Get Adobe Flash player

اسلامی بینکاری اور صنعتوں کی ترقی۔۔۔ندا عروج

کسی بھی ملک کی معیشت کا دارو مدار اس کی صنعتوں پر منحصر ہے۔ صنعتیں ایک ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر صنعتیں کمزور اور مالی خسارے میں ہوں تو ملک کی ترقی بھی رک جاتی ہے۔کچھ ایسا ہی حال آجکل پاکستان میں بھی ہے ہماری صنعتیںمالی بحران کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ہماری معیشت کمزور ہو چکی ہے اور ملک ترقی سے دور ہو گیا ہے ۔ صرف یہاں پر ہی بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس بحران سے مزید کئی مسائل نے جنم لے لیا ہے جن میں بیروزگاری ، غربت ، مہنگائی وغیرہ شامل ہیں۔ان تمام مسائل کا حل اسلامی بینکاری میں موجود ہے۔ چونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اورزندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام نے ہمیں معیشت چلانے کے بھی سنہری اصول دیے ہیں ۔ اسلامی بینکاری کے مالی امداد کے طریقوں کو استعمال کرکے صنعتی بحران کو حل کیا جا سکتا ہے۔مشارکہ ، مضاربہ، مرابہا وغیرہ اسلامی بینکاری میںسرمایہ کاری کے طریقے ہیں۔اگر کسی صنعت کی سرمایہ کاری مشارکہ کے ذریعے کی جائے تو صنعت اور اسلامی بینک دونوں آپس میں پیسے اکھٹے کرکے پول بنائیں گے جس سے صنعتی کاروبار چلایا جائے گا۔ اس طرح صنعت اور اسلامی بینک دونوں آپس میں شرکت دار بن جائیں گے۔ مشارکہ کی خوبصورتی ہے کہ اگر کاروبار میں نفع ہوگا تو تمام شرکت دار اسے آپس میں تقسیم کریں گے اور اگر نقصان ہوگا تو وہ بھی تقسیم کیا جائے گا۔ اس طرح صنعت کو کاروبار کرنے کے لیے سرمایہ بھی مل جائے گا اور اس پہ ہر ماہ کی قسط کا بوجھ بھی نہ ہوگا۔ کاروباری اونچ نیچ میں اسلامی بینک صنعت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔صنعتوں کی سرمایہ کاری کا ایک اور طریقہ  مضاربہ ہے ۔مضاربہ میں ایک پارٹی سرمایہ لگاتی ہے اور دوسری اس سرمایے کو استعمال کرکے کاروبار چلائی ہے۔منافع دونوں مل کے تقسیم کرتے ہیں جبکہ نقصان کی صورت میں صرف سرمایہ کارہی نقصان اٹھاتا ہے کیونکہ سرمایہ اس کا ہوتا ہے ۔ اس طرح کی سرمایہ کاری صنعتوں میں اعتماد کو بہال کریںگی اور صنعتیں کاروباری سرمایہ کاری سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے جدوجہد کریں گی۔آجکل اسلامی بینک مشارکہ اور مضاربہ کو مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی بینک صنعتوں کو درآ مدات اور برآمدات میں بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ درآمدات کی صورت میں اسلامی بینک درآمدات کے تمام خرچے اٹھاسکتا ہے جن کا نہ ہونا صنعتوں کے لیے دشواری کا سبب ہوتا ہے ۔ جبکہ برآمدات کے موقع پہ اسلامی بینک ایک گارنٹر کا کام کرتا ہے ۔اور صنعتوں کو سیکورٹی دیتا ہے کہ جو مال وہ برآمد کر ارہے ہیں وہ ان کے مطابق ہی وصول کیا جائے گا۔اسلامی بینکاری میں اور کئی طریقے کی سرمایہ کاری موجود ہے اگر صنعتوں کے مالکان کے پاس سرمائے کی کمی ہوا اور وہ خام مال، مشیزی یا کوئی اور ضروری آلات خریدنے سے قاصر ہوں تو ایسی صورت میں اسلامی بینک انہیں مرابہ، مسومہ،اجارہ وغیرہ کے ذریعے بھی پیسے دے سکتا ہے۔ مرابہا اور مسومہ میں تو صنعت ضرورت کی اشیاء خریدے گی جبکہ اجارہ میں اشیاء کرائے پر استعمال کے لیے دی جاتی ہیں۔اسلامی بینکاری صنعتوں کو مختلف طریقوں سے مدد دے سکتی ہے اگر اسلامی بینک میگا پر وجیکٹس کو سرمایہ کاری فراہم کرے تو صنعتی بحران کی صورتحال کو بدلا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر اسلامی بینک جھوٹے کاروبار جیسے کھیتی باڑی ، فارمنگ، جنگلات وغیرہ کی پیداوار کو بڑھانے میں کام کرے تو صنعتوں کو اس سے کافی مدد ملے گی کیونکہ یہ کاروبار خام مال پیدا کرتے ہیں ۔ اسلامی بینک مزدوروں کی مہارت بڑھائی جا سکے ۔ صنعتی نمائشیں لگائی جائیں اور باہر کے ممالک کے ماہرین کو بلا یا جائے تاکہ صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔ان تمام چیزوں سے اسلامی بینکاری کو بھی بہت فوائد حاصل ہونگے اسلامی بینک معاشرے کی فلاح میں اولین کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور انکا اپنا امیج بہتر ہوگا۔ اس طرح اسلامی بینکوں کی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔اسلامی بینکوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ اس سرمایہ کاری سے بینکوں کے اپنے مسائل بھی کم ہونگے ۔حکومت کو چاہیے کہ اسلامی بینکاری کو اس فریضے کی انجام دہی میں مدد فراہم کرے کیونکہ اسی سے صنعتوں کی بحالی کا راز پوشیدہ ہے۔ اور صنعتوں کی بحالی میں ہی ہماری اور ہمارے ملک کی بقاہے۔