کھوگئی ہے۔۔۔سمیع اللہ ملک

کائنات کا اسرار ہی یہی ہے۔سب ایک طرح دیکھتے ہیں نہ سوچتے۔ہر بات کے ہزار مطالب،ہر منظر کے لاکھ رنگ۔''دل کے چراغ''پر آپ نے میری ایک بہن کے خیالات پڑھے جو اس معاشرے میں مردوں کے کردار پر ایک بھرپور احتجاج تھا۔اس کالم کے شائع ہونے کے بعد حسبِ معمول بہت سی آراء موصول ہوئیں،ان میں بہت سے جذباتی پیغامات بھی تھے، معاشرے کے بگاڑ پر بہت سے کرداروں کو کوسنے بھی دیئے گئے اور اب تک مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں لیکن اب ایک اور میری بہن نے اس کے جواب میں اپنے جن جذبات کا اظہار کیا ہے،اس کامختصرخلاصہ پیش خدمت ہے۔''کہاں ہیں آج کی فاطمائیں بھائی؟ بہت قابلِ احترام ہیں آپ کی قاریہ بہن،جن کے سامنے آپ نے اپنی کو تاہیوں کا اعتراف کیا،ان کے دکھائے ہوئے آئینہ میں نہ معلوم آپ نے اپنے چہرے کے کیا خدوخال دیکھے کہ فوراًان سے رہنمائی کی درخواست کر بیٹھے۔ان کی آراء  پڑھ کر میرا تو جذبہ جنون میں بدلنے لگاکہ کہاں دیکھوں انہیں اور ہاتھ چوموں ان کی فاطماؤں کے ،جن کیلئے ان کے دیدہ تر علی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔درندوں کے ہجوم میں وہ تنہا ہیں اپنی فاطماؤں کے ساتھ اور ایک خوف اور دکھ نے انہیں سولی پر لٹکا رکھا ہے۔قربان جائیے اس ماں کے جذبات پر،میں بھی ماں ہوں تین بیٹیوں کی،ایک یونیورسٹی میں استاد بھی ہوں،سولی پر میں بھی چڑھی ہوئی ہوں،لیکن درندوں کے ہا تھوں نہیں بلکہ اس قوم کی ''ماؤں'' کے ہاتھوں!جو کچھ دیکھتی ہوں میں شب و روزاور دکھ یہ کہ لب پر لا بھی نہیں سکتی۔مجھے کہنے دیجئے کہ اس قوم سے ''ماں کھو گئی ہے''اگر آج ماں زندہ ہوتی تو بیٹیاں یوں سرِ بازار اپنی عزتوں کے جنازے نہ کاندھوں پر لئے پھرتیں۔اب تو یونیورسٹی کسی تعلیمی درسگاہ کی بجائے کوئی فیشن میلہ کا منظر دکھائی دیتی ہے۔ہر روز سینکڑوں طالبات میری نظروں سے گزرتی ہیں۔پہلے تو آستینیں مختصر ہوتے ہوتے غائب ہو گئی تھیں ،پھر شلوایں اور پاجامے دن بدن یوں اوپر چڑھ گئے کہ پنڈلیاں کھلتی ہی چلی گئیں اوراب توٹی وی کے فیشن شومیں کیٹ واک نے رہی سہی حیابھی چھین لی ہے۔مجھے ذرا غصہ نہیں آتا ان بچیوں پر،مجھے غصہ آتا ہے ان ''ماؤں'' پرجن کے سامنے یہ بچیاں تیار ہو کرنوک پلک سنوار کرگھروں سے نکلتی ہیں۔کیا یہ مائیں سمجھتی ہیں کہ یوں ان کے بہتر رشتے دستیاب ہو سکیں گے ؟تو بھول ہے یہ ان کی۔ایسے وہ کتنی ہوسناک نظروں کی تسکین کا سامان بنتی ہیں ،کیا گھر واپس آنے والی بچیوں کی مائیں یہ سوچتی ہیں؟میں درزی سے بضد تھی کہ میری بچی کی آستین کتنے انچ کی ہو گی'وہ کہہ رہا تھا :اس کپڑے میں صرف ''اتنے''انچ کی بن سکتی ہے۔میں نے کہا کہ'' میری بیٹی نہیں پہنے گی!''اس پر اس نے جل کر دوکان کے دوسرے سلے ہوئے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا اور بولا''یہ سب قمیضیں بغیر آستینوں کے ہیں،یہ آپ ہی کی بیٹیوں کی ہیں''۔