ملکی معیشت کے تناظر میںحقیقت پسندانہ بجٹ۔۔۔ضمیر نفیس

وفاقی حکومت نے 2014-15کے لئے 39کھرب 45ارب روپے کامیزانیہ پیش کردیا ہے مختلف اشیاء پر231ارب روپے کے ٹیکس عائد کئے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین سمیت بعض شعبوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے کہ نامساعد معاشی حالات کے باوجود حکومت نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میںدس فیصد اضافہ کیاہے گریڈ ایک سے لے کر پندرہ تک ملازمین کے میڈیکل الائونس میں دس فیصد اور کنوینس الائونس میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے محنت کش کی کم سے کم اجرت دس ہز ار سے بڑھا کر گیارہ ہز ار روپے ماہانہ کردی گئی کم سے کم پنشن کی شرح کو بھی پانچ ہزار سے بڑھا کرچھ ہزارروپے کردیاگیاہے بجٹ میں بجلی پرسبسڈی کے لئے 226ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 525ارب پنشن کی ادائیگی کیلئے 215ارب گورنمنٹ سروسز ڈیلیوری کے لئے 285ارب روپے مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں اس بار ٹیکس وصولیوں کا ہد ف 2810ارب روپے رکھا گیا ہے اور نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ817 ارب روپے لگایا گیاہے بجٹ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ حکومت نے تاجر برادری اورصنعتکار وں کی تجاویز کوبجٹ تجاویز میں شامل کیا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بجٹ پیش ہونے کے بعدتاجر برادری کی طرف سے کسی قسم کے منفی ردعمل کا اظہارنہیں کیا گیا اوراس نے اسے سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے معاشی پوزیشن کے تناظر میں حقیقت پسندانہ اورمتوازن بجٹ پیش کیاہے جس میں قدرے ریلیف بھی موجود ہے روزگار کے مواقع بھی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات بھی شامل ہیں حکومت نے اپنی ترجیحات میں توانائی کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے چنانچہ اس کے لئے 205ارب روپے مختص کئے گئے ہیں یہی ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کے بار آور ہونے سے ملک میں دیگر بہت سے شعبے متحرک ہوسکتے ہیں دفاعی بجٹ میں 11فیصد اضافہ بھی حقیقت پسندانہ ہے بچت اسکیموں سے 11کھرب 29ارب 67کروڑ دس لاکھ روپے حاصل کرنے کاہدف مقررکیا گیا ہے باورکیا جاتا ہے کہ حکومت یہ ہدف آسانی سے حاصل کرلے گی کم آمدنی والوں کوگھر بنا نے کیلئے دس لاکھ کا قرضہ فراہم کرنے کی اسکیم بھی قابل تحسین ہے اس میں سے چالیس فیصد رقم کی ضمانت حکومت فراہم کرے گی گویا25ہزار خاندانوں کوایک سال کے دوران 20ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے غریب افراد کے لئے حکومت کی طرف سے انشورنس اسکیم کا اعلان بھی خوش آئندہے وزیراعظم انشورنس اسکیم کے لئے دوران سال حکومت ایک ارب روپے خرچ کرے گی صوبائی حکومتوں نے رواں سال اگرچہ پرائمری اورثانوی سطح پرشہریوں کوہیلتھ انشورنس فراہم کی مگر اس منصوبے مزید رقم خرچ کی جائے گی پانچ برسوں میں ایک لاکھ بیس ہزار مردوں اورعورتوں کو ٹیکسٹائل کی تربیت دی جائے گی تین ماہ کے ٹیکسٹائل تربیتی پروگرام کے شرکاء کوآٹھ ہزار روپے ماہوار وظیفہ ملے گا ٹیکسائل کی ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر چار ارب 40کروڑ خرچ ہوں گے3لاکھ چھوٹے کسانوں کو ایک لاکھ روپے تک کے قرضے ملیں گے دس مویشی رکھنے والے کسانوںکوانشورنس کی سہولت حاصل ہوگی چھوٹے زرعی قرضوں کی اسکیم پر 30ارب روپے خرچ کئے جائیں گے متعدد افراد کی دس لاکھ تک کی آمدنی پر ٹیکس میں پچاس فیصد رعایت دی جائے گی بجٹ میں حکومت نے تمام طبقوں کے مسائل کوسامنے رکھا ہے اگر سرکاری ملازمین کی مشکلات کو سامنے رکھ کرانہیں ریلیف دیا گیا ہے تو تاجربرادری اورصنعتکاروں کی تجاویز کو بھی بجٹ کاحصہ بنایا گیا ہے نجی شعبے کے کارکنوںکو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرت کو گیارہ ہزار روپے ماہانہ کیا گیاہے تاہم حکومت کو یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ نجی شعبہ حکومت کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرے بہت سے اچھے فیصلوں کے اثرات اسلئے عوام تک نہیں پہنچ سکتے کہ ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور حکومت کواسکی متعلقہ مشینری کی طرف سے عمل درآمد کا یقین دلادیا جاتا ہے اسلئے حکومت کو بجٹ تجاویز کی منظوری کے بعد ان پر سو فیصد عمل درآمد کویقینی بناناہوگا۔