Get Adobe Flash player

سام یا ٹام۔۔۔ انکل سام

احباب کے سامنے ہمارے قلمی نام کے حوالے سے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے جس کا وہ اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہم اپنے اس قلمی نام کی وضاحت بھی کر دی ہوئی ہے۔ کچھ کو سمجھ آگئی ہے ۔ انہوں نے قبول کرلیا ہے اور کچھ کو سمجھ آنہیں رہی ہے۔ ان سے عرض ہے کہ اپنے مطالعے کو فروغ دیں اور کوششیں جاری رکھیں انشاء اللہ انہیں بھی سمجھ آجائے گی۔ اور ہاں جنہیں بالکل ہی سمجھ نہیں آنی ہے یا انہیں سمجھ آنی ہی نہیں ہے تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے ہمارے حافظے میں تو ایسے ناسمجھ انسانوں کے سمجھانے کا کوئی عمل سرے سے موجود نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اور جو ضروری ہے وہ ہے حجت تمام اور اس لفظ حجت تمام کے حوالے سے جو ہم نے کہا ہے وہ بالآخر یہی کیا ہے اور مختلف قلمی ناموں سے لکھتے لکھتے موجودہ قلمی نام کو ہی فائنل کرلیا ہے۔ مگر مصیبت جو سامنے موجود  ہے وہ یہ کہ احباب میں سے چند کو یہ ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ پھر بھی نہ جانے نہ سمجھنے والے احباب کے کیا مقاصد ہیں جو سیدھی اور صاف بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں  اول تو یہ ہے کہ ہمارے شناختی کارڈ والے نام کے تینوں حرفوں کے پہلے پہلے والے ایک ایک حرف کو اکٹھا کرکے لکھا جائے تو جو لفظ وجود میں آئے گا وہ یہی موجودہ قلمی نام ہوگا۔ دوئم اگر تاریخی حوالے سے ماضی کی طرف جایا جائے (جس کے لئے مطالعہ ضروری ہے) تو بھی سمجھ والوں کے لئے علمی اطمینان موجود  ہے۔ مثلاً نوح علیہ السلام کے مومن بیٹوں میں سے ایک کا نام سام ہے۔ اور اسی بیٹے کی اولاد خطہ عرب میں آباد ہے خاص کر اس کے حوالے سے موجودہ اسرائیل جو کہ صہیونی ٹولہ ہے وہ اپنے آپ کو سامی النسل گردانتا ہے یہ ان یہودیوں کا وہی طرز کا عمل ہے جس طرح '' بنی اسرائیل'' سے صرف لفظ اسرائیل کو استعمال کر رکھا ہے۔ اسی طرح ان صہیونیوں نے اپنے آلہ کار امریکہ بزدل کے عوامی نفرتی نام ٹام کی جگہ 1812ء میں سام کا نام دے رکھا ہے۔ امریکیوں کو انکل ٹام کی بجائے سام اور خود کو بنی اسرائیل کی بجائے صرف اسرائیل کہلوانا بدنیتی کی زبردست گواہی ہے حقیقت یہ ہے کہ  عبرانی زبان میں ائیل معنی ''اللہ'' کے ہیں اسرار کے معنی ''بندے'' کے ہیں اور بنی کے معنی ''بیٹے'' کے ہیں گویا بنی اسرائیل کے معنی ہوئے اللہ کے بندے کے بیٹے اور یہ اعزاز حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ہی مخصوص ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا شجرہ شریف حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ اور ادھر ختم المرسلین رحمت اللعالمین حضرت محمدۖ کا شجرہ شریف بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ اس لئے یہ سچ صہیونی  یہودیوں کو قبول نہیں ہے اور یوں انہوں نے بنی اسرائیل کی سچائی کو عام ہونے  سے روکنے کے لئے اپنا مملکتی نام اسرائیل رکھا ہوا۔ بالکل اسی طرح ٹام اور سام کا معاملہ بھی ہے فرق صرف یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بجائے اسرائیل کا استعمال کرنا خیر کو روکنے کے لیے ہے اور ٹام کی جگہ سام کو استعمال کرنے سے امریکیوں کے لیے خیر کا اہتمام کرنا ہے صہیونیوں کی یہ نہ صرف خود غرضی اور اپنی مرضی ہے بلکہ یہ سراسر گمراہی ہے اور یہ گمراہی والا صیہونی ٹولہ باطلی روپ ڈھال کر انسانیت کی تباہی کے پورے سلسلے چلا رہا  ہے اس کام کے لیے صیہونیوں نے امریکی سرزمین اور امریکی حکومت کو آلہ کار بنا رکھا ہے امریکہ بزدل کو سامنے رکھ کر جو کچھ ظلم انسانوں سے روا رکھا جارہا ہے خاص کر اہل اسلام کے ساتھ سازشوں کا سلسلہ اور جنگ و جدل کا سلسلہ یہ سب کچھ امریکی انتظامیہ سے ہی متعلق ہے امریکی اور ہمنوا ٹولے کی تمام کاررائیاں صیہونی ایجنڈے کے لیے کی جارہی ہیں پوری دنیا اب بری طرح فساد کی زد میں ہے ۔