Get Adobe Flash player

چھ جون، بھارتی سکھوں کا قتل عام ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 مزاحمتی تحریک عام طور پر ختم نہیں ہوتی۔ عارضی طور پر دب جاتی ہے۔ خالصتان تحریک بھی نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ بلو سٹار آپریشن (3 تا 6 جون 1984ئ) خالصتان تحریک کا عروج ہے اگرچہ یہ تحریک عارضی طور پر دب گئی تھی ختم نہیں ہوئی۔ آج یہ تحریک ازسرنو زور پکڑ رہی ہے۔ خالصتان تحریک سے وابستہ سکھ قائدین، عوام اور تنظیمیں بلو سٹار آپریشن کی یاد میں ہر سال بھارت، امریکہ اور یورپ میں جلسے، جلوس منعقد کرتی ہیں۔ خالصتان تحریک آہستہ آہستہ اتنی زور پکڑ رہی ہے کہ چندی گڑھ پولیس کے سربراہ نے دہلی انتظامیہ کو بتایا کہ اگر سکھ قوم کے مسائل کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو خالصتان تحریک کا زور توڑنا مشکل ہو جائیگا۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیںاور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1984کی دہائی میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو اندرون وبیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ بھارتی سکھوں کا ایک مسلح گروپ بھارت سے علیحدہ ایک الگ ریاست خالصتان کے حصول کیلئے برسر پیکار تھا جس کی سرکوبی کیلئے اندرا گاندھی نے امرتسر میں واقع سکھوں کے مقدس ترین گولڈن ٹیمپل میں فوج کے ایک سکھ جرنیل کو کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔بھارتی حکومت کے ایماء  پربھارتی فوج نے سکھوں کے انتہائی مقدس مذہبی مقام پر دھاوا بول کرجہاں ''دربار صاحب '' کی بے حرمتی کی وہاں عبادت کیلئے آئے ہوئے چار ہزار سے زائد سکھوںسمیت سکھوں کے مذہبی لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرہ کوعلیحدگی پسند قرار دیتے ہوئے بے رحمی کے ساتھ قتل کرکے خالصتان تحریک کو ہمیشہ کیلئے کچلنے کا اعلان کر دیا۔لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد دو سکھ محافظوں نے اندرا گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کرکے بہر حال دنیا کو ایک پیغام ضرور دیدیا کہ وہ اب ایسے بھارت کے ساتھ رہنے کو قطعی تیار نہیں جہاں سکھوں کے جان ومال کے ساتھ ان کی مذہبی عبادت گاہوں کے تقدس کو پامال کیا جا رہاہو۔اندرا گاندھی کے قتل پردن دیہاڑے حکومتی مشینری کے سامنے جس طرح ہزاروںسکھوں کو زندہ جلادیاگیاان مظالم کی المناک داستان اب بھی کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ ہے جو بھارتی بنئے کی سفاکی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ا ن فسادات کی  حال ہی میں جو انکوائری کروائی تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ خود اندرا گاندھی کی کانگریس پارٹی کے ارکان سکھوں پر ان بے پناہ مظالم اور تشدد میں ملوث تھے۔ کانگریس پارٹی کے کئی لیڈروں نے پرتشدد مظاہروں کی قیادت کی تھی اور فسادات خود بخود نہیں پھوٹ پڑے تھے۔لیکن ان تمام رپورٹوں کے باجود اب تک کسی کو سزا نہیں مل پائی ہے۔خالصتان تحریک کے دوارن1984ء  میں بھارتی افواج سکھ نوجوانوں پر ہونے والے مظالم پر مبنی فلم''ساڈا حقِ'' کونمائش کیلئے امریکہ، کینیڈا ،فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں پیش کردیا گیا ہے۔5 اپریل کو انڈین سینسربورڈ کی طرف سے اس فلم کی نمائش کی اجازت ملنے کے باوجودبھارتی حکومت نے بھارتی فلمی گھروں میں دکھانے پر پابندی عائد کردی تھی۔سکھ کمیونٹی نے بھارتی حکومت کے اس فیصلہ کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ اس دوارن دنیا کو سکھوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہی دینے کیلئے امریکہ، کینیڈااور فرانس سمیت مختلف ممالک میں نمائش کیلئے پیش کردیا گیا۔ پیرس سمیت فرانس میں ہزار سکھوں اور مقامی لوگوں نے اس فلم کو دیکھا اس موقع پر فلم دیکھنے کیلئے آنے اور دیکھنے والوں  کا کہنا ہے  یہ فلم ایک حقیت ہے جس کو دیکھ کر نوجوان سکھ نسل اور دنیا کو سکھوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے لئے اپنے گھر کی ضرورت کی اہمیت واضح ہوسکے گی۔دنیا میں سبھی کچھ آپس میں اس قدر جڑا ہوا ہے کہ کوئی بھی شدت پسندانہ عمل اس عمل کے مخالفوں کو جنم دے دیتا ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی ریاست ایک برادری کے لوگوں کا ملک نہیں رہی ہے، چنانچہ علیحدگی پسندی کی چاہے کوئی بھی شکل ہو اس کی وجہ سے سبھی خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں۔لہذا بھارتی حکومت کو بھی دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔ اپنی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ دوسروں پر الزام لگانے سے اپنے ہاں جاری شورش کو ختم کر دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک عرصہ سے سکھ قوم بھارت کے ساتھ برسر پیکار ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہوں نے اپنے وطن کا نام خالصتان رکھا ہوا ہے۔ بھارت اس تحریک خالصتان کو دبانے کے لئے کئی محاذوں پر کام کررہا ہے۔ اس نے پنجاب میں کچھ سکھوں کو خریدکر وہاں ایک حکومت قائم کی ہوئی ہے جو حقیقت میں بھارتی کٹھ پتلی ہے اور وہ انہی پالیسیوں کو اپنائے ہوئے ہے جودہلی سرکار کی طرف سے ان کو حکم نامے کی صورت میں ملتے ہیں۔ آج سکھ قوم نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ پنجاب میں خالصتان قائم کرنے کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور ان کی حق خودارادیت کی اس جدوجہد میں بھارت میں مختلف اقلیتیں جو بھارت کے مظالم کا شکار ہیں حمایت کرتی ہیں کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نے ایک پیغام میں اس بات کا برملااظہار کیا کہ کشمیری بھی سکھوں کے حق خود ارادیت کی اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ سکھ قوم اپنے بنیادی حقوق کے لئے لڑرہے ہیں برطانیہ میں بھی مختلف ممبران پارلیمنٹ بھی اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ حال ہی میں پارلیمنٹ کی ایک بحث میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قید تمام سکھوں کو رہائی دے اور جن کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے وہ ختم کی جائے لیکن بھارت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ طاقت کے نشے میں آج بھی سکھوں اور کشمیریوں پر مظالم ڈھارہا ہے ۔