روشن اور تاریک پہلو۔۔۔شاعرالرحمان عباسی

  اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اس کو اپنے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت سمجھتے ہیں جس سے مایوسی کے بادل چھٹ جانے کے امکانات نظر آتے ہیں میاں شہباز شریف کو پنجاب کی ترقی کے لئے جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے کا ایک بڑا کریڈٹ حاصل ہے۔
 وزیر اعلی شہبازشریف کے پچھلے دور میں انہوں نے ایک مختلف انداز میں صوبے کی ترقی کو رخ دیا اس میں ترکی ماڈل میٹروبس سروس کو لاہور کے عوام کو دے کر ان کی سفری سہولت میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔
 شہبازشریف کو چائنا کی ٹرانسپورٹ کی ترقی نے بہت متاثر کیا اور میٹروٹرین چلانے کا منصوبہ چین کی مدد سے شروع کیاجا رہاہے جو27کلومیٹر پر محیط ہے پاکستان میں یہ ایک نیاحیران کن ترقی کا سفر ہے جس سے سفر کا معیار بہت مفید ہو جائے گا اور عام آدمی اپنے آپ کو ترقیاتی یافتہ ملک کا باشندہ سمجھنے لگے گا۔
راولپنڈی اسلام آباد میں میٹروبس منصوبہ پر تیزی سے کام جاری ہے اس کے آغاز سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرنے والے روزانہ ایک عذاب میں مبتلا ہورہے ہیں موجودہ ٹرانسپورٹ سروس عوام کو ذہنی اور جسمانی طور پرتھکا دیتی ہے اور اس ٹرانسپورٹ سروس کے ملازمین کا رویہ بھی عوام کے ساتھ توہین آمیز رہتاہے ۔
وزیر اعلی پنجاب دیگر کئی پراجیکٹس پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس میں انرجی کی مانگ کو پورا کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں جس سے عوام کو یہ امید بندھ گئی ہے کہ ترقی کاسفر جاری ہے اور تیزی سے منزل کی جانب بڑھ رہاہے۔ لیکن روزمرہ کے جرائم کے واقعات نے پنجاب حکومت کی ترقی کی بہتر کارکردگی کو پس منظر میں ڈال دیاہے توہین رسالت کی ایک پرانی خبر پر ملتان میں ایک وکیل قتل کر دیاگیاہے اس کے علاوہ مزید جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے جس میں خوف وہراس کی فضا پھیل رہی ہے جس علاقہ میں انسانوں کو جان کا خطرہ ہو وہاں خوشحالی کی ترجیح دب کر رہ جاتی ہے بعض جگہ خوف کے مارے اپنے عالیشان مکان چھوڑ کر امن کی تلاش میں دوسرے علاقے میں چلے جاتے ہیں جہاں انہیں خوف نہ ہو امریکہ سے آیا  پاکستانی کارڈیالوجسٹ جو پاکستان میں اپنی خدمات جاری رکھنا چاہتاتھا مذہب کی بنیاد پر قتل کر دیاگیا جس پرحکومت کی جانب سے سخت ایکشن کی توقع کی جاتی تھی لیکن اس پر ابھی تک ملزمان کو گرفتار کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
 ایک نوجوان لڑکی کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں سرعام باپ اور بھائی نے اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا یہ افسوسناک واقعہ ہائی کورٹ میں موجود پولیس کی بے حسی کا منہ بولتاثبوت ہے اس واقعہ کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ لڑکی ماں بننے والی تھی ہائی کورٹ میں درجنوں افراد کی موجودگی جو اس واقعہ پرخاموش تماشائی بنے رہے ان کی بے حسی پر ماتم ہی کیاجاسکتاہے اس مجرمانہ غفلت پر پولیس کے اہلکار کو سزا سے نہیں بچناچاہیے لیکن اکثر ایسے واقعات پر پولیس کوئی نہ کوئی بہانہ بناکربچ نکلتی ہے اس طرح کے واقعات اس وجہ سے بھی پیش آتے ہیں جب مجرموں کو قانون کی گرفت میں آنے کا ڈر نہ ہو۔
پنجاب اسمبلی کے ایک رکن نے ایک ڈاکٹر کے منہ پر طمانچہ مارا کیونکہ اس نے اس ایم پی اے کے پروٹوکول کو نظر انداز کیا ایم پی اے کی ایک ڈاکٹر سے بد اخلاقی قابل مذمت ہے اور اس پر وزیر اعلی کو اس پر سخت ایکشن لیناچاہیے۔
 مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رانا جمیل کا اغوا برائے تاوان پنجاب حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے1,1/2لاکھ لوگوں کے نمائندوں کا اس طرح اغواء ہونا جنگل کا منظر پیش کر رہاہے اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ اغواکاروں کو قانون سے کوئی ڈر نہیں ہے اور نہ ہی وہ پنجاب حکومت کی طاقت کو خاطر میں لا رہے ہیں لہذا حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے اس کیس کے مجرمان کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا دلوائے تاکہ یہ دوسروں کے لئے بھی باعث عبرت ہو تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہ دہرائے جائیں۔
 اگروزیراعلی پنجاب اپنی اچھی کارکردگی کا صحیح کریڈٹ لینا چاہتے ہیں تو پھر پنجاب میں امن وامان کو یقینی بنایاجائے جہاں عدل کا بول بالا ہو جس سے عوام امن اور سکون کی زندگی بسر کرسکیں امن وامان اور ترقی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اگر امن وامان قائم نہ کیاگیا توپھر ترقی کے پھل سے عوام لطف اندوز نہیں ہوسکیں گے۔