صیہونیوں با طلی ٹولے کو پورا پورا احساس ہے کہ عوامی نفرت ان کے خلاف بڑھ رہی ہے اور عوامی نفرت کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے ہی یہودیوں کو اسرائیلی اور امریکیوں کو ٹام کی بجائے سام نام سے یاد کروایا جارہا ہے یہودیوں اور امریکیوں کو علم ہے کہ امریکہ بزدل کے ظلمی کردار کے حوالے سے انکل ٹام کانام عوام نے اسے دے رکھا ہے اس لیے کہ امریکی زمین پر غاصبانہ قابض یہی سفید بدمعاش ہیں امریکہ کے  اصل وارث ریڈ انڈین ہیں جن پر اس وقت ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے فلم (The Roots)کے مطابق ان مظالم کا عشر عشیر جو دل ہلا دینے کے لیے کافی ہے  اسے دیکھا جاسکتا ہے خصوصاً کولمبس کی دریافت (امریکہ)کے بعد لاکھوں انسانوں کو تہہ تیخ کیا گیا تھا انسانی تجارت کا مکروہ دھندہ بھی ان وقتوں میں عروج پر رہا ہے۔امریکیوں کے ظالمانہ کرتوتوں کی بناء پر انہیں انکل ٹام کہا جاتا تھا تاکہ امریکیوں کی ظلمی کارروائیوں کو بھلایا نہ جاسکے صیہونیوں نے امریکیوں کو آلہ کار بنانے کے بدلے امریکیوں کو جہاں اور مادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کی وہاں اس نفرتی نام انکل ٹام(Uncle Tom)کی جگہ انکل سام کو 1812ء میں بدل دیا گیا تاکہ آنے والے دنوں میں انسان ٹام کو بھول کر سام کو امریکیوں کے لیے مخاطب کریں اور جو نفرت ٹام کے حوالے سے ہے اسے سام کے حوالے سے کم کیا جاسکے چونکہ پوری دنیا میں معاشی کنٹرول کے ساتھ ساتھ میڈیائی اجارہ داری بھی یہودیوں کے پاس ہے اور اس کا انہوں نے فائدہ اٹھا کر پراپیگنڈہ سے Tomکو Samسے مشہور کردیا اور اس کے لیے اسلامی خطوں میں اپنے زرخریدوں سے ٹام کی بجائے سام کا رواج ڈال دیا مقصد اتنا ہے ٹام(Tom)کے بدلے لفظ سام (Sam)میں نرمی ہے ٹھنڈک ہے عزت ہے اور اس امریکی سازشی چالبازی کے ساتھ کچھ نام کے بے عمل بے علم بے سمجھ  دانش فروش انسان بھی کردیئے ہیں۔ سام کا نام شریف حضرت نوح علیہ السلام کے مومن بیٹے کا ہے اور اسی سام پاک سے چلتے  چلتے شجرہ مبارک حضرت محمد علیہ السلام ۖ تک آتا ہے اس طرح یہ پاک پوتر نام سام اپنے اندر نوری اثرات رکھتا ہے اور اس نام کو امریکیوں کے ساتھ ہرگز مطابقت نہیں دینی چاہئے اس کے لیے امریکیوں کے اصلی نفرتی نام ٹام(Tom)کو ہی جاری رکھنا چاہئے اس لیے ہم نے توجہ دلائو نوٹس کے حوالے سے اپنوں پرایوں سب آدم علیہ السلام اور اماں حوا کی اولاد کو آگاہ رکھنے کے لیے سام کو اپنا قلمی نام بنایا ہوا ہے تاکہ امریکیوں کی ظالمانہ ٹامی کارروائیاں سام کے پردے میں نہ چھپائی جاسکیں جب ہم نے اپنا قلمی سام(M For Majeed-A for Abdul- S for Syed)کو بطور قلمی نام لکھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ انسانوں کے ساتھ خاص کر مسلمانوں کے ساتھ کیسا دھوکہ ہوا ہے بڑے بڑے علمدانوں اور نادان دانشوروں نے پوچھا کہ یہ نام آپ نے کیوں رکھا ہے پہلے تو افسوس ہوا ان کی بے علمی پر اور پھر جب ہم نے وضاحت کی تو چپ سادھ لی چلیں ہم اپنا کام کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے ہماری احباب سے بھی درخواست ہے کہ خود تحقیق کرکے اس صیہونی وار اور امریکہ بزدل کے لیے خیر کاسبب بننے والے اس لفظ سام کو امریکہ سے ہٹائیں  اور امریکی ظلمی کارروائیو ں کے حوالے سے عوامی نفرتی نام ٹام (Tom)کو جاری کریں اور توبہ بھی کریں تاکہ جو سہولت اسلام دشمن یہودیوں اور امریکیوں کو ٹام کی بجائے سام لکھ کر پہنچائی گئی ہے اس کا ازالہ کرتے ہوئے  امریکہ بزدل کو انکل ٹام (Uncle Tom)ہی لکھا کریں  عرض ہماری  اور مرضی احباب کی۔
 اللہ ہم سب کا حامی و ناصر