Get Adobe Flash player

حکومت سندھ کی اہلیت کا اک اور امتحان۔۔۔ظہیر الدین بابر

 برطانیہ میں منی لانڈرنگ کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی گرفتاری ہرگز خلاف توقع نہیں ۔ ستمبر دوہزار دس میں ایم کیو ایم کے سابق کنونِیئر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے لے کراب تک ایم کیوایم کے لندن میں کئی عہدیداروں کیخلاف برطانوِی پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات کے دوران ہی لندن میں ایم کیوایم کے دفاتر اور بعدازاں الطاف حسین کی رہائش گاہ پر چھاپوں کے دوران بھاری رقم برآمد ہوئی۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ برطانیہ میں ایسی رقم رکھنا سنگین جرم ہے جس میں قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے ہوں۔ برطانوی  عدالتوں کے خیال میں  ایسی رقوم دہشت گردی اور دیگر ہولناک جرائم میں استعمال ہوتی ہیں۔ لندن کے  قانون کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں زیادہ سے زیادہ چودہ سال قید اور بھاری جرمانہ ہوسکتا ہے۔  پاکستان کے برعکس برطانیہ میں پولیس اس وقت تک حرکت میں نہیں آیا کرتی جب تلک جرم بارے ٹھوس شوائد حاصل نہ کرلِِِیے جائیں۔ دوسری  جانب ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں بھی برطانوی تحقیقاتی اداروں کی کاوشیں جاری ہیں۔  ایم کیوایم کے سابق رہنما کے قتل کے اسی  روز  لندن چھوڑنے والے دو  نوجوان محسن علی سید اور محمد کاشف خان پاکستانی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان دو ٹوک انداز میں کہہ چکے کہ پاکستان ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں قانونی تقاضے  پورے کریگا۔ متحدہ قومی موومنٹ ملک کی اہم سیاسی قوت ہے ۔ ایم کیوایم میں الطاف حسین کی اہمیت وہی ہے جو مسلم لیگ ن میں میاں نوازشریف اور پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کی ٹھہری۔ جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نظریات سے کہیں زیادہ شخصیات ہی کو فصیلہ کن حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ  یہ سوال اہم ہے کہ الطاف حسین کے کچھ عرصے کے لیے ہی  منظر سے ہٹ جانے کی صورت میں ایم کیوایم کا مستقبل کیا ہوگا۔ لندن میں قانونی کاروائی پاکستان میں جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والے ان تمام افراد کے لیے سبق آموز ہے جو جاری نظام کو عوامی کہنے پر بضد ہیں۔ وطن عزیز میں تاحال سیاست و جرم کا امتزاج اس طور پر موجود  ہے کہ مسقبل قریب میں بھی ان کے الگ الگ ہونے کا امکان روشن  نہیں۔ سیاست میں مفاہمت کے نام پر بدعنوانی کو جس طرح تحفظ دیا گیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حال ہی میں بدعنوانی کے مقدمات میں دو  سابق وزراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو نامزد کرنے پر یہ واویلا سامنے آیا کہ انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ۔ شومئی قسمت سے وطن عزیزمیں یہ رواج  راسخ ہوچکا کہ جی بھر خود اور  عزیز واقارب کے ساتھ مل کر قومی خزانے ہر ہاتھ صاف کیے جائیں اور پھر اکادکا مقدمات قائم ہونے پراسے سیاسی انتقام ٹھرایا دیا جائے۔مگر جمہوریت کی ماں کہلانے والے برطانیہ میں یہ رجحان ناپید ہے۔ الطاف حسین کے خلاف ہونیوالی حالیہ کاروائی کو نہ تو کسی نے انتقامی کاروائی قرار دیا اور نہ مفاہمت کے نام پر ایم کیوایم کے قائد کے خلاف قانونی کاروائی روکے جانے کا امکان ہے۔برطانیہ سے آنے والی اطلاعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ الطاف حسین سنگین مشکلات سے دوچار ہوچکے۔ ایم کیوایم کی تشکیل سے آج تک شائد ہی اس جماعت پر ایسا کڑا وقت آیا ہو۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایم کیوایم کے لیے بڑی مشکل یہ ہے  کہ الطاف حسین برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ لہذا حکومت پاکستان چاہتے ہوئے بھی ان کی بھرپور مدد کرنے سے قاصر ہے۔ الطاف حسین کی پارٹی پر گرفت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں ایم کیوایم کی جانشینی کا معاملہ کبھی نہیں اٹھ سکا۔ واقفان حال کے بقول حالیہ چند سالوں میں الطاف حسین کی بگڑتی ہوئی صحت کے سب پارٹی امور پر ان کی دسترس مثالی نہیں رہی ۔ ڈاکڑ عمران فاروق قتل کے بعد حالات نے جس طور پر پلٹے وہ شائد کسی کے بھی وہم گمان میں نہ تھا۔ اب تک  یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ایم کیوایم کو متحد رکھنے اور پارٹی نظم وضبط برقرار رکھنے کے لیے کیا حکمت عملی روا رکھی جائیگی۔ مگر یہ طے ہے کہ لندن میں جاری قانونی کاروائی کا براہ راست اثر کراچی میں امن وامان کی صورت حال پر پڑے گا۔ اب تک پاکستان میں موجود ایم کیوایم کی قیادت کو  داد دینا ہوگی کہ متحدہ کے ہر رہنما کی جانب سے پارٹی ورکرز کو صبر وتحمل  کی تاکید کی گئی۔  توقعات کے عین مطابق تازہ بحران میں بھی سندھ حکومت ایک بارپھر اپنی قانونی زمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔ سابق صدر آصف علی زرداری ہوں یا ان کے ہونہار فرزند بلاول بھٹو زردای کوئی بھی اہل کراچی کی جان  و مال کو تحفظ دینے میں سنجیدہ نہیں۔ ماضی کے پانچ سالوں کی طرح حالیہ سال میں بھی قائم  علی شاہ محض تماشائی کا کردار نبھا رہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں قانونی کاروائی آگے بڑھنے  کی صورت میں صوبائی حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ بظاہر اول وآخر زمہ داری ایم کیوایم کی اس قیادت کے سر آن پڑی جو لندن اور کراچی میں پارٹی امور کی نگرانی  پر مامور ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ سے یہ امید کرنا خلاف حقیقت  نہیں کہ وہ موجودہ بحران میں ہوشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا طرزعمل اختیار کرے جو لندن میں زیرحراست الطاف حسین  اور شہرقائد کے امن دونوں کے لیے یکساں معاون ثابت ہو۔