Get Adobe Flash player

امریکہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  امیر جماعة الدعوہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں شکست کے بعد براہ راست مہم جوئی کی بجائے اپنی جگہ بھارت کی فوجوں کو وہاں متعین کر رہا ہے۔ بھارت کو اس خطہ کا تھانیدار بنانے کی کوششیںکی جارہی ہیں۔ پاکستان پر بھارت کی سپرمیسی قبول کرنے کیلئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔ امریکہ اور یورپ مصر اور بیروت کی طرح پاکستان میں بھی فحاشی و عریانی کو پروان چڑھانے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کر رہے ہیں۔ عوام اور فوج کے درمیان نفرتیں پیدا کی جارہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان سے انتقام لینے کیلئے بھارت کی فوج کو استعمال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بھارتی فوجی افغانستان پہنچ چکے ہیں اور اس تعداد کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ بھارت میں نریندر مودی اور افغانستان میں عبداللہ عبداللہ کو منظم منصوبہ بندی کے تحت اقتدار میں لایا گیا ہے۔ وہ مشرق و مغرب میں پاکستان کیلئے خطرات کھڑے کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکہ و یورپ کی کوشش ہے کہ سارک ممالک غاصب بھارت کے زیر اثر ہوں۔ وہ ان ممالک کی پالیسیاں بنائے اور جنوبی ایشیاکے سب ملک اس کی بنائی گئی پالیسیوں پر عمل درآمد کریں۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بنتے ہی ہندو انتہا پسند جہاں مسلم کش فسادات کا سلسلہ پروان چڑھا رہے ہیں وہیں اذان فجر پر یہ کہہ کر پابندی کے مطالبات کئے جارہے ہیںکہ اس سے ہماری نیند خراب ہوتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اسلام و پاکستان دشمنی کی بنیاد پر انتخابات لڑے۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیرکے اعلانات کئے گئے۔ ہندو انتہا پسند سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام اور ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔  یہ حقیقت ہے کہ امریکہ خطے میں استحکام نہیں چاہتا۔ پاکستان نے امریکی جنگ میں اتحادی کا کردار ادا کرنے کی قیمت جانی ومالی نقصانات کی صورت میں ساری دنیا سے زیادہ ادا کی، لیکن امریکہ نے بھارت کو سر پر چڑھایا ہوا ہے۔ بھارت نہ تو افغانستان کا ہمسایہ ہے نہ اس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ نہ ہی کوئی مذہبی، ثقافتی یا روحانی رشتہ ہے تو پھر بھارت کو افغانستان میں مراعات دینے کا کیا مطلب ہے۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امریکہ سے ڈرون طیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ممالک میں بھارت سر فہرست ہے۔بظاہر بھارت امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں امریکی مفادات کی دیکھ بھال کے لئے ڈرون طلب کر رہا ہے، مگر سب جانتے ہیں کہ یہ ڈرون صرف اور صرف پاکستان کے خلاف استعمال ہوں گے۔ حامد کرزئی کا یہ اعلان ریکارڈ پر موجودہے کہ وہ افغان افواج کو تربیت کے لیے بھارت بھیجیں گے۔ بھارت افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ڈیڑھ لاکھ کے قریب بھارتی افواج کو تعینات کرنے کا خواہاں ہے۔ افغانستان میں بھارت کو لانے کا مقصد اس خطے کو عدم استحکام میں مبتلا رکھنا ہے۔ حیرت ہے کہ امریکی 12 سال تک افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکرانے کے باوجود افغانستان کے مزاج کو نہیں سمجھ سکے۔ امریکہ کے بھارت نواز رویے سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ماضی میں افغانستان کے اندر ایک درجن کے لگ بھگ بھارتی قونصلیٹ دفاتر کے قیام کے معاملے میں بھی اس نے اہم کردار ادا کیاتھا وہ شروع سے ہی کابل میں پاکستان کے مقابلے میں بھارتی اثرو رسوخ کے اضافے کے لئے کوششیں کر رہاہے۔ کابل میں سفارت خانہ کے علاوہ قندھار، جلال آباد، مزار شریف اور ہرات میں قونصل خانے ہیں۔ یہ قونصل خانے پاکستان کے خلاف بھارتی خفیہ کارروائیوں کے بڑے مراکز ہیں۔ جہاں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔بھارت کی افغانستان سے تجارت اور بھارتیوں کی آمدورفت جلال آباد کے راستے سے ہوتی ہے۔ قندھار کے راستے نہ تو تجارت ہوتی ہے اور نہ ہی بھارتی سفارتکاروںاور عام شہریوں کی آمدورفت۔ بھارتی قونصل خانوں سے پاکستان بالخصوص بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں منفی سرگرمیوں کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ بھارتی ایجنسی را نے افغانستان کے مختلف علاقوں خواجہ گڑھ، خوست، پکتیا، جلال آباد ، دارگون، دانگ وغیرہ میں بعض این جی اوز اور تعمیراتی کمپنیوں کے نام سے بھرتی آفس بھی کھول رکھے ہیں جہاں مقامی لوگوں کوبھرتی کر کے ان کو بھی تربیت دیکر پاک افغان سرحد اور بلوچستان میںتخریب کاری کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکے اور دہشت گردی کی وارداتیں امریکی اور بھارتی سازش ہیں۔امریکہ اورا س کے اتحادی افغانستان میں اپنی آخری گیم کھیل رہے ہیں۔بھارت کو خطہ کا تھانیدار بنانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گی۔  دہشت گردی سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہشت گردی کا قومی سطح پر مقابلہ ناگزیر ہے۔ امریکہ کی جنگ سے علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ڈرون حملہ امریکہ کرتا ہے، لیکن قیمت پاکستان کو چکانا پڑتی ہے۔ جب تک ہم امریکی جنگ سے نہیں نکلیں اور ڈرون حملے نہیں روکیں گے دہشتگردی بھی نہیں رکے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت اس وقت تک افغانستان میں ہے جب تک امریکہ ہے۔ گویا امریکہ کے کندھوں پر سوارہو کر بھارتی افغانستان تک پہنچے ہیں اور امریکہ کے ساتھ ہی نکل جائیں گے۔ افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار نہیں۔ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگانے اور جنوبی ایشیاء پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس منصوبے میں امریکہ بھارت کی بھرپور معاونت کر رہا ہے۔ افغانستان میں بھارتی موجودگی کی وجہ بھی یہی ہے۔ امریکہ کے بعد افغان عوام بھارت کو کسی صورت میںبھی اپنے اندر برداشت نہیں کریں گے۔لہذابھارت افغانستان میں رہنے کے لئے مختلف بہانے بنا رہا ہے۔ اصل میں وہ افغانستان میں بیٹھ کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے چکر میں ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔ دشمنان اسلام کی یلغار کے آگے بند باندھنے کیلئے پوری قوم کو متحد و بیدار ہونا ہو گا۔ وزیر اعظم نوازشریف کو ان حقائق کو سمجھنا چاہیے اور ماضی میںکی جانے والی غلطیوںکی اصلاح کرکے ملکی سلامتی و خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں۔