکا کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتا نامو بے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات چیت ہو رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے طالبان سے اپنے ایک فوجی کو چھڑانے اور طالبان کے پانچ اہم رہنمائوں کو چھوڑنے کے بارے میں معاہدہ انتہائی خفیہ رکھا اور افغان حکومت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ معاہدے کے تحت یہ طے پایا ہے کہ رہا کیے گئے طالبان رہنما ایک سال تک سفر نہیں کرسکیں گے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوگی۔دوسری جانب ایک امریکی سارجنٹ کے بدلے اپنے پانچ اہم رہنمائوں کی رہائی کے معاملے پر طالبان کو بڑی فتح ملنے سے امریکا کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی بحث جاری ہے اور امریکی صدر اوباما شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ بہت سے ریپبلکن رہنمائوں نے طالبان کے اہم رہنمائوں کی رہائی کے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک خراب روش قائم ہوئی ہے۔ امریکا کی اہم جماعت ریپبلکن پارٹی نے کہا ہے کہ طالبان کے اہم رہنمائوں کی رہائی سے امریکیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی، جبکہ سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان میک کین کا کہنا تھا کہ جن قیدیوں کو قطر کے حوالے کیا گیا ہے، وہ انتہائی خطرناک قسم کے لوگوں میں شامل ہوتے ہیں۔ جو طالبان رہا کیے گئے ہیں، وہ ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہائوس انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ریپبلکن مائک روجرس نے کہا کہ واشنگٹن نے القاعدہ کے تاوان کے لیے اب ایک قیمت طے کردی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے نمائندے ایڈم کنزنجر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سارجنٹ برگڈل کی واپسی کا جشن منائیں گے، لیکن افغان قیدیوں کی رہائی افسوسناک ہے۔ ریپبلیکنز کے کانگریس کے رکن مائیک روگرز نے اہم طالبان رہنمائوں کی رہائی کے فیصلے کو امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی قرار دیا اور کہا کہ اس سے دنیا بھر میں شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں اشارہ ملے گا کہ وہ امریکا کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ جبکہ امریکا کے وزیر دفاع چیک ہیگل نے اپنے ایک فوجی کی رہائی کے بدلے میں پانچ افغان طالبان رہنمائوں کو چھوڑنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ہے قیدیوں کے تبادلے سے طالبان سے تعلقات میں مدد ملے گی۔ تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ صرف جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کا امن کے عمل سے کوئی تعلق ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو بے گناہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ ہم نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، امریکا نے انہیں رہا کرکے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک امریکی قیدی کے بدلے طالبان کا اپنے پانچ اہم رہنمائوں کو رہا کروانا واقعی ایک بڑی کامیابی ہے، ان رہنمائوں کی رہائی سے افغانستان میں غیر ملکی افواج سے برسر پیکار طالبان کی قوت کو مزید تقویت ملے گی۔