Get Adobe Flash player

بجٹ 2014-15 ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

  مو جودہ حکومت نے دوسرا بجٹ پیش کرکے قوم کے سامنے اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے۔ قومی زندگی میں ہمارے مصارف ملکی سالانہ آمدنی سے١٧١١ ارب روپے زائد ہیں ۔ بجٹ کا مجموعی حجم٣٩٣٧ ارب روپے ہے ۔ حکومت کے پیش کردہ فنانس بل میں دفاعی اخراجات کیلئے٧٠٠ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ترقیاتی اخراجات کیلئے٥٢٥ ارب روپے مختص ہیں۔بجٹ میں صوبوں کیلئے١٧٢٠ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔وفاقی ملازموں کی تنخواہ میں عبوری طو ر پر ١٠ فی صد اضافہ ہوگا ۔١تا١٥گریڈ کے ملازمیں کے میڈیکل الاؤنس میں١٢٠٠ روپے سالانہ اضافہ ہوگا۔آمدورفت کی رقم میں ٥فی صد اضافہ کرکے حکومت نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کیا ہے۔حکومت نے دریادلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنشن کی مد میں ایک ہزار ماہانہ کا اضافہ کر کے غریب لوگوں سے اپنی محبت کا مظاہرہ کیا ہے ۔بینظیر انکم سپورٹ کیلئے ١١٨ا رب روپے مقرر کئے ہیں یہ پروگرام نظر ثانی کا محتاج ہے اس کی افادیت کے بارے میں بہت بڑاسوالیہ نشان ہے فی کس ضرورت مند کی حد ١٥٠٠ روپے مقرر کردی گئی ہے ۔بجلی کے معاملات میz حکومت بجلی گرانے میں بہت مشتاق ہے اب ٢٠٠٠ ہزار سے زائد بل مزید ٥ فی صد ادا کرنا ہوگا ۔حکومت نے کمال مہر بانی سے آئندہ جی ڈی پی کی شرح ترقی ١،٧ رکھی ہے جو مجمو عی طور پر گزشتہ سال ٣ فی صد رہی ہے۔مرکزی بجٹ میں کسانوں کو قرضہ جات کی سہولت کیلئے٦٠٠ارب روپے رکھے گئے ہیں ٹریکڑروں پر سیلز ٹیکس ١٠ فی صد قائم رکھا ہے ۔ حکومت نے کاسئہ گدائی اور یورو بانڈ ز کے اجرا کی بنا پر قومی خزانے میں ١٣ ارب ڈالر جمع کرلئے ہیں ۔ مرکزی حکومت نے گذشہ دنوں دو انتہائی قیمتی کاروں درآمد کرکے قو می سطح پر بچت سکیم کا آغاز کر دیا ہے صرف دونو ں کاروں کی قیمت ٧٤٢،١١٩ملین ڈالر اور ٩٩٥،١٢٤ملین ڈالر بنتی ہے ۔حکومت نے ٣جی اور ٤جی لائسنس فروخت کرکے پاکستان کا نا م ترقیاتی ممالک میں شامل کر لیا ہے ۔ حکومت دعوے دار ہے کہ وہ پٹرولیم کی مصنو عات کی قیمتو ں کو بر قرار رکھنے کیلئے ٧٠ ارب روپے خرچ رہی ہے اس کے باوجود لوگ حکو مت کا احسان ما ننے کیلئے تیار نہیں۔حکومت نے مظلوم ترین طبقے ای اوبی آئی کے وظیفے میں اضانہ کرکے اپنی عزت میں کمی کرلی ہے۔وزیر خزانہ نے داسو ڈیم کا ذکر کرکے قو می سطح پر خوشیو ں کا زلزلہ پیداکر لیا ہے ٤٥٠٠ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن بد قسمتی سے وزیر خزانہ نے وقت تاریخ سال اور صدی کا بتانے سے پر ہیز کیا ہے ۔وفاقی حکومت نے اپنی کار کردگی میں چار چاند لگانے کیلئے ٢٧ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے خدا جانے اس رقم کا استعمال کس طو رسے ہوتا ہے ۔ مر کزی حکو مت نے ریلوے کی بہتری کیلئے ٧١ ارب کی رقم مختص کی ہے ریلوے کو ٥٠٠ انجن اور ١٥٠٠ بو گیاں فراہم کی جا ئیں گی ۔ اسلام سے مری اور مظفر آباد تک ریلوے لائن کی تنصیب کی جائے گی ۔وفاقی حکومت نے صحت عا مہ کیلئے ٢٦ارب مقرر کر کے غیر صحتمند انہ رویہ کا اظہار کیا ہے۔ بین الا قوامی سطح پر یہ بات ہمارے لئے باعث شرم ہے کہ ہم پولیو سے متا ثر ملکو ں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں ۔ہمارے ہسپتال ویران اور اجاڑ ہیں ایمر جنسی میں ادویات کی شدید کمی ہے ہسپتالو ں سے ڈاکٹر صاحبا ن غائب رہتے ہیں غریب اورضرورت مند سرکاری ہسپتالوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔ ڈاکٹر حضرات کو حکومت نے قابل افسوس حد تک محکمانہ ترقیوں سے محروم کر رکھا ہے ۔ کساد بازاری اور بجلی کے بحران نے قوم کی رگ رگ میں مایوسی اور قنوطیت میں اضافہ کر دیا ہے حکومت کا دعوی ہے کہ افراط زر سنگل ڈیجٹ میں رہے گا کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ؟ وفاقی بجٹ میں درآمدی مشینری سگریٹ اور پلاٹوں کی خریدو فروخت پر ٹیکسز میں اضافہ کر دیا گیا ہے بڑی کاروں اور کالز سستی کرکے لوگوں کو کارپو ریٹ کلچر میں شامل ہونے کی سہولت فراہم کی ہے ۔ مرکزی حکومت نے شادی اور تقریبات پر ٹیکس لگا کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے حکومت کا یہ اقدام قابل تعریف ہے ۔مزدور کی بارہ ہزار تنخواہ مقرر کرکے حکومت نے حاتم طائی کی روح کوشادباد کر دیا ہے حکومت نے ہوائی جہازوں کے کلب اور فسٹ کلاس ٹکٹوں پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرکے مناسب اقدام کیا ہے ۔توانائی کے بحران نے حکومت کی کارکردگی کے سا منے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگر حکومت سی این جی پر ١٧ فی صد ٹیکس لگادیتی ہے تو اس سے کھاد ا دویات کی قیمتوں میں ہو شربا ا ضافہ ہو جائے گا ۔ کراچی سے لاہور موٹر وے کا منصوبہ اپنی ذات میں ہزار داستانوں کاامین ہے اس پر ابتدائی طو پر زمین کی خرید کیلئے ٣٠ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ موجودہ حکومت برآمدات کے بارے بے حد سرگرم ہے برآمدات میں اضافے کیلئے ایگزم بنک کی منظوری دی ہے۔اس بنک کے اجراء سے بر آمدگندگان کو وافر سہولتیں میسر آ جائیں گی اور ملک کی برآمدات میں کافی اضافہ ہو جائے گا ۔حکومت نے اسلامی بنکنگ اور فنانس کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی قائم کر کے اسلامی اور مثبت سو چ کا مظاہرہ کیا ہے ۔حکومت نے شرح نمو کا ١،٥ فی صد اعلان کرکے اپنے لئے مشکل ٹاسک کا انتخاب کیا ہے گذشہ سال زرعی ترقی میں شرح نمو ٢ فی صد تھی موجودہ بجٹ میں کھاد ،ادویات زرعی مشینری زرعی مقاصد کیلئے بجلی کے نرخو ں میں کمی نہ کر کے کسانوں سے عدم دوستی کا ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔وفاقی حکومت کا کل ترقیاتی بجٹ ١١٧٥ ارب روپے ہے اس میں سے ٦٥٠ ارب روپے صوبو ں کیلئے مختص ہیں۔ مرکزی حکومت نے پس ماندہ اور غیر تر قیاتی علاقو ں کیلئے ٣٦ ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ بجٹ میں غیر ملکی امداد کے ١٩٢ ارب روپے شامل ہیں۔ مرکزی حکو مت نے توانائی کے شعبوں کیلئے ٢٠٥ ارب روپے مختص کیے ہیں ۔مرکزی حکمت نے نیلم جہلم ،بھاشاڈیم،تربیلا ڈیم کی تو سیع ،تھر کول، چشمہ نیو کلیئر،کراچی کو سٹل ،نندی پور ،چیچو کی ملیاں اور دیگر توا نائی کے منصو بے شامل ہیں ،پانی کے شعبے کی بہتری کیلئے ١٤٢ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ حکومت کا دلفریب اندازہ ہے شرح نمو ٤،٤ فی صد رہے گی ۔رواں مالی سال میں برآمدات کا حجم ٢١ ارب ڈالر ہے اور درآمدات میں ١١فی صد اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت کو قرضہ حاصل کر نے میں مہارت تامہ حاصل ہے ۔گنز بک آف ریکاڈ میں حکومت نے قر ضو ں کے حوالے سے اپنا شاندار ریکاڈ بنا لیا ہے ۔حکومت کا تخمینہ ہے کہ آئندہ تجارتی خسارہ ١٧ ارب ڈالر رہے گا ۔گرین ہاؤسنگ فارمنگ کو سیلز ٹیکس اور ٹنل فا ر منگ کی مشینری کی درآمد کیلئے کسٹم ڈیوٹی ختم کر نے کی تجویز قابل تعریف ہے ۔ حکومت نے بر آمدات کا ہدف ٢٧ ارب ڈالر مقرر کیا ہے ۔