برطانوی شہریت کی پابندیاں۔۔۔ضمیرنفیس

برطانیہ کا دستور نرالاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی شخص جرم کرتاہے تو برطانوی حکومت اپنے مفاد میں اسے سیاسی پناہ دیتی ہے لیکن اگر اس کی سرزمین پر کوئی جرم کرتاہے تو پھر اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑتی ہمارے ہاں کی طرح وہاں حکومت سے مخالفت کی بناء پر کسی کے خلاف مقدمہ بنتاہے نہ کوئی حکومتی شخصیت کسی ملزم کو پولیس کی حراست سے چھڑوا سکتی ہے برطانیہ کی پولیس کا کام کرنے کا انداز اور اس کے قوانین بھی ہمارے ہاں سے مختلف ہیں ہماری پولیس شبہ کی بناء پر لوگوں کو گرفتار کرتی ہے اس کے بعد الزامات عائد کرتی ہے جو بسا اوقات پولیس ہی کی کسی تفتیشی ٹیم کی تحقیقات کے نتیجے میں غلط ثابت ہوجاتے ہیں مگر برطانیہ میں معاملہ ایسا نہیں ہے وہاں پولیس سب سے پہلے ثبوت حاصل کرتی ہے جس شخص پر شبہ ہوتاہے اس سے تحقیقات کرتی ہے اور جب بہت سے ٹھوس شواہد اس کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اس کے بعد وہ متعلقہ شخص کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرتی اور اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارتی ہے الطاف حسین کے معاملے میں بھی یہی ہوا شروع میں پولیس نے عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں تحقیقات کے دوران ایم کیو ایم کے لندن سیکرٹریٹ کا دورہ کیا اور کارکنوں ولیڈروں سے پوچھ گچھ کی عمران فاروق چونکہ ماضی میں ایم کیو ایم سے وابستہ رہے اور ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ نئی پارٹی بنانے کے عزائم رکھتے تھے اس لئے لندن پولیس کا متحدہ کے قائد الطاف حسین سے رابطہ ناگزیر تھا انہی رابطوں اور تحقیقات کے دوران جب پولیس نے چھاپے مارے تو دفتر اور رہائش گاہ سے بھاری مالیت کی برطانوی کرنسی قبضہ میں لی گئی برطانوی قوانین کے مطابق اگر آپ کے بنک میں دوہزار پائونڈ سے زائد رقم آتی ہے تو آپ کو اس بارے میں بھیبتانا پڑتا ہے چہ جائیکہ بھاری مالیت کی کرنسی دفتر اور گھر میں رکھی گئی ہو یہ کرنسی کہاں سے آئی برطانوی حکومت کو اس پر ٹیکس ادا کئے گئے یا نہیں اور دفتریا گھر میں کن مقاصد کے تحت رکھی گئی ہے اس صورتحال پر پولیس کو مطمئن کرنا لازمی ہے برطانوی شہری ہونے کی حیثیت سے الطاف حسین کو اس حوالے سے تمام سوالوں کے جواب دینے تھے وہ برطانوی پولیس کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے اسی دوران ان کے بنک اکائونٹ بھی منجمند کردیئے گئے اب پولیس نے ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے بعد ان کی باضابطہ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کی ہے متحدہ کے قائد الطاف حسین نے چند ہفتے قبل اچانک پاکستانی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اس سلسلے میں کوششیں شروع کردیں بعد ازاں حکومت پر یہ الزامات بھی عائد کئے گئے کہ وہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی فراہمی کے معاملے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے احتجاجاً دھرنے بھی دئیے گئے ایک عدد ہڑتال بھی کروائی گئی اب یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ اچانک انہیں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی ضرورت کیوں پیش آگئی تھی پیپلزپارٹی کے رہنماقمرالزمان کائر ہ کاکہنا ہے کہ برطانیہ کا سسٹم ایسا ہے کہ وہ تفتیش کوچھپاکررکھتے ہیں اس وقت تک برطانوی پولیس کوئی بات نہیںکرتی جب تک حقائق کو تہہ تک نہ پہنچ جائے جوصورتحال اب سامنے آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر الطاف حسین کو پاسپورٹ مل بھی جاتا تو انہیں برطانیہ سے باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی برطانوی شہریت کا حسن اور اسکی کشش یقیناًبہت زیادہ ہے لیکن جب کوئی برطانوی شہریت حاصل کرلیتا ہے تو اس کے بعد اس پر برطانوی قوانین کی پاسداری بھی لازم ہوجاتی ہے مگر شاید وطن عزیز کے دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا خدا کاشکر ہے کہ الطاف حسین پاکستان میں نہ تھے اور ان کے خلاف کسی مقدمے میںکارروائی نہیں ہوئی وگرنہ حکومت پاکستان پر ایسی ایسی سازشوں کے الزامات لگتے کہ توبہ ہی بھلی اب چونکہ معاملہ برطانیہ کا ہے اور اس کے قوانین اور سسٹم سے بھی پوری دنیا آگا ہ ہے اسلئے ایم کیو ایم کی طرف سے یہ الز ام نہیں لگ سکتا کہ برطانوی پولیس اور حکومت ایم کیوایم کی مقبولیت سے خائف ہے یا برطانوی حکومت کے اندر کوئی ایسی لابی موجود ہے جوالطاف حسین کی دشمن ہے کراچی میں ہم وطنوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جلانے کے واقعات افسوسناک ہیں اب ایم کیوایم کو اپنے لیڈر کی بیگناہی ثابت کرنے کیلئے قانونی جنگ لڑنی ہے اس کے کارکنوں کو منفی طرز عمل سے گریز کرنا اور قانون کے پابندشہریوں کاکردار ادا کرنا ہوگا سیاسی لیڈر کے جیل اور حوالات جانے پر احتجاجکیوں جیلیں تو لیڈروںکو کندن بناتی ہیں۔