بھائی !آپ یقین کریں اس نے نیم خواندہ ہونے کے باوجود وہ طمانچہ مارا تھا قوم کی ماؤں کے منہ پرکہ میں مارے شرم کے کچھ بھی تو نہ کہہ سکی اور کپڑا اٹھا کر بوجھل قدموں سے دوکان سے نکل گئی۔طارق روڈ پر اپنی بارہ سالہ بیٹی کیلئے لباس کی تلاش میں گئی کہ کسی شادی میں پہننے کیلئے اس کو نیا جوڑا درکار تھا۔آپ یقین کریں کسی دوکان پر آستینوں والے کپڑے نہ مل سکے۔ایک دوکاندار بولا: '' آستینیں علیحدہ رکھی ہیں 'آپ کنٹراس کر سکتی ہیں''۔میں نے کہا کہ آستینیں قمیض سے علیحدہ کیسے ہو گئیں؟بولا''مائیں پسند نہیں کرتیں آستینوں والے کپڑے!ہم تو وہی پروڈکٹس لاتے ہیں جن کی ڈیمانڈ ہوتی ہے''۔کیا بچیاں اپنی خریداری خود کرتی ہیں؟کیا ان کا ٹیسٹ(پسند) ان کا ذوق ان کی مائیں ترتیب نہیں دیتیں؟اکثر بس میں سفر کرنے کا اتفاق ہوتا ہے مجھے۔میرے قریب بیٹھی  ہو ئی میری ہی یونیورسٹی کی طالبات کے ہاتھ مسلسل موبائل پر مصروف ہوتے ہیں یا موبائل کو کان سے لگائے وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔ان کے چہرے پر آتے جاتے رنگ خوب عکاسی کرتے ہیں کہ وہ کس سے باتیں کر رہی ہیںلیکن وہ اپنے اطراف کی دنیا سے بے خبرافسانوی دنیا کا حصہ ہوتی ہیں۔ان کے ہاتھوں میں جب ہم نے موبائل دیا تو کوئی چیک اینڈ بیلنس رکھا؟ اس ماں کے آنسو مجھے نہیں بھولتے جو انتہائی معزز اور متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اس نے بیٹی کی شادی مجبوراًاس نوجوان سے کی جو اس کے گھر انٹر نیٹ کنکشن دینے آیا تھا۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ نیٹ پر یہ دوستی اتنی مضبوط ہو جائے گی۔میں نے اس خاتون سے کہا کہ''بیٹی پر نظر کیوں نہیں رکھی؟''بولیں''ہاں یہ اندھا اعتماد تھا میرا،میں نے اس وقت سوچا ہی نہ تھاکہ میرے گھر میں یہ سب کچھ ہو جائے گا۔اب جی چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر سارا معاشرہ سر پر اٹھا لوں کہ اے میری طرح کی بد نصیب ماؤ!خدارا ہوش میں آؤ۔'' بازار میں چلتے چلتے قدم ٹھٹھک سے جاتے ہیں جب وہ ادھیڑ عمر کی ماں جس نے خود کو عبایا سے ڈھانپا ہوا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی ٹین ایج کی بچی مختصر یا بغیر آستینوں اور نیم عریاں پنڈلیوں کے ساتھ اٹھلا اٹھلا کر چل رہی ہوتی ہے۔میری میٹرک کی طالبہ بیٹی مجھے نام گنواتی رہی کہ سہیلی کی شادی پر اس کی کن کن سہیلیوں کی ماؤں نے بیٹیوں کو کیپری (وہ پاجامے جن سے نصف پنڈلیاں نظر آتی ہیں)لے کر دیئے ہیں۔اس کی دلیل یہ تھی کہ اچھی مائیں وہ ہوتی ہیں جو بچیوں کی خواہشات کا خیال رکھتی ہیں۔بھائی!مجھے بتائیں،میں وہ دن کیسے بھول جاؤں جب میری بیٹی کی میٹرک کی الوداعی تقریب تھی جس میں والدین مدعو تھے